Report

Leicestershire rout Yorkshire for first top-flight win since 2003 – لیسٹر شائر کی تاریخی فتح

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

لیسٹر شائر کی تاریخی کامیابی: یارکشائر کے خلاف یادگار فتح

لیسٹر شائر نے کاؤنٹی چیمپئن شپ میں ایک ناقابل یقین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یارکشائر کو اپٹن اسٹیل گریس روڈ پر کھیلے گئے میچ میں محض تین دنوں کے اندر شکست فاش دے دی ہے۔ اس میچ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ Leicestershire rout Yorkshire for first top-flight win since 2003 کی بدولت لیسٹر شائر نے 2003 کے بعد پہلی بار ٹاپ فلائٹ کاؤنٹی کرکٹ میں کوئی میچ جیتا ہے۔ لیسٹر شائر کی ٹیم گزشتہ سال ڈویژن ٹو کی چیمپئن بن کر 22 سالہ طویل جلاوطنی ختم کرنے کے بعد ڈویژن ون میں آئی تھی، لیکن اس سیزن کے آغاز میں مسلسل چار شکستوں کے بعد وہ پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے تھی۔ تاہم، اس تاریخی فتح نے ان کی امیدوں کو نئی زندگی دی ہے اور ٹیم میں ایک نیا جوش پیدا کیا ہے۔

پہلی اننگز کا احوال اور لیسٹر شائر کا غلبہ

میچ کے پہلے اور دوسرے دن لیسٹر شائر نے اپنی پہلی اننگز میں ریہان احمد کی شاندار اور جارحانہ سنچری (128 رنز) اور نک کیلی کے شاندار 121 رنز کی بدولت 453 رنز کا ایک بہت بڑا مجموعہ کھڑا کیا۔ ان دونوں کے علاوہ رشی پٹیل نے 67 اور ایویسن نے 55 رنز بنا کر ٹیم کی پوزیشن کو انتہائی مستحکم بنایا۔ یارکشائر کی جانب سے ڈین موریارٹی 85 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کر کے سب سے کامیاب بولر رہے۔ اس کے جواب میں یارکشائر کی ٹیم پہلی اننگز میں شدید دباؤ کا شکار نظر آئی اور پوری ٹیم صرف 185 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ یارکشائر کی جانب سے صرف جیمز وہارٹن ہی مزاحمت کر سکے جنہوں نے 56 رنز بنائے جبکہ لیسٹر شائر کے 19 سالہ نوجوان فاسٹ بولر الیکس گرین نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے صرف 27 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔

یارکشائر کی دوسری اننگز اور جونی بیرسٹو کا زوال

یارکشائر نے تیسرے دن اپنی دوسری اننگز کا آغاز 32 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر کیا، اور وہ اب بھی لیسٹر شائر کے پہلی اننگز کے اسکور سے 236 رنز پیچھے تھے۔ کھیل کے آغاز میں ہی انہیں بڑا جھٹکا لگا جب سیم وائٹ مین صرف تین اوورز کے اندر ہی جوش ڈیوے کی گیند پر وکٹ کیپر بین کاکس کے ہاتھوں ایک شاندار ڈائیونگ کیچ کا شکار ہو کر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد جیمز وہارٹن اور میتھیو ریوس نے ٹیم کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اسکور میں قیمتی 31 رنز کا اضافہ کیا، لیکن الیکس گرین کے اٹیک میں واپس آتے ہی میچ کا نقشہ یکسر بدل گیا۔ انگلینڈ کی انڈر 19 ٹیم کے نمائندگی کرنے والے الیکس گرین، جن کا قد 6 فٹ 6 انچ ہے، نے اپنی تیز رفتاری سے یارکشائر کے مڈل آرڈر کو تہس نہس کر دیا۔ انہوں نے پہلے ریوس کو وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کروایا اور پھر اگلی ہی گیند پر مایا ناز برطانوی بلے باز جونی بیرسٹو کو صرف تین گیندوں پر صفر (ڈک) پر بولڈ کر کے سنسنی پھیلا دی۔

اعجاز پٹیل اور جوش ڈیوے کی بولنگ اور لوئر آرڈر کا مقابلہ

یارکشائر کے مڈل آرڈر بلے باز الیکس گرین کی تیز رفتار گیند بازی کا سامنا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے، یہاں تک کہ وہارٹن کو ہاتھ پر گیند لگنے کے باعث میدان میں ہی طبی امداد لینی پڑی۔ وہارٹن بعد میں نیوزی لینڈ کے اسپنر اعجاز پٹیل کی گیند پر بولڈ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد جارج ہل اور ڈوم بیس نے کچھ اچھے شاٹس کھیل کر لنچ تک اسکور کو 121 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ تک پہنچایا۔ لیکن لنچ کے فوراً بعد پہلی ہی گیند پر اعجاز پٹیل نے جارج ہل کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ پاکستان کے فاسٹ بولر حسن علی بھی کریز پر زیادہ دیر نہ ٹک سکے اور لیسٹر شائر کے کپتان بین گرین کی گیند پر شارٹ مڈوکٹ پر آسان کیچ دے بیٹھے۔ ڈوم بیس نے 40 رنز بنا کر کچھ مزاحمت دکھائی لیکن وہ بھی اعجاز پٹیل کی گیند پر سلپ میں رشی پٹیل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ڈین موریارٹی نے ٹیل اینڈرز کے ساتھ مل کر شاندار مزاحمت کی اور اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کی پہلی نصف سنچری (51 رنز ناٹ آؤٹ) بنائی۔ تاہم، الیکس گرین نے جیک وائٹ کو بولڈ کر کے یارکشائر کی دوسری اننگز کا خاتمہ 229 رنز پر کر دیا۔

تاریخی فتح اور مستقبل کے امکانات

لیسٹر شائر کی یہ جیت اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ صرف ایک ہفتہ قبل اسی میدان پر ایسیکس کے خلاف عبرت ناک شکست کھانے والی لیسٹر شائر کی ٹیم، جو کہ انجری اور کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کا شکار تھی، نے اس طرح کا شاندار کھیل پیش کیا۔ یارکشائر، جس نے سیزن کا آغاز ٹائٹل جیتنے کے عزائم کے ساتھ کیا تھا، اب پوائنٹس ٹیبل پر نچلی پوزیشنز کی طرف گرنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ دوسری طرف، لیسٹر شائر اب ہیمپشائر کے میچ کے نتیجے کا انتظار کر رہی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا یہ 23 قیمتی پوائنٹس انہیں پوائنٹس ٹیبل کے بالکل نیچے والے حصے سے نکالنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔ لیسٹر شائر کے مداحوں کے لیے یہ فتح بلاشبہ طویل عرصے بعد آنے والی ایک بڑی خوشی ہے جس سے ٹیم کا مورال بلند ہوا ہے۔