News

‘Not looking to defend anything’ – Melie Kerr wants New Zealand to start again

Snehe Roy · · 1 min read
Share

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کی نئی حکمت عملی

نیوزی لینڈ کی ویمن کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بطور دفاعی چیمپئن حصہ لے رہی ہے، تاہم ٹیم کی کپتان میلی کیر نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کی ٹیم ماضی کی کامیابیوں کا بوجھ اٹھانے کے بجائے ایک نئے جذبے کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ساؤتھمپٹن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے افتتاحی میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے میلی کیر نے کہا کہ وہ کسی بھی چیز کا دفاع کرنے نہیں بلکہ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے آئی ہیں۔

میلی کیر کا نیا عزم

فروری میں صوفی ڈیوائن کی جانشین کے طور پر کپتانی سنبھالنے والی میلی کیر کا ماننا ہے کہ دو سال قبل ورلڈ کپ جیتنا ایک شاندار اعزاز تھا، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کو پیچھے چھوڑ کر نئے چیلنجز کا سامنا کیا جائے۔ انہوں نے کہا، ‘ہم کچھ بھی دفاع کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ ہم ایک مثبت انداز میں کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہماری صلاحیتیں ہمیں دوبارہ ورلڈ کپ جتوانے کے لیے کافی ہیں۔’

نیوزی لینڈ کی ٹیم 2026 کے اس ٹورنامنٹ میں کافی بہتر فارم میں دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ 11 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سے 8 میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ وارم اپ میچوں میں بھی عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیر کا کہنا ہے کہ ٹیم کا اعتماد بلند ہے، لیکن وہ کسی بھی حریف کو آسان نہیں سمجھ رہیں۔

ویسٹ انڈیز کی تیاری اور ہیلی میتھیوز کا موقف

دوسری جانب ویسٹ انڈیز کی کپتان ہیلی میتھیوز کا ماننا ہے کہ ٹورنامنٹ کرکٹ ایک مختلف ماحول کا نام ہے جہاں ٹیمیں بڑے مواقع پر بہترین کھیل پیش کرتی ہیں۔ 2016 کی ورلڈ چیمپئن ٹیم کی کپتان میتھیوز کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

میتھیوز نے مزید کہا، ‘ہماری نوجوان کھلاڑیوں میں توانائی کی کوئی کمی نہیں ہے اور وہ مسلسل سیکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ ہمارے حالیہ نتائج ملے جلے رہے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم ٹورنامنٹ کے اہم لمحات میں اپنی بہترین فارم واپس حاصل کر لیں گے۔’

مستقبل کی امیدیں

دونوں کپتانوں کے لیے یہ ٹورنامنٹ ایک نئی شروعات کی حیثیت رکھتا ہے۔ میلی کیر، جو اب اپنے 100ویں ٹی ٹوئنٹی میچ کے سنگ میل پر ہیں، ٹیم میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیم کی صلاحیتیں لامحدود ہیں اور وہ ایک ایسے گروپ کی قیادت کرنے پر فخر محسوس کرتی ہیں جو بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کی جستجو رکھتا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے لیے بھی یہ ورلڈ کپ ایک جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔ میتھیوز کا کہنا ہے کہ 2016 کی جیت نے کیریبین عوام کو جس طرح متحد کیا تھا، وہ اسی جذبے کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتی ہیں۔ ‘یہ ٹورنامنٹ ہمارے لیے صرف کرکٹ نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے لیے خوشیاں سمیٹنے کا ایک موقع ہے،’ میتھیوز نے مزید کہا۔

نتیجہ

ساؤتھمپٹن میں ہونے والا یہ میچ 2024 کے سیمی فائنل کا ریمیک ہے، جہاں نیوزی لینڈ نے ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی۔ دونوں ٹیمیں اب ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں، اور شائقین کرکٹ ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع کر رہے ہیں۔ میلی کیر کی قیادت میں نیوزی لینڈ کا نیا سفر شروع ہو چکا ہے، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنی ‘نئے سرے سے آغاز’ کی حکمت عملی کے ساتھ کامیابی حاصل کر پاتی ہیں یا نہیں۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.