Latest Cricket News

محمد شامی قانونی مقدمے سے بری، انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کا سفر

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

محمد شامی کو قانونی محاذ پر بڑی کامیابی

بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز فاسٹ بولر محمد شامی کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی سامنے آئی ہے۔ علی پور کی عدالت نے انہیں اپنی سابقہ اہلیہ حسینہ جہاں کی جانب سے دائر کردہ چیک بائونس کیس سے باعزت بری کر دیا ہے۔ یہ کیس ایک لاکھ روپے کی رقم سے متعلق تھا جو گزشتہ چار برسوں سے عدالت میں زیر سماعت تھا۔

عدالتی فیصلے کی تفصیلات

چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے بدھ کے روز شامی کو ان الزامات سے مکمل طور پر بری قرار دے دیا۔ شامی کے وکیل سلیم رحمان نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چار سال سے جاری یہ قانونی لڑائی اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔ محمد شامی نے اس فیصلے کے بعد عدالتی نظام پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ سے انصاف کی امید تھی اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے پر یقین رکھتے ہیں۔

قانونی جنگ کا پس منظر

محمد شامی اور حسینہ جہاں کے درمیان تنازعات 2018 سے جاری ہیں۔ حسینہ جہاں کی جانب سے شامی اور ان کے اہل خانہ پر گھریلو تشدد اور مالی معاونت نہ کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم، کولکتہ ہائی کورٹ نے ماضی میں ان الزامات کا جائزہ لیتے ہوئے حسینہ جہاں اور ان کی بیٹی کے لیے شامی کی جانب سے ادا کردہ رقوم کو کافی قرار دیا تھا۔ عدالت نے ان الزامات کو غیر معقول ٹھہرایا تھا، جس سے شامی کو قانونی طور پر کافی ریلیف ملا تھا۔

کرکٹ کیریئر: زخم اور واپسی

جہاں ایک طرف شامی قانونی مشکلات سے نمٹ رہے تھے، وہیں ان کا کرکٹ کیریئر بھی مسلسل انجریز کے سائے میں رہا ہے۔ اس کے باوجود، محمد شامی آئی سی سی ٹورنامنٹس میں بھارت کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن چکے ہیں۔ 2025 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھی انہوں نے اپنی بولنگ کا لوہا منوایا اور ٹورنامنٹ کے جوائنٹ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی رہے۔

مستقبل کے خدشات

انجریز اور ذاتی زندگی کے تنازعات کے باوجود، محمد شامی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی فٹنس ثابت کی ہے۔ لکھنو سپر جائنٹس کے لیے نئی گیند کے ساتھ ان کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ تاہم، افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے قومی ٹیم میں ان کی شمولیت نہ ہونا کرکٹ شائقین کے لیے حیران کن رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شامی کے پاس ابھی بھی ٹیم میں واپسی کا موقع موجود ہے، بشرطیکہ وہ اپنی فٹنس کو برقرار رکھیں۔

نتیجہ

محمد شامی کا شمار دنیا کے بہترین گیند بازوں میں ہوتا ہے، اور قانونی مقدمے سے بریت ان کے لیے ذہنی سکون کا باعث بنی ہے۔ اب شامی کی تمام تر توجہ صرف اور صرف کرکٹ پر مرکوز ہے۔ کیا وہ اپنی فارم اور فٹنس کے ذریعے ایک بار پھر بھارتی لباس میں دکھائی دیں گے؟ یہ سوال آنے والے وقتوں میں ہی واضح ہو سکے گا، لیکن کرکٹ کے میدان میں ان کی واپسی اب بھی ایک امید افزا امکان ہے۔