News

MCC admit Lord’s pitch ‘fell short of expectations’ – لارڈز ٹیسٹ پچ تنازعہ

Shanti Mukherjee · · 1 min read
Share

لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں پچ کا تنازعہ اور ایم سی سی کا اعتراف

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد پچ کی صورتحال پر کرکٹ حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ اس میچ میں جس طرح گیند نے غیر متوقع رویہ اختیار کیا، اس نے نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ مبصرین کو بھی حیران کر دیا۔ انگلینڈ کی ٹیم نے چوتھے دن کی صبح 115 رنز سے فتح تو حاصل کر لی، لیکن پچ کے غیر مساوی باؤنس اور ضرورت سے زیادہ سیم موومنٹ نے میچ کے معیار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس صورتحال کے بعد میریلیبون کرکٹ کلب (MCC) کی جانب سے ایک باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے جس میں MCC admit Lord’s pitch ‘fell short of expectations’ کا اعتراف کیا گیا ہے۔ پچ کے اس غیر معمولی برتاؤ نے میچ کو مقررہ وقت سے بہت پہلے ختم کرنے پر مجبور کیا، جس پر دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

صرف 166 اوورز میں 40 وکٹوں کا گرنا: پچ کا غیر متوقع رویہ

لارڈز ٹیسٹ کے دوران پچ کا رویہ بلے بازوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ پورے میچ میں صرف 166 اوورز کا کھیل ممکن ہو سکا، جس کے دوران دونوں ٹیموں کی تمام 40 وکٹیں گر گئیں۔ اگرچہ انگلینڈ نے یہ میچ جیت لیا، لیکن کھیل کا چوتھے دن تک پہنچنا صرف بارش کے باعث ممکن ہو سکا، ورنہ یہ میچ اس سے بھی پہلے ختم ہو جاتا۔ پچ پر گیند کا باؤنس اس حد تک غیر مساوی تھا کہ کچھ گیندیں پچ ہونے کے بعد بالکل نیچی رہیں جبکہ کچھ گیندیں غیر متوقع طور پر اچھل کر بلے بازوں کے دستانوں اور جسم پر لگیں۔ اس غیر متوازن مقابلے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گرنے والی 40 وکٹوں میں سے 24 بلے باز یا تو بولڈ ہوئے یا ایل بی ڈبلیو (LBW) کا شکار ہوئے۔ یہ اعدد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ بلے بازوں کے لیے پچ پر لائن اور لینتھ کا اندازہ لگانا ناممکن ہو چکا تھا کیونکہ وہ پچ کے باؤنس پر بھروسہ نہیں کر پا رہے تھے۔

روب لاوسن کا بیان اور پچ کی تیاری کے چیلنجز

ایم سی سی، جو لارڈز گراؤنڈ کی مالک ہے اور اس کا انتظام سنبھالتی ہے، نے پچ کی اس خراب حالت پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ایم سی سی نے حالیہ برسوں میں پچوں کی تیاری اور کھیل کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سلسلے میں پچوں کو “اسٹیم” کرنے اور گزشتہ موسم سرما میں آؤٹ فیلڈ کو نئے سرے سے تیار کرنے جیسے اقدامات بھی شامل تھے۔ تاہم، ایم سی سی کے چیف ایگزیکٹو روب لاوسن نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ یہ پچ ان کے طے شدہ معیار پر پوری نہیں اتری۔

روب لاوسن نے کہا: “ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس ٹیسٹ کی پچ پر ہماری توقع سے زیادہ غیر مساوی باؤنس دیکھا گیا۔ ہم اپنے آپ کو ہمیشہ اعلیٰ ترین معیارات کا پابند رکھتے ہیں، اور جب کھیل کی کوئی سطح ان توقعات پر پوری نہیں اترتی، تو ہمیں قدرتی طور پر شدید مایوسی ہوتی ہے۔” انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مئی کے مہینے میں غیر معمولی طور پر گرم موسم اور پھر ٹیسٹ میچ کی تیاری کے دوران ہونے والی بارش نے ہیڈ گراؤنڈز مین کارل میک ڈرموٹ اور ان کے عملے کے لیے شدید مشکلات اور چیلنجز پیدا کیے تھے۔ تاہم، انہوں نے شائقین اور کھلاڑیوں کو یقین دلایا کہ انتظامیہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کر رہی ہے۔

بین اسٹوکس کا سخت مؤقف: ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل خطرے میں؟

انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے میچ کے بعد پچ کے رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگرچہ پہلے دن کا کھیل دیکھنے آنے والے شائقین کے لیے یہ ایک سنسنی خیز مقابلہ تھا، لیکن پچ پر گیند کا اس طرح اوپر نیچے ہونا اور ضرورت سے زیادہ سیم موومنٹ ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے لیے بالکل بھی فائدہ مند نہیں ہے۔

بین اسٹوکس کا کہنا تھا: “مجھ سے اکثر ٹیسٹ کرکٹ کی بقا اور اس کے مستقبل کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ ٹیسٹ میچ پانچ دن کا کھیل ہوتا ہے۔ اگر موسم کی مداخلت نہ ہوتی تو یہ میچ چوتھے دن بھی نہ پہنچ پاتا۔ ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر جو ٹیسٹ کرکٹ کی بقا پر یقین رکھتا ہے، میچ کا اتنی جلدی ختم ہونا میرے لیے بالکل بھی مثالی نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے مشکل حالات کا سامنا کرنا ایک چیلنج ہوتا ہے اور ہمیں ہر قسم کی پچ پر کھیلنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، لیکن جب آپ اس طرح کی انتہا پسندانہ پچیں دیکھتے ہیں جہاں ایک ہی دن میں 16 وکٹیں گر جائیں، تو یہ کھیل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتیں۔ ہمیں ایسی پچوں کی ضرورت ہے جہاں بلے اور گیند کے درمیان ایک منصفانہ مقابلہ دیکھنے کو ملے۔”

ٹام لیتھم کا تجزیہ: بلے بازوں کا پچ پر عدم اعتماد

نیوزی لینڈ کے کپتان ٹام لیتھم نے بھی پچ کے رویے کو میچ کے جلد خاتمے کی بڑی وجہ قرار دیا۔ اگرچہ انہوں نے اپنی ٹیم کی شکست کا سارا ملبہ پچ پر نہیں ڈالا اور فیلڈنگ میں کیچز چھوڑنے کو بھی ناکامی کی وجہ قرار دیا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ پچ کے برتاؤ نے میچ کے نتیجے میں اہم کردار ادا کیا۔

ٹام لیتھم نے نوجوان کھلاڑی جیکب بیتھل کے آؤٹ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “بیتھل دوسری اننگز میں میٹ ہنری کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جو کہ ایک اچھی لینتھ گیند تھی لیکن وہ بالکل بھی نہیں اٹھی اور سیدھی وکٹوں میں جا گھسی۔ اس کے برعکس، چوتھے دن کی صبح ہم نے دیکھا کہ اسی لینتھ سے گیندیں اچانک اچھل کر بلے بازوں کے دستانوں پر لگ رہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بلے بازوں کے پاس پچ پر بھروسہ کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ جب آپ کو پچ پر بھروسہ نہ ہو، تو آپ کریز پر پھنس جاتے ہیں اور اپنے شاٹس نہیں کھیل پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر بلے باز بولڈ یا ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے، کیونکہ وہ گیند کی لائن اور باؤنس کا درست اندازہ نہیں لگا پا رہے تھے۔”

آئی سی سی کا ممکنہ ایکشن اور ڈی میرٹ پوائنٹس کا خطرہ

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) اگلے ہفتے اس پچ کی باقاعدہ رپورٹ جاری کرے گی۔ میچ ریفری اینڈریو پائی کرافٹ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ پچ کھیل کے لیے موزوں تھی یا نہیں۔ اگر آئی سی سی کی جانب سے اس پچ کو “غیر تسلی بخش” (unsatisfactory) قرار دیا گیا تو پچ اور آؤٹ فیلڈ مانیٹرنگ قوانین کے تحت لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کو ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا جائے گا۔ تاریخی میدان کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہوگا کیونکہ لارڈز کو کرکٹ کا گھر کہا جاتا ہے اور یہاں ہمیشہ بہترین معیار کی پچوں کی توقع کی جاتی ہے۔

شائقین کرکٹ کے لیے ٹکٹوں کی واپسی اور معاوضہ

میچ کے چوتھے دن کھیل کے جلد خاتمے کے بعد ایم سی سی نے گراؤنڈ کے دروازے شائقین کے لیے کھول دیے تاکہ وہ آؤٹ فیلڈ پر جا کر وقت گزار سکیں۔ چونکہ چوتھے دن 30 اوورز سے بھی کم کا کھیل ممکن ہو سکا، اس لیے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ چوتھے دن کے ٹکٹ ہولڈرز کو 50 فیصد رقم واپس کی جائے گی۔ اس سے قبل، تیسرے دن بارش اور خراب روشنی کے باعث صرف 58 جائز گیندیں پھینکی جا سکی تھیں، جس کی وجہ سے شائقین کو ٹکٹوں کی مکمل رقم واپس کر دی گئی تھی۔ شائقین کے لیے یہ مالی معاوضہ تو ایک ریلیف ہے، لیکن کرکٹ کے چاہنے والے لارڈز پر ایک طویل اور شاندار ٹیسٹ میچ دیکھنے سے محروم رہ گئے۔

Shanti Mukherjee
Shanti Mukherjee

Shanti Mukherjee is a pioneering Indian sports journalist specializing in cricket. She is renowned for her sharp analysis and breaking gender barriers in the male-dominated field of sports media.