Report

Wyatt-Hodge century drives England to statement victory in tournament opener – انگلینڈ کی شاندار جیت

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

ایجبسٹن میں انگلینڈ کا جاندار اور جارحانہ آغاز

انگلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم نے ہوم ورلڈ کپ کے دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سری لنکا کے خلاف ایک یادگار اور یکطرفہ فتح حاصل کی ہے۔ ایجبسٹن کے خوبصورت گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں صرف 1 وکٹ کے نقصان پر 219 رنز کا ہمالیہ جیسا اسکور کھڑا کیا۔ جواب میں سری لنکا کی پوری ٹیم 132 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی اور انگلینڈ نے یہ میچ 87 رنز کے بھاری مارجن سے اپنے نام کر لیا۔ اس فتح نے نہ صرف ٹیم کے حوصلے بلند کیے ہیں بلکہ حریف ٹیموں کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی ہے۔

وائٹ-ہاج کی شاندار سنچری اور یادگار واپسی

میچ کی اصل ہیرو اوپنر ڈینی وائٹ-ہاج رہیں، جنہوں نے میدان کے چاروں اطراف دلکش شاٹس کھیل کر تماشائیوں کو محظوظ کیا۔ انہوں نے محض 62 گیندوں پر ناقابل شکست 105 رنز کی اننگز کھیلی۔ یہ ان کے ٹی 20 انٹرنیشنل کیریئر کی تیسری سنچری تھی، اور اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ حال ہی میں زچگی کی رخصت (maternity leave) کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئی ہیں۔

35 سالہ وائٹ-ہاج نے اپنے آٹھویں ٹی 20 ورلڈ کپ میں یہ ثابت کر دیا کہ ان کی کلاس اور فٹنس اب بھی لاجواب ہے۔ انہوں نے اپنی اننگز کے دوران 8 خوبصورت چوکے اور ایک فلک شگاف چھکا لگایا۔ اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فٹ بالر بیبیٹو کے انداز میں ‘راک-اے-بیبی’ جشن منا کر اپنی اس اننگز کو اپنی نئی نویلی بیٹی کے نام کیا۔

اوپنرز کی جارحانہ شراکت داری اور سری لنکن باؤلنگ کی بے بسی

ٹاس جیت کر سری لنکا کی کپتان چماری اتھاپتھو نے پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو پچ اور حالات کے لحاظ سے بالکل غلط ثابت ہوا۔ انگلینڈ کی اوپننگ جوڑی، ڈینی وائٹ-ہاج اور ایمی جونز نے حریف باؤلرز پر شروع سے ہی دباؤ برقرار رکھا۔ دونوں نے پہلی وکٹ کے لیے صرف 82 گیندوں پر 135 رنز کی دھواں دھار شراکت داری قائم کی۔

ایمی جونز نے بھی بہترین فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 34 گیندوں پر 53 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اگرچہ انہیں سری لنکن فیلڈرز کی جانب سے کچھ لائف لائنز بھی ملیں، لیکن انہوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سری لنکا کی کپتان نے پاور پلے میں ہی چار مختلف باؤلرز کا استعمال کیا، لیکن وہ انگلش اوپنرز کی رنز بنانے کی رفتار کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہیں۔

نیٹ سکیور برنٹ کی دھواں دھار بیٹنگ اور مڈل آرڈر کا سہارا

ایمی جونز کے آؤٹ ہونے کے بعد، اسٹار آل راؤنڈر نیٹ سکیور برنٹ کریز پر آئیں، جو حال ہی میں پنڈلی کی انجری سے نجات پا کر ٹیم میں واپس آئی ہیں۔ انہوں نے آتے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور سری لنکن باؤلنگ لائن کو بے بس کر دیا۔ انہوں نے محض 22 گیندوں پر ناقابل شکست 46 رنز بنائے۔

نیٹ سکیور برنٹ کی اننگز میں 6 شاندار چوکے شامل تھے، جن میں ایک ریورس اسکوپ اور آخری اوور میں مڈ آف کے اوپر سے کھیلا گیا ایک انتہائی طاقتور شاٹ شامل تھا جس کی مدد سے انگلینڈ کا اسکور 200 رنز سے تجاوز کر گیا۔ ان کی اس اننگز نے یہ واضح کر دیا کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں اور ٹورنامنٹ میں بڑی اننگز کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

انگلینڈ کی شاندار باؤلنگ اور فیلڈنگ کا جادو

220 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں سری لنکا کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی۔ انگلینڈ کے تمام چھ باؤلرز نے نپی تلی باؤلنگ کی اور سری لنکن بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ لارین بیل نے پہلی کامیابی دلائی جب انہوں نے وشمی گونارتنے کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔

میچ کا سب سے خوبصورت لمحہ اس وقت آیا جب ڈینی وائٹ-ہاج نے ڈیپ اسکوائر لیگ پر دوڑتے ہوئے ایک شاندار کیچ پکڑ کر سری لنکا کی خطرناک کپتان چماری اتھاپتھو کو پویلین کی راہ دکھائی۔ اس کیچ نے اسٹیڈیم میں موجود تمام تماشائیوں کو حیران کر دیا اور سری لنکا کی جیت کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں۔

فریا کیمپ کی تباہ کن باؤلنگ اور فتح پر مہر

باؤلنگ میں اصل تباہی نوجوان بائیں ہاتھ کی فاسٹ باؤلر فریا کیمپ نے مچائی۔ انہوں نے اپنے اسپیل کے دوران تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 21 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی اس کارکردگی کی بدولت سری لنکا کا مڈل اور لوئر آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا۔

آخر میں دنیا کی نمبر ون اسپنر سوفی ایکلسٹن نے آخری اوور میں مسلسل دو وکٹیں حاصل کر کے سری لنکا کی پوری ٹیم کو 132 رنز پر سمیٹ دیا اور انگلینڈ کو 87 رنز کی یادگار فتح دلا دی۔ اس شاندار جیت کے بعد انگلینڈ نے ٹورنامنٹ میں اپنے سفر کا آغاز انتہائی مضبوط انداز میں کیا ہے اور وہ سپر فور کی دوڑ میں سب سے آگے نظر آ رہے ہیں۔