D-day looms for Australian cricket in BBL privatisation push
آسٹریلوی کرکٹ میں تبدیلی کا فیصلہ کن لمحہ
آسٹریلوی کرکٹ کے لیے پیر کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ریاستی سربراہان کرکٹ آسٹریلیا (CA) کے ساتھ میلبورن میں ملاقات کر رہے ہیں۔ اس اجلاس کا مرکزی ایجنڈا بی بی ایل (BBL) کی نجکاری کے حوالے سے نئی پیشکش پر ووٹنگ کرنا ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کھیل کے مستقبل کے بارے میں طویل مدتی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔
نجکاری کا ہائبرڈ ماڈل
اس بار کرکٹ آسٹریلیا نے ایک ہائبرڈ ماڈل متعارف کرایا ہے، جو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہر ریاست خود فیصلہ کرے کہ آیا وہ اپنی بی بی ایل ٹیموں میں نجی سرمایہ کاری لانا چاہتی ہے یا نہیں۔ یہ دوسری کوشش ہے، کیونکہ اپریل میں تمام آٹھ کلبوں کو فروخت کرنے کی ابتدائی تجویز مسترد کر دی گئی تھی۔ جنوبی آسٹریلیا کی جانب سے تجویز کردہ یہ نیا ماڈل ریاستوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں۔
وکٹوریہ کا خصوصی موقف اور انضمام
ایک اہم پیشرفت وکٹوریہ کی جانب سے سامنے آئی ہے، جو اپنے دونوں کلبوں، ‘اسٹارز’ اور ‘رینیگیڈز’ کو ضم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وکٹوریہ نے پہلے ہی نئے ناموں جیسے ‘رینجرز’، ‘بلیزر’ اور ‘میجک’ کے لیے ٹریڈ مارک کی درخواستیں دے دی ہیں۔ تاہم، اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پیر کے ووٹ اور آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن (ACA) کے ساتھ معاہدے کی منظوری لازمی ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کا عزم
کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرینبرگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس عمل کو ہر صورت میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ گرینبرگ کا کہنا ہے:
ہم طویل مدتی مستقبل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آسٹریلیا کی پوزیشن کو برقرار رکھنے اور کھیل کی مقبولیت بڑھانے کے لیے ہمارے پاس ایسے فنڈز کا ہونا ضروری ہے جو نچلی سطح سے لے کر ایلیٹ پروگرامز تک سرمایہ کاری کر سکیں۔
گرینبرگ نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ بی بی ایل کی نجکاری کے باوجود باکسنگ ڈے اور نئے سال کے ٹیسٹ میچز اپنے شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔ ان کے مطابق، کرسمس کے دنوں میں ٹیسٹ میچز اور بی بی ایل کی موجودگی کرکٹ کے لیے ایک منفرد فائدہ ہے جسے برقرار رکھا جائے گا۔
اگلے مراحل
اگر پیر کو یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے، تو وکٹوریہ، ویسٹرن آسٹریلیا اور تسمانیہ جیسی ریاستیں نجی سرمایہ کاروں کی تلاش کا عمل شروع کر سکتی ہیں۔ اس عمل میں ‘رین گروپ’ (Raine Group) کے ذریعے مارکیٹ کی جانچ کی جائے گی، جس کا طریقہ کار ‘دی ہنڈرڈ’ لیگ کی فروخت جیسا ہوگا۔ اگرچہ وکٹوریہ پر امید ہے کہ یہ عمل چند مہینوں میں مکمل ہو جائے گا، لیکن حتمی ٹائم لائن ابھی تک غیر یقینی ہے۔
آسٹریلوی کرکٹ کا مستقبل اب ریاستی سربراہان کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ کیا نجکاری سے کھیل کی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے یا یہ ایک پیچیدہ چیلنج ثابت ہوگا؟ اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہو جائے گا۔
