6,6,6,6,6,6: Kushal Bhurtel emulates Yuvraj Singh and Kieron Pollard with six sixes in an over
کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل
کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے لمحات ہوتے ہیں جو شائقین کے ذہنوں پر گہرا نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ 31 مئی 2026 کو سنگاپور نیشنل کرکٹ گراؤنڈ میں کچھ ایسا ہی ہوا۔ نیپال کے اوپنر کوشل بھرتل نے ایشین گیمز مینز ٹی 20 کوالیفائر کے دوران چین کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی جارحانہ بلے بازی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ 6,6,6,6,6,6: Kushal Bhurtel emulates Yuvraj Singh and Kieron Pollard with six sixes in an over، یہ سرخیاں اب کرکٹ کی کتابوں کا حصہ بن چکی ہیں۔
میچ کا وہ تاریخی لمحہ
چین نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ کوشل بھرتل کیا طوفان لانے والے ہیں۔ نویں اوور میں، جب چین کے باؤلر چن ژو یو گیند بازی کے لیے آئے، تو بھرتل نے ان پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے۔ اوور کی ہر جائز گیند پر بھرتل نے گیند کو باؤنڈری لائن کے باہر بھیجا، جس سے کل 36 رنز ایک ہی اوور میں بن گئے۔ یہ محض ایک اوور نہیں تھا، بلکہ نیپال کی کرکٹ کی بڑھتی ہوئی طاقت کا ایک واضح پیغام تھا۔
اشرافیہ کلب میں شمولیت
اس کارنامے کے ساتھ ہی کوشل بھرتل کرکٹ کی تاریخ کے ان چند منتخب بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہو گئے جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں ایک اوور میں چھ چھکے لگائے ہیں۔ اس فہرست میں ہرشل گبز، یوراج سنگھ، کیرون پولارڈ، جسکرن ملہوترا، اور دیپیندر سنگھ ایری جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیپال دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس کے دو کھلاڑیوں (دیپیندر سنگھ ایری اور کوشل بھرتل) نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔
ریکارڈ ساز اننگز
بھرتل کی طوفانی اننگز صرف چھ چھکوں تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے محض 43 گیندوں پر 129 رنز کی ناقابل یقین اننگز کھیلی۔ اس اننگز میں 5 چوکے اور 16 چھکے شامل تھے، اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 300 رہا۔ انہوں نے صرف 35 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی، جو کہ نیپال کی کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین سنچریوں میں سے ایک ہے۔
نیپال کا مجموعی اسکور
بھرتل کے علاوہ، کوشل ملا نے بھی 47 گیندوں پر ناقابل شکست 85 رنز بنائے، جبکہ کپتان روہت پاؤڈل نے صرف 21 گیندوں پر ناقابل شکست 69 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی۔ نیپال کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں چین کے خلاف 313 رنز کا پہاڑ جیسا ٹوٹل کھڑا کر دیا، جس نے حریف ٹیم کے حوصلے پہلے ہی پست کر دیے تھے۔ چین کی جانب سے ڈینگ جنکنگ اور ما کیانچینگ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی، لیکن نیپالی بلے بازوں کا سامنا کرنا ان کے لیے ناممکن ثابت ہوا۔
نتیجہ
کوشل بھرتل کی یہ کارکردگی نہ صرف نیپال کی کرکٹ کے لیے ایک فخر کا لمحہ ہے، بلکہ یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ایسوسی ایٹ ٹیمیں اب بڑی ٹیموں کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ اننگز آنے والے کئی سالوں تک کرکٹ کے شائقین کو یاد رہے گی، خاص طور پر وہ لمحہ جب اسٹیڈیم کے چاروں طرف صرف چھکوں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ کرکٹ کا کھیل ہمیشہ سے ہی غیر متوقع رہا ہے، اور بھرتل جیسے کھلاڑی اس کھیل کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔
