News

آئی پی ایل 2026: پارس مہامبری کا دیپک چاہر کے کیچ ڈراپ پر ردعمل

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

ممبئی انڈینز کی مشکلات اور پارس مہامبری کا مؤقف

آئی پی ایل 2026 کا سیزن ممبئی انڈینز کے لیے انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ 8 مئی کو ٹیم باضابطہ طور پر پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو گئی، جس کے بعد ٹیم کے لیے باقی ماندہ میچز صرف اپنی ساکھ بچانے کا ذریعہ رہ گئے ہیں۔ ایسے میں جب ٹیم کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا، اسسٹنٹ کوچ پارس مہامبری کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کا جوش و خروش برقرار رکھنا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہی اب واحد ہدف ہے۔

کیچ ڈراپ کے واقعات اور دیپک چاہر کا دفاع

کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے خلاف میچ میں فیلڈنگ کی غلطیاں ایک بار پھر موضوع بحث بنیں۔ خاص طور پر دیپک چاہر کو دو اہم مواقع پر مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے واقعے میں روومین پاول کا کیچ، جو چاہر اور رابن منز کے درمیان گر گیا، اور دوسرے واقعے میں تیز رفتار کھیل کے دوران کیچ لینے میں ناکامی نے شائقین کو مایوس کیا۔

اس حوالے سے پارس مہامبری نے انتہائی سنجیدہ اور ہمدردانہ انداز اپناتے ہوئے کہا: “کوئی بھی جان بوجھ کر غلطی نہیں کرتا۔ کیچ ڈراپ ہونا کھیل کا ایک معمول کا حصہ ہے۔ ہم اس پر زیادہ سوچ و بچار نہیں کرنا چاہتے۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہر کو کسی بھی طرح تنقید کا نشانہ نہیں بنائیں گے اور نہ ہی انہیں “ٹرین کے نیچے” دھکیلیں گے، یعنی ان پر بلاوجہ دباؤ نہیں ڈالیں گے۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

اگرچہ میڈیا میں ممبئی انڈینز کی فیلڈنگ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سیزن میں ممبئی انڈینز فیلڈنگ کے لحاظ سے اتنی بری بھی نہیں رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ممبئی نے اب تک 14 کیچز ڈراپ کیے ہیں، جبکہ دیگر ٹیمیں جیسے پنجاب کنگز اس فہرست میں سرفہرست ہیں جہاں کیچ ڈراپ کی تعداد 19 تک پہنچ چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ممبئی انڈینز اس معاملے میں دس میں سے چوتھے نمبر پر بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیم ہے۔

آگے کی حکمت عملی

پارس مہامبری نے ٹیم کے ذہنی دباؤ پر بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ کھلاڑی میچ کے دوران مسلسل یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کے لیے کیسے فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی سوچ کبھی کبھی غلط فیصلوں یا فیلڈنگ میں ہچکچاہٹ کا باعث بنتی ہے۔ مہامبری نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ٹیم اپنے آخری میچوں میں بھی اسی جذبے کے ساتھ کھیلے جیسے کہ وہ پلے آف کے لیے کھیل رہے ہوں۔

وانکھیڑے میں واپسی

اب ممبئی انڈینز کی نظریں اپنے ہوم گراؤنڈ، وانکھیڑے اسٹیڈیم پر مرکوز ہیں، جہاں انہیں راجستھان رائلز کا سامنا کرنا ہے۔ مہامبری کا کہنا ہے کہ: “ہمیں جیت کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ یہ ہمارا ہوم گراؤنڈ ہے اور ہم اس پچ کی نوعیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔” اگرچہ ٹیم پلے آف سے باہر ہو چکی ہے، لیکن گھریلو تماشائیوں کے سامنے جیت کے ساتھ سیزن ختم کرنا ٹیم کے لیے ایک اہم اعزاز ہوگا۔

آخر میں، پارس مہامبری کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک کوچ اپنے کھلاڑیوں کے لیے ڈھال بن کر کھڑا ہونا جانتا ہے، اور یہی ایک پیشہ ورانہ کرکٹ ٹیم کی پہچان ہے۔ امید ہے کہ ممبئی انڈینز اپنے باقی میچوں میں مثبت کھیل پیش کرے گی۔