Not Prince Yadav! Sakib Hussain crowned as IPL 2026’s best uncapped Indian pacer – آئی پی ایل 2026: امباتی رائیڈو نے ثاقب حسین کو بہترین ان کیپڈ فاسٹ بولر قرار دے دیا
آئی پی ایل 2026: ابھرتے ہوئے ستاروں کا میلہ
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کا سیزن نوجوان ٹیلنٹ کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔ اس سیزن میں بھارت کے کئی نوجوان فاسٹ بولرز نے اپنی تیز رفتاری اور درست لائن لینتھ سے کرکٹ کے ماہرین اور شائقین کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ ان ہی ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں میں سے ایک نام جس نے سابق بھارتی بلے باز امباتی رائیڈو کو سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کے نوجوان فاسٹ بولر ثاقب حسین ہیں۔
امباتی رائیڈو کا تجزیہ
چھ بار آئی پی ایل جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہنے والے امباتی رائیڈو نے ایک حالیہ تجزیے کے دوران آئی پی ایل 2026 میں شامل کئی ان کیپڈ (بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے والے) بھارتی فاسٹ بولرز کا موازنہ کیا۔ اس مقابلے میں کئی بڑے نام سامنے آئے جن میں اشونی کمار، مکیش چوہدری، اور پرنس یادو جیسے کھلاڑی شامل تھے۔
کمپیریزن کا مرحلہ
تجزیے کا آغاز لکھنؤ سپر جائنٹس کے آکاش سنگھ اور ممبئی انڈینز کے اشونی کمار سے ہوا۔ رائیڈو نے اشونی کی جارحانہ بولنگ کی تعریف کی، حالانکہ انہوں نے اس سیزن میں صرف 4 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے بعد چنئی سپر کنگز کے مکیش چوہدری کا نام آیا، جنہوں نے 8 میچوں میں 8 وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ڈسپلن والی بولنگ سے سب کو متاثر کیا۔ رائیڈو نے مکیش کو اشونی، اشوک شرما اور ارشد خان جیسے بولرز پر فوقیت دی۔
ثاقب حسین کا انتخاب کیوں؟
تاہم، جب بات ثاقب حسین کی آئی تو مکیش چوہدری کا پلڑا ہلکا پڑ گیا۔ رائیڈو نے ثاقب حسین کو نہ صرف مکیش بلکہ گرجاپنیت سنگھ، ابھینندن سنگھ، یش ٹھاکر اور رنکو سنگھ جیسے دیگر باصلاحیت بولرز پر بھی ترجیح دی۔ خاص طور پر پرنس یادو کے ساتھ مقابلہ کافی سخت تھا، جنہوں نے 14 میچوں میں 16 وکٹیں حاصل کیں اور اپنی تیز رفتار یورکرز کی بدولت ٹیم انڈیا میں جگہ بنائی۔
ثاقب حسین کی شاندار کارکردگی
ثاقب حسین نے اپنے ڈیبیو سیزن میں 11 میچوں میں 15 وکٹیں حاصل کیں، جس میں ان کی اکانومی ریٹ 9.45 رہی۔ 21 سالہ اس فاسٹ بولر کی سب سے بڑی طاقت ان کی رفتار، ریورس سوئنگنگ یورکرز، اور آف کٹرز ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ثاقب نے بڑے میچوں کے دباؤ کو جس طرح سنبھالا، اس نے رائیڈو سمیت تمام کرکٹ پنڈتوں کو قائل کر لیا کہ یہ نوجوان مستقبل کا بڑا ستارہ ہے۔
دیگر نمایاں کھلاڑی
اس سیزن میں رکش سلام اور ویبھو اروڑا جیسے بولرز نے بھی اپنی کارکردگی سے لوگوں کے دل جیتے ہیں۔ رکش سلام نے 16 وکٹوں کے ساتھ رائل چیلنجرز بنگلور کو فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ویبھو اروڑا نے اپنی سوئنگ اور کنٹرول سے 11 میچوں میں 11 شکار کیے۔ ان سب کھلاڑیوں کے باوجود، ثاقب حسین کی مستقل مزاجی اور بولنگ میں ورائٹی نے انہیں رائیڈو کی نظر میں ‘نمبر ون’ بنا دیا۔
نتیجہ
آئی پی ایل 2026 نے بھارتی کرکٹ کو ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ثاقب حسین جیسے بولرز کی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ آنے والے وقت میں بھارتی فاسٹ بولنگ اٹیک مزید مضبوط ہوگا۔ امباتی رائیڈو کا یہ انتخاب اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ثاقب حسین میں بین الاقوامی کرکٹ کی سطح پر پرفارم کرنے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔
