Latest Cricket News

Watch: Basit Ali tears into Shadab Khan as Saqlain Mushtaq listens on Live TV

Shanti Mukherjee · · 1 min read
Share

پاکستان کرکٹ میں ایک ہنگامہ خیز لمحہ

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان راولپنڈی کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ کے بعد جو کچھ ہوا اس نے سوشل میڈیا اور کرکٹ کے حلقوں میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ Watch: Basit Ali tears into Shadab Khan as Saqlain Mushtaq listens on Live TV کے عنوان سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں باسط علی نے نہ صرف شاداب خان کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے بلکہ ان کی ٹیم میں واپسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت پینل میں موجود لیجنڈری آف اسپنر اور شاداب خان کے سسر ثقلین مشتاق بھی وہیں موجود تھے اور خاموشی سے یہ سب سن رہے تھے۔

میچ کا پس منظر اور شاداب خان کی مایوس کن کارکردگی

یہ مقابلہ پاکستان کے لیے ون ڈے کرکٹ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ یہ پاکستان کا 1000واں ون ڈے انٹرنیشنل میچ تھا۔ اس موقع پر پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا اور آسٹریلوی ٹیم کو 201 رنز پر محدود کر دیا۔ نوجوان بائیں ہاتھ کے اسپنر عرفات منہاس نے اپنے ڈیبیو میچ میں 32 رنز کے عوض 5 وکٹیں لے کر تاریخ رقم کر دی۔ تاہم، ٹیم کے تجربہ کار آل راؤنڈر شاداب خان کے لیے یہ دن انتہائی مایوس کن رہا۔

باسط علی کا سخت موقف

اے آر وائی نیوز کے پینل پر گفتگو کرتے ہوئے باسط علی نے شاداب خان کی ٹیم میں واپسی پر براہ راست وار کیا۔ انہوں نے کہا، ‘آپ مجھے بتائیں، شاداب خان نے تین سال سے ون ڈے کرکٹ نہیں کھیلی، تو وہ ٹیم میں واپس کیسے آگئے؟ انہوں نے صرف پی ایس ایل کھیلی ہے۔’ باسط علی کا مزید کہنا تھا کہ یہ سراسر اقربا پروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان کھلاڑی اس صورتحال سے مایوس ہوتے ہیں، لیکن پی سی بی اور سلیکٹرز کے دباؤ کے باعث وہ کچھ بول نہیں پاتے۔

شماریات کیا کہتے ہیں؟

شاداب خان، جو نومبر 2023 کے ورلڈ کپ کے بعد سے ون ڈے ٹیم سے باہر تھے، اس میچ میں سب سے مہنگے اور ناکام ترین بولر ثابت ہوئے۔ آسٹریلیا کے خلاف اپنے 8 اوورز میں انہوں نے 54 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔ ان کا اکانومی ریٹ 6.75 رہا، جبکہ ٹیم کے دیگر بولرز نے کافی کفایت شعاری سے گیند بازی کی۔ اعدادوشمار کے مطابق، شاداب پچھلے پانچ ون ڈے میچوں میں مسلسل وکٹ لینے میں ناکام رہے ہیں۔ 2017 سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے شاداب خان کی ون ڈے کرکٹ میں اوسط 35.45 ہے، جو ان کی غیر مستقل مزاجی کو ظاہر کرتی ہے۔

ثقلین مشتاق کی خاموشی

اس گفتگو کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ جب باسط علی یہ سب کہہ رہے تھے، ثقلین مشتاق، جو کہ نہ صرف ایک عظیم کرکٹر ہیں بلکہ شاداب خان کے سسر بھی ہیں، وہیں موجود تھے۔ باسط علی کا یہ بے باک انداز پاکستان کرکٹ کے اندرونی معاملات پر بحث کو جنم دے رہا ہے۔ کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹیم میں میرٹ کو نظر انداز کیا جائے گا تو اس کا خمیازہ طویل مدت میں قومی ٹیم کو بھگتنا پڑے گا۔

نتیجہ

پاکستان نے یہ میچ بابر اعظم اور غازی غوری کی شاندار اننگز کی بدولت باآسانی جیت لیا، لیکن شاداب خان کا معاملہ ٹیم انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا سلیکٹرز اب نوجوان ٹیلنٹ کو ترجیح دیں گے یا پرانے کھلاڑیوں کو ہی موقع ملتا رہے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آنے والے میچوں میں ملے گا۔ پاکستان کرکٹ کو اس وقت سخت فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ ٹیم دوبارہ عالمی معیار کی کارکردگی دکھا سکے۔

Shanti Mukherjee
Shanti Mukherjee

Shanti Mukherjee is a pioneering Indian sports journalist specializing in cricket. She is renowned for her sharp analysis and breaking gender barriers in the male-dominated field of sports media.