News

Bob Blair, who soldiered on after Tangiwai disaster, dies aged 94

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

کرکٹ کی دنیا کے ایک بے مثال ہیرو کا الوداع

نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ باؤلر باب بلیئر، جنہوں نے اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحات میں کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بہادرانہ اننگز کھیلی، اپنے 94 ویں یومِ پیدائش پر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی کرکٹ نے اپنے ان چند قدیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک کو کھو دیا ہے جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے عینی شاہد تھے۔

کیریئر کا ایک مختصر جائزہ

باب بلیئر نے 1953 سے 1964 کے درمیان نیوزی لینڈ کی جانب سے 19 ٹیسٹ میچوں میں نمائندگی کی۔ اس دوران انہوں نے 35.23 کی اوسط سے 43 وکٹیں حاصل کیں۔ اگرچہ ان کے اعداد و شمار ایک اچھے فاسٹ باؤلر کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن ان کی پہچان ان کی باؤلنگ سے زیادہ ان کی وہ 10 منٹ کی بیٹنگ ہے جو انہوں نے دسمبر 1953 میں جوہانسبرگ ٹیسٹ کے دوران انتہائی جذباتی حالات میں کی تھی۔

ٹانگیوائی المیہ اور باب بلیئر کی عظیم ہمت

دسمبر 1953 کا وہ وقت نیوزی لینڈ کی کرکٹ تاریخ کا تاریک ترین باب بن گیا۔ 24 دسمبر کی رات ٹانگیوائی میں ایک ریل کا پل گرنے سے پیش آنے والے خوفناک حادثے میں 151 افراد ہلاک ہوئے، جن میں باب بلیئر کی منگیتر نیریسا لو بھی شامل تھیں۔ اس وقت باب بلیئر کی عمر صرف 21 برس تھی۔ جب ٹیم کو اس سانحے کی خبر ملی، تو ہر طرف صفِ ماتم بچھی ہوئی تھی۔

جوہانسبرگ ٹیسٹ کے دوران جب نیوزی لینڈ کی نویں وکٹ گری، تو سب کو یہی گمان تھا کہ اننگز ختم ہو چکی ہے، لیکن تبھی باب بلیئر ہوٹل سے میدان کی طرف چل پڑے۔ ان کا یہ عمل جذبات اور فرض شناسی کا ایک ایسا امتزاج تھا جس نے دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر دیں۔

برٹ سٹکلف کے ساتھ تاریخی شراکت داری

میدان میں ان کا ساتھ دینے کے لیے برٹ سٹکلف موجود تھے، جو خود شدید زخمی ہونے کے باوجود واپس آئے تھے۔ سٹکلف کو نیل ایڈکاک کی ایک تیز گیند سر پر لگی تھی جس سے ان کا کان زخمی ہو گیا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ اس کے باوجود، سٹکلف نے 80 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جس میں سات چھکے شامل تھے۔ باب بلیئر نے دسویں وکٹ کے لیے 33 رنز کی شراکت داری قائم کی اور خود 6 رنز بنا کر سٹمپ آؤٹ ہوئے۔

ورثہ اور یادگار

باب بلیئر اور اس المناک واقعے کی یاد آج بھی ‘ٹانگیوائی شیلڈ’ (Tangiwai Shield) کی شکل میں زندہ ہے۔ یہ شیلڈ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے فاتح کو دی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیوزی لینڈ اس وقت اس شیلڈ کا موجودہ فاتح ہے، جس نے 2023-24 میں جنوبی افریقہ کے خلاف اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز جیت کر یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

باب بلیئر کا انتقال صرف ایک کرکٹر کا نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت کا خاتمہ ہے جس نے دکھ کے پہاڑ تلے دب کر بھی کرکٹ کے میدان میں وقار اور بہادری کی مثال قائم کی۔ وہ ہمیشہ ایک ایسے ‘سولجر’ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی ذاتی شکست کے باوجود ہار نہیں مانی اور کھیل کی روح کو زندہ رکھا۔