Is Vaibhav Sooryavanshi the next Virat Kohli? IPL chairman gives definitive verdict
کرکٹ کی دنیا کا نیا ابھرتا ہوا ستارہ
آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں 15 سالہ ویبھو سوریونشی کی کارکردگی نے کرکٹ کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ راجستھان رائلز کی جانب سے کھیلتے ہوئے اس نوجوان بلے باز نے اپنی بے خوف بیٹنگ سے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے دل جیت لیے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ نوجوان واقعی ہندوستانی کرکٹ کا اگلا بڑا نام بننے والا ہے؟ Is Vaibhav Sooryavanshi the next Virat Kohli? IPL chairman gives definitive verdict کے تناظر میں، آئی پی ایل کے چیئرمین ارون دھومل نے اس ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی صلاحیتوں پر کھل کر بات کی ہے۔
آئی پی ایل چیئرمین ارون دھومل کی رائے
آئی پی ایل چیئرمین ارون دھومل نے ویبھو سوریونشی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوجوان نے ٹورنامنٹ میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ دھومل کے مطابق، جہاں ویرات کوہلی، روہت شرما اور ایم ایس دھونی جیسے لیجنڈز نے برسوں تک کرکٹ پر راج کیا ہے، وہیں ویبھو کا آنا ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا: ‘ہم نے دیکھا ہے کہ جب دھونی، ویرات یا روہت میدان میں اترتے ہیں تو اسٹیڈیم ان کے نام کے نعروں سے گونج اٹھتے ہیں۔ ایسے کھلاڑی شائقین کے لیے ایک مقناطیسی کشش رکھتے ہیں۔ ویبھو سوریونشی نے اس ٹورنامنٹ کو ایک نئی توانائی دی ہے اور وہ ابھی صرف 15 سال کے ہیں، یعنی ان کا کیریئر بہت طویل ہو سکتا ہے۔’
کم عمری میں کامیابی کا سفر
ارون دھومل نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں سچن ٹنڈولکر اور ویرات کوہلی جیسے کھلاڑیوں نے بھی بہت چھوٹی عمر میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور طویل عرصے تک کھیل کی خدمت کی۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل کا سب سے بڑا کارنامہ نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کے باؤلرز کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے، جس سے وہ بہت کم وقت میں بین الاقوامی سطح کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ویبھو سوریونشی نے جس طرح دنیا کے بہترین باؤلرز کے سامنے بغیر کسی خوف کے بیٹنگ کی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آئی پی ایل نے ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ کے درمیان موجود خلیج کو ختم کر دیا ہے۔
کیا ویبھو اگلا ویرات کوہلی ہیں؟
جب ارون دھومل سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ویبھو کو ویرات کوہلی کا جانشین مانا جا سکتا ہے، تو انہوں نے براہ راست موازنہ کرنے کے بجائے ویبھو کی اپنی انفرادی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ویبھو کی بیٹنگ کا انداز اسے دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ چاہے سامنے جسپریت بمراہ ہوں یا پیٹ کمنز، وہ اپنی نظریں گیند پر مرکوز رکھتا ہے اور باؤنڈری حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ٹیم کے ساتھیوں کے ساتھ موازنہ
دھومل نے یشسوی جیسوال کی مثال دیتے ہوئے ویبھو کی کارکردگی کو مزید واضح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک میچ کے دوران جہاں یشسوی جیسوال نے 29 گیندوں پر 29 رنز بنائے، وہیں ویبھو سوریونشی نے اسی تعداد کی گیندوں پر 97 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ یہ نوجوان بلے باز ایک خاص صلاحیت کا مالک ہے۔
مستقبل کی توقعات
آخر میں، ارون دھومل نے کسی خاص ٹیم کی حمایت کرنے کے بجائے ‘اچھی کرکٹ’ کی حمایت کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ویبھو جیسے کھلاڑیوں کا ابھرنا ہندوستانی کرکٹ کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ یہ نوجوان کھلاڑی نہ صرف اپنے ملک کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بہترین مثال بن کر ابھر رہا ہے۔ شائقین کو امید ہے کہ آنے والے برسوں میں ویبھو سوریونشی کرکٹ کی دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کریں گے اور ریکارڈز کے نئے پہاڑ سر کریں گے۔
