کرکٹ ساؤتھ افریقہ کی نیو ایئر ٹیسٹ ٹکٹوں پر معافی
کرکٹ ساؤتھ افریقہ کا ٹکٹ بحران: مداحوں سے معذرت
کرکٹ ساؤتھ افریقہ (CSA) نے حال ہی میں جنوری 2027 میں انگلینڈ کے خلاف ہونے والے نیو ایئر ٹیسٹ میچ کے لیے ٹکٹوں کی فروخت میں ہونے والی ‘غیر واضح صورتحال’ پر باضابطہ طور پر معافی مانگ لی ہے۔ اس فیصلے کے بعد بہت سے شائقین مایوسی کا شکار تھے کیونکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم کو اسٹیڈیم میں دیکھنے سے محروم رہ گئے تھے۔
ٹکٹوں کی تقسیم کا تلخ سچ
تفصیلات کے مطابق، نیو لینڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کل 17,544 نشستیں موجود ہیں، لیکن ان میں سے بڑی تعداد عام شائقین کے لیے دستیاب ہی نہیں تھی۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 39 فیصد ٹکٹ مقامی اور بین الاقوامی ٹور ایجنسیوں کے پاس گئے، 21 فیصد مہمان نوازی اور اعزازی ٹکٹوں کے لیے مختص کیے گئے، جبکہ 19 فیصد ٹکٹ اسپانسرز اور آفیشل اسٹیک ہولڈرز کو دیے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ عام عوام کے لیے کل نشستوں کا صرف 13 فیصد حصہ بچا تھا، جس میں سے صرف 9 فیصد پیر کی صبح فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔
مستقبل کے لیے اقدامات
کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے وضاحت کی ہے کہ باقی ماندہ 4 فیصد ٹکٹ اور دیگر کیٹیگریز سے بچ جانے والی نشستیں میچ سے چند روز قبل فروخت کے لیے جاری کی جائیں گی۔ بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ٹور آپریٹرز کے پاس موجود پیکجز فروخت نہیں ہوتے، تو انہیں بھی عام شائقین کے لیے جاری کیا جائے گا۔
بلیک مارکیٹنگ اور وارننگ
ایک سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، CSA نے مداحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر مجاز ویب سائٹس یا بلیک مارکیٹ سے ٹکٹ نہ خریدیں۔ کچھ تھرڈ پارٹی پلیٹ فارمز پر یہ ٹکٹ اصل قیمت سے دس گنا زیادہ مہنگے فروخت ہو رہے ہیں۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اس طرح خریدے گئے ٹکٹ ناقابل قبول ہو سکتے ہیں اور اسٹیڈیم میں داخلے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بورڈ کا موقف
کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے سی ای او فولیٹسی موسیکی نے کہا: ‘ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ٹکٹوں تک رسائی منصفانہ اور شفاف ہو۔ ہم پروٹیز کے وفادار مداحوں کی قدر کرتے ہیں، خاص طور پر جون 2025 میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن بننے کے بعد سے شائقین کا جوش و خروش ہمارے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔’
آئندہ کی حکمت عملی
CSA نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ جب بھی ٹکٹوں کی نئی کھیپ جاری کی جائے گی تو اس کی اطلاع بروقت دی جائے گی۔ ان ٹکٹوں کی قیمت عام نرخوں سے تھوڑی زیادہ یعنی R420 سے R500 کے درمیان ہوگی۔ اس وقت یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ اقدامات شائقین کے غصے کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں، کیونکہ بڑی تعداد میں نشستیں ٹور کمپنیوں کو دینے کی وجہ سے مقامی شائقین پہلے ہی سخت نالاں ہیں۔
