Tamim: Building a world-class High Performance Centre ‘my biggest dream’ – بی سی بی صدر کا عزم
بنگلہ دیشی کرکٹ میں ایک نئے اور جدید دور کا آغاز
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے نو منتخب صدر کے طور پر تمیم اقبال کا انتخاب ملک میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی نئی امیدیں لے کر آیا ہے۔ تمیم اقبال نے ہمیشہ بنگلہ دیشی کرکٹ کی بہتری کے لیے آواز اٹھائی ہے، اور اب جبکہ وہ خود اس بااختیار عہدے پر فائز ہو چکے ہیں، ان کا عزم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ صرف میدان میں کارکردگی دکھانا کافی نہیں ہے، بلکہ پس پردہ ایک ایسا مضبوط نظام ہونا چاہیے جو نئے ٹیلنٹ کو نکھارنے اور سینئر کھلاڑیوں کو اپنی فارم برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ہائی پرفارمنس سینٹر کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
“Tamim: Building a world-class High Performance Centre ‘my biggest dream'”
تمیم اقبال نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ “Tamim: Building a world-class High Performance Centre ‘my biggest dream'” یعنی ایک عالمی معیار کا ہائی پرفارمنس سینٹر بنانا ان کا سب سے بڑا خواب ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس وقت بی سی بی کا ہائی پرفارمنس سینٹر میرپور کے شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم کے احاطے میں کام کر رہا ہے، لیکن جگہ کی تنگی اور جدید ترین وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ سہولت انتہائی محدود ہے۔ جدید دور کی کرکٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ایک الگ، وسیع اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس مرکز کی ضرورت ہے جہاں کھلاڑی اپنی تکنیکی، ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔ اس نئے مرکز میں جدید ترین بائیو مکینکس لیبز، ڈیٹا اینالیسس ٹولز، انڈور نیٹ پریکٹس کی وسیع جگہ، اور عالمی معیار کے جمنازیم شامل ہوں گے جو بنگلہ دیشی کرکٹرز کو آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسے ممالک کے کھلاڑیوں کے برابر لانے میں مدد فراہم کریں گے۔
پورباچل میں نئے مرکز کا قیام اور حکومتی تعاون
اس بڑے منصوبے کے مالیاتی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے تمیم اقبال نے واضح کیا کہ ایسے بڑے منصوبوں کے لیے بھاری فنڈنگ درکار ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی سی بی ابتدائی طور پر اس منصوبے کے لیے اپنے فنڈز کا استعمال کر سکتا ہے، لیکن طویل مدتی کامیابی کے لیے حکومت کا تعاون ناگزیر ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس کمپنی سے رابطہ کیا ہے جس نے موجودہ سینٹر ڈیزائن کیا تھا تاکہ اس کا ایک نیا اور بہتر ڈیزائن تیار کیا جا سکے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم پورباچل میں جلد ہی اس مرکز پر کام شروع کر دیں گے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس سلسلے میں ان کی ملاقات ملک کے وزیر خزانہ سے ہو چکی ہے، جنہوں نے منصوبے کے حوالے سے انتہائی مثبت اور حوصلہ افزا ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اب بورڈ حکومت کو باضابطہ درخواست بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ اس منصوبے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
بنگلہ دیشی کرکٹ کی ساکھ کی بحالی اور کھلاڑیوں کا احترام
حالیہ چند ماہ بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے انتظامی اور میدان کے اندر کافی چیلنجنگ رہے ہیں۔ ٹی 20 ورلڈ کپ میں ٹیم کی عدم شرکت اور میڈیا کے ساتھ پیدا ہونے والے مختلف تنازعات نے بورڈ کی ساکھ کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تمیم اقبال اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کا کام صرف بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرنا نہیں بلکہ بورڈ کے امیج کو دوبارہ بحال کرنا بھی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کرکٹ کے تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول موجودہ اور سابق کھلاڑیوں، کو وہ احترام دیا جانا چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بی سی بی میں شاید اس احترام اور باہمی ہم آہنگی کی کمی تھی، جس کی وجہ سے کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے درمیان دوریاں پیدا ہوئیں۔ اب وقت ہے کہ ہم سب اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک ساتھ آئیں اور بنگلہ دیشی کرکٹ کی متاثرہ ساکھ کو بحال کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ سابق کھلاڑیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر ہم نوجوان نسل کی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔
انتظامی امور میں مکمل شفافیت کا وعدہ
بی سی بی کی انتظامیہ ماضی میں شفافیت کی کمی اور یکطرفہ فیصلوں کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ تمیم اقبال نے اپنے دور صدارت میں اس کلچر کو تبدیل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ بورڈ کے امور میں سو فیصد شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ بورڈ میں شامل تمام لوگ ایمانداری اور لگن سے کام کریں۔ بورڈ کی سطح پر کوئی بھی ایسا کام نہیں کیا جائے گا جو متنازع ہو یا جس سے کرکٹ کے کھیل کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کام کے دوران غلطیاں ہونا فطری ہے، لیکن اہم بات یہ ہوگی کہ ان غلطیوں کو کتنی جلدی تسلیم کیا جاتا ہے اور انہیں درست کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔
عہدے سے زیادہ ذمہ داری کا احساس
ایک کھلاڑی سے لے کر کرکٹ بورڈ کے سربراہ تک کا سفر تمیم اقبال کے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں، تاہم وہ اس عہدے کو ایک اعزاز سے زیادہ ایک بہت بڑی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اندر کوئی ایسا احساس نہیں ہے کہ وہ بہت بڑے بن گئے ہیں، بلکہ وہ اس ذمہ داری کے بوجھ کو محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر کھل کر بات کی ہے، اور اب ان کا ماننا ہے کہ یہ وہ وقت ہے جب انہیں عملی طور پر خود کو ثابت کرنا ہوگا اور دنیا کو دکھانا ہوگا کہ وہ بنگلہ دیشی کرکٹ کو ایک نئی اور کامیاب سمت میں لے جا سکتے ہیں۔ تمیم اقبال کی قیادت میں بنگلہ دیشی کرکٹ کے شائقین کو امید ہے کہ اب ملک میں کرکٹ کا گراف تیزی سے اوپر جائے گا۔
