News Analysis

Rob Key: England Test team is not a ‘national embarrassment’ – انگلش ٹیم ڈسپلن کی خلاف ورزی پر مینیجنگ ڈائریکٹر کا سخت موقف

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

انگلش کرکٹ کا نیا تنازع: مڈ نائٹ کرفیو کی خلاف ورزی اور نائٹ کلب کا ہنگامہ

انگلینڈ کرکٹ ٹیم ایک بار پھر میدان سے باہر اپنے کھلاڑیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے محض 12 گھنٹے بعد، اتوار کی رات اور پیر کی صبح کے درمیانی حصے میں انگلش کپتان بین اسٹوکس اور فاسٹ بولر گس اٹکنسن چیلسی کے ایک مشہور نائٹ کلب ‘دی ریکس رومز’ (The Rex Rooms) میں ایک ناخوشگوار واقعے کا حصہ بن گئے۔ اس واقعے میں ساراسینز رگبی کلب اکیڈمی کے کھلاڑی ٹوٹوآ اووا (Totoa Auvaa) بھی شامل تھے، اور اس تصادم کے نتیجے میں انگلینڈ ٹیم کے سیکیورٹی افسر جیمز شا کو شدید زخم آئے جن پر ٹانکے لگانے پڑے۔ اس واقعے کے بعد دونوں کھلاڑیوں کو 17 جون سے شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ سے معطل کر دیا گیا ہے اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ECB) اور کرکٹ ریگولیٹر نے اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

روب کی کا بڑا بیان: “Rob Key: England Test team is not a ‘national embarrassment'”

انگلینڈ کرکٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر روب کی نے اوول میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹیم کے ڈسپلن پر شدید مایوسی کا اظہار کیا، لیکن انہوں نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا کہ ٹیسٹ ٹیم ملک کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ “Rob Key: England Test team is not a ‘national embarrassment'”، اور بین اسٹوکس اور ہیڈ کوچ برینڈن میکولم کی جوڑی انگلینڈ کی تاریخ کی کامیاب ترین شراکت داریوں میں سے ایک ہے۔ روب کی کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر شدید افسوس ہے کہ فتح کے جشن کے فوراً بعد انہیں کرکٹ کی بجائے کھلاڑیوں کے نائٹ کلب کے جھگڑوں پر بات کرنی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم نے ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے مہینوں سخت محنت کی تھی، لیکن اس ایک واقعے نے ان تمام کوششوں کو دھندلا دیا ہے جو ٹیم کلچر کو بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی تھیں۔

کرفیو قوانین کی خلاف ورزی اور پس منظر

انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے آدھی رات کا کرفیو رواں سال جنوری میں نافذ کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ گزشتہ ایشز سیریز کے دوران کھلاڑیوں کی مسلسل شراب نوشی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کے بعد کیا گیا تھا، جس میں خاص طور پر ہیری بروک کا ویلنگٹن میں ایک نائٹ کلب باؤنسر کے ساتھ ہونے والا جھگڑا شامل تھا۔ اس واقعے کے بعد بروک کو کپتانی کی دوڑ سے باہر کر دیا گیا تھا اور جو روٹ کو ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ روب کی نے واضح کیا کہ کرفیو کے قوانین تمام کھلاڑیوں اور ان کے نمائندوں کو پہلے ہی بھیج دیے گئے تھے۔ اگرچہ گس اٹکنسن نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس قانون سے بے خبر تھے، لیکن روب کی نے سختی سے کہا کہ دیگر کھلاڑی وقت پر ہوٹل واپس پہنچ گئے تھے، جس کا مطلب ہے کہ قوانین سب کے علم میں تھے۔

کیا انگلینڈ کرکٹ ٹیم پر مکمل الکحل پابندی عائد کر دی جائے گی؟

کھلاڑیوں کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویوں سے تنگ آکر مینیجنگ ڈائریکٹر روب کی اب ٹیم میں الکحل پر مکمل پابندی عائد کرنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عوام اور بورڈ کے اعتماد پر پورا اتر سکتے ہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال میں ان پر بھروسہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ روب کی نے واضح کیا کہ وہ کوئی بھی جلد بازی میں فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جو ٹیم کے ماحول کو مزید خراب کرے، لیکن وہ نظم و ضبط پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

بین اسٹوکس کا مستقبل اور کپتانی کے خاتمے کا خطرہ

اس تنازع نے انگلش کپتان بین اسٹوکس کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔ 35 سالہ اسٹوکس گزشتہ چھ ماہ سے شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا شکار ہیں، جس میں ایشز کے بعد نیٹ پریکٹس کے دوران چہرے پر لگنے والی شدید چوٹ بھی شامل ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسٹوکس نے اس واقعے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر بھی غور کیا تھا، لیکن بعد میں انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ جب روب کی سے پوچھا گیا کہ کیا بین اسٹوکس کو کپتانی سے برطرف کیا جا سکتا ہے، تو انہوں نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا۔ روب کی نے کہا کہ فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور وہ کوئی قبل از وقت فیصلہ نہیں کرنا چاہتے، لیکن وہ ٹیم اور اسٹوکس دونوں کے لیے جو بہتر ہوگا وہی فیصلہ کریں گے۔

برینڈن میکولم کا ردعمل اور ٹیم مینیجمنٹ کی تشویش

ہیڈ کوچ برینڈن میکولم، جنہوں نے پیر کی صبح مینیجنگ ڈائریکٹر روب کی کو اس واقعے کی اطلاع دی تھی، خود بھی اس صورتحال پر شدید مایوس اور برہم ہیں۔ میکولم اور اسٹوکس دونوں ہی جنوری میں کرفیو نافذ کرنے کے حامی تھے، تاکہ ٹیم کے اندر نظم و ضبط کو بحال کیا جا سکے۔ اب جبکہ کپتان خود ہی اس قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ہے، تو مینیجمنٹ کے لیے کھلاڑیوں کو نظم و ضبط کا درس دینا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ روب کی نے کہا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر بین اسٹوکس سے رابطے میں ہیں تاکہ ان کی ذہنی حالت کا جائزہ لیا جا سکے، کیونکہ اسٹوکس اس وقت شدید جذباتی دباؤ سے گزر رہے ہیں۔ انگلش کرکٹ بورڈ کے لیے یہ ایک نازک مرحلہ ہے جہاں انہوں نے ایک طرف اپنے سب سے کامیاب کپتان کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے اور دوسری طرف ٹیم کے وقار کو بھی بحال رکھنا ہے۔