Cricket Canada draws up ‘comprehensive’ plan in bid to overturn ICC suspension
کرکٹ کینیڈا کا آئی سی سی کی معطلی کے خلاف لائحہ عمل
حال ہی میں آئی سی سی کی جانب سے کرکٹ کینیڈا کی ایسوسی ایٹ رکنیت معطل کیے جانے کے بعد، بورڈ نے اس بحران سے نکلنے کے لیے ایک ٹھوس حکمت عملی اپنائی ہے۔ کرکٹ کینیڈا نے آئی سی سی کو ایک ‘جامع’ ایکشن پلان جمع کرایا ہے، جس کا مقصد انتظامی اور مالیاتی امور میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کر کے رکنیت کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔
آئی سی سی کی معطلی کی وجوہات
آئی سی سی نے یہ سخت قدم گورننس کے ڈھانچے، مالیاتی نگرانی، اور انتظامی عمل میں سنگین کوتاہیوں کی بنیاد پر اٹھایا ہے۔ یہ فیصلہ ایک طویل عرصے سے جاری تعطل کا نتیجہ ہے جس میں سابق سی ای او سلمان خان کی تقرری اور بعد ازاں ان پر عائد کیے گئے الزامات جیسے معاملات شامل ہیں۔ سلمان خان پر کیلگری پولیس کی جانب سے چوری اور فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جس کے بعد سے کرکٹ کینیڈا کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
نئی انتظامیہ اور اصلاحات کا عزم
مئی میں اروندر کھوسہ کی سربراہی میں نو رکنی بورڈ کے انتخاب کے بعد، کرکٹ کینیڈا اب ماضی کے بوجھ سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر بھوجیت جوہر کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے اٹھائے گئے زیادہ تر خدشات کا تعلق پرانی انتظامیہ کے فیصلوں سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی بورڈ ٹیم ان تمام مسائل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اصلاحاتی کمیٹی کا قیام
کرکٹ کینیڈا نے وکیل دیشا پیریگوڈووا کی قیادت میں ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کا کام آئی سی سی کے اٹھائے گئے نکات کی تحقیقات کرنا ہے۔ اس کمیٹی کو مالیاتی ریکارڈز اور دستاویزات تک مکمل رسائی دی گئی ہے، اور توقع ہے کہ یہ کمیٹی 45 دنوں کے اندر اپنی مکمل رپورٹ پیش کر دے گی۔ اس کے علاوہ، آئی سی سی کی نارملائزیشن کمیٹی کے ساتھ بھی قریبی تعاون کیا جا رہا ہے جس میں کرکٹ آسٹریلیا کے چیئر مائیک بیئرڈ اور آئی سی سی کے ڈپٹی چیئر عمران خواجہ شامل ہیں۔
کرپشن کے الزامات اور مستقبل کا لائحہ عمل
کینیڈین کرکٹ صرف انتظامی مسائل کا شکار نہیں ہے بلکہ ٹیم کو آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات کا بھی سامنا ہے۔ یہ تحقیقات ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ اور سابق کوچ خرم چوہان کی لیک ہونے والی آڈیو ریکارڈنگ سے جڑے معاملات پر مبنی ہیں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ آئی سی سی کے ہر فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور تمام تعمیل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
نتیجہ
کرکٹ کینیڈا کا یہ ‘جامع’ منصوبہ اس بات کی علامت ہے کہ بورڈ کھیل کو درست راستے پر لانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اگرچہ معطلی ایک بڑا دھچکا ہے، لیکن شفافیت، بہتر گورننس، اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے کینیڈا کرکٹ دوبارہ بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ بنانے کے لیے پرامید ہے۔
