News

Henry and Root go top of the table after Oval heroics – ICC ٹیسٹ رینکنگز میں نئی اونچائیاں

Shanti Mukherjee · · 1 min read
Share

کرکٹ کی دنیا میں رینکنگز میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں کچھ کھلاڑیوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنائی ہے۔ حال ہی میں ہونے والے میچز کے بعد، کئی سٹار کھلاڑیوں نے آئی سی سی رینکنگز میں اوپر کی پوزیشنیں حاصل کی ہیں، جن میں نیوزی لینڈ کے فاسٹ باؤلر میٹ ہنری اور انگلینڈ کے تجربہ کار بلے باز جو روٹ نمایاں ہیں۔ ان دونوں کھلاڑیوں نے اپنی ٹیموں کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف فتح حاصل کی بلکہ انفرادی طور پر بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی یہ کامیابیاں کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک بہترین خبر ہیں اور مستقبل کے مقابلوں کے لیے سنسنی خیز امیدیں پیدا کرتی ہیں۔

میٹ ہنری: 36 سالہ خشک سالی کا خاتمہ اور عالمی نمبر 1 باؤلر

نیوزی لینڈ کے فاسٹ باؤلر میٹ ہنری نے کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا لیا ہے، جب وہ آئی سی سی ٹیسٹ باؤلرز کی درجہ بندی میں نمبر 1 پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے جسپریت بمراہ کے ساتھ 870 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ مشترکہ طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ یہ نیوزی لینڈ کے کسی باؤلر کے لیے 36 سال بعد حاصل ہونے والا ایک تاریخی کارنامہ ہے، اس سے قبل 1984 سے 1990 تک رچرڈ ہیڈلی اور 1947 میں جیک کووی نے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ ہنری نے اوول میں انگلینڈ کے خلاف ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے دوسرے ٹیسٹ میں اپنی غیر معمولی کارکردگی سے یہ مقام حاصل کیا۔ اس میچ میں، جس میں نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو 253 رنز سے شکست دے کر سیریز برابر کی، ہنری نے مجموعی طور پر 11 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی یہ پرفارمنس صرف ایک فتح کی وجہ نہیں بنی بلکہ اس نے سیریز کو ٹرینٹ برج میں شروع ہونے والے فیصلہ کن میچ تک بھی پہنچا دیا۔

ہنری نے اس میچ کی پہلی اننگز میں 80 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ دوسری اننگز میں انہوں نے صرف 29 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے کیریئر کی بہترین باؤلنگ پرفارمنسز میں سے ایک تھی۔ اس شاندار کارکردگی کے نتیجے میں وہ رینکنگز میں ایک ساتھ چھ درجے اوپر آئے اور سیدھے ٹاپ پر پہنچ گئے۔ ان کی درست لائن اور لینتھ، سوئنگ اور سیم موومنٹ نے انگلینڈ کے بلے بازوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا، اور وہ ہر سیشن میں اپنی ٹیم کے لیے کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ میٹ ہنری کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے ذاتی طور پر ایک بہت بڑا سنگ میل ہے بلکہ نیوزی لینڈ کرکٹ کے لیے بھی یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے، جو ان کے مضبوط باؤلنگ اٹیک کی عکاسی کرتا ہے۔

جو روٹ: ٹیسٹ بلے بازوں کے بادشاہ کی واپسی

انگلینڈ کے سابق کپتان اور موجودہ ٹیسٹ بلے باز جو روٹ نے ایک بار پھر آئی سی سی ٹیسٹ بلے بازوں کی درجہ بندی میں نمبر 1 پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اوول ٹیسٹ میں انگلینڈ کی شکست کے باوجود، روٹ نے اپنی بلے بازی سے شائقین کو متاثر کیا۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 46 اور دوسری اننگز میں 77 رنز کی اہم اننگز کھیلی، جس سے انہیں دو درجے کی ترقی ملی اور وہ اپنے ہم وطن ہیری بروک اور آسٹریلیا کے ٹریوس ہیڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹاپ پر پہنچ گئے۔ یہ 12ویں بار ہے جب جو روٹ نے ٹیسٹ بلے بازوں کی درجہ بندی میں سب سے اوپر کا مقام حاصل کیا ہے، جو ان کی مستقل مزاجی اور عالمی معیار کی بلے بازی کا ثبوت ہے۔

جو روٹ اپنی کلاسک تکنیک، صبر اور ہر قسم کی پچز پر رنز بنانے کی صلاحیت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی یہ واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انگلینڈ کو ان کی تجربہ کاری اور قائدانہ صلاحیتوں کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت وہ اپنے قریب ترین حریف سے پانچ پوائنٹس کی برتری پر ہیں، جو ان کی حالیہ شاندار فارم کی نشاندہی کرتا ہے۔ روٹ کا ٹیسٹ کرکٹ میں ایک بار پھر عروج پر پہنچنا نوجوان بلے بازوں کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح مستقل محنت اور لگن سے اعلیٰ سطح پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کی یہ کارکردگی انگلینڈ کے لیے آئندہ میچز میں مزید اعتماد اور استحکام لائے گی، خاص طور پر جب سیریز کا فیصلہ کن میچ قریب ہے۔

نیوزی لینڈ کے دیگر بلے بازوں کی رینکنگز میں ترقی

نیوزی لینڈ کے کئی دیگر بلے بازوں نے بھی انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے بعد اپنی رینکنگز میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔ یہ کھلاڑی اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد آئی سی سی رینکنگز میں اوپر کی طرف بڑھے ہیں۔

  • رچن رویندرا: انہوں نے 33 اور 76 رنز کی اننگز کھیل کر دو درجے کی ترقی حاصل کی اور اب وہ دسویں نمبر پر ہیں۔ رویندرا نے اپنی نوجوان صلاحیت اور میچ وننگ پرفارمنس سے سب کو متاثر کیا ہے۔
  • ڈیرل مچل: انہوں نے 44 اور 68 رنز بنا کر پانچ درجے ترقی کی اور سولہویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ مچل ایک قابل اعتماد مڈل آرڈر بلے باز ہیں جو دباؤ میں اچھی کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
  • گلین فلپس: ایک سنچری (100) اور 3 رنز کی اننگز کے بعد وہ آٹھ درجے کی ترقی کے ساتھ 31ویں نمبر پر ہیں۔ فلپس کی جارحانہ بلے بازی نے ٹیم کو ایک مضبوط پوزیشن میں لانے میں مدد کی۔
  • ہنری نکولس: 24 اور 121 رنز کی اننگز کے بعد انہوں نے 13 درجے کی چھلانگ لگائی اور 40ویں نمبر پر پہنچ گئے۔ نکولس کی یہ سنچری ایک اہم لمحے پر آئی اور ٹیم کی فتح میں کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔

ان کھلاڑیوں کی اجتماعی ترقی نیوزی لینڈ کی ٹیم کی گہرائی اور انفرادی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے، جو انہیں بین الاقوامی کرکٹ میں ایک مضبوط حریف بناتی ہے۔

ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگز میں تبدیلیاں

ٹیسٹ کرکٹ سے ہٹ کر، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگز میں بھی کچھ اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، جو حالیہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے نتائج کا نتیجہ ہیں۔

شبمن گل ون ڈے بلے بازوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر

بھارت اور افغانستان کے درمیان ون ڈے سیریز میں اپنی شاندار کارکردگی کے بعد، شبمن گل نے ون ڈے بلے بازوں کی درجہ بندی میں تین درجے کی ترقی حاصل کی اور اب وہ دوسرے نمبر پر براجمان ہیں۔ وہ اس وقت 791 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ مچل 815 پوائنٹس کے ساتھ ٹاپ پر ہیں۔ گل نے اس سیریز میں دو اننگز میں 84 ناٹ آؤٹ اور 154 رنز بنائے، جس میں بھارت نے سیریز 3-0 سے جیتی۔ ان کی یہ کارکردگی ان کی مستقل مزاجی اور بڑے سکور بنانے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ مستقبل میں نمبر 1 پوزیشن حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط دعویدار ہیں۔

بھارتی اور آسٹریلوی کھلاڑیوں کی ٹی ٹوئنٹی رینکنگز میں ترقی

بھارت کے باؤلرز میں، ارشدیپ سنگھ نے افغانستان کے خلاف دو باؤلنگ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے کے بعد 16 درجے کی چھلانگ لگائی اور 22ویں نمبر پر پہنچ گئے۔ ان کی یہ ترقی بھارت کے مضبوط باؤلنگ یونٹ میں ان کی اہمیت کو بڑھاتی ہے۔

آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز میں، آسٹریلیا کے کپتان مچل مارش نے ٹی ٹوئنٹی بلے بازوں کی درجہ بندی میں چار درجے کی ترقی حاصل کی اور نویں نمبر پر پہنچ گئے۔ انہوں نے سیریز میں 93 رنز بنائے، جس میں آخری میچ میں 60 رنز کی ایک اہم اننگز بھی شامل تھی۔ مارش کی جارحانہ بلے بازی اور قیادت نے آسٹریلیا کو سیریز میں فائدہ پہنچایا۔

آسٹریلیا کے باؤلرز میں، نیتھن ایلس نے ٹی ٹوئنٹی باؤلرز کی درجہ بندی میں تین درجے کی ترقی حاصل کی اور ساتویں نمبر پر پہنچ گئے۔ انہوں نے تین میچوں میں تین وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی یہ کارکردگی آسٹریلیا کے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں ان کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

مجموعی اثرات اور مستقبل کی توقعات

یہ رینکنگز میں تبدیلیاں کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی اور ان کی ٹیموں کے لیے ان کے اہم کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔ میٹ ہنری اور جو روٹ کی ٹاپ پوزیشنز پر واپسی اور دیگر کھلاڑیوں کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی کرکٹ میں مقابلہ کتنا سخت اور دلچسپ ہے۔ یہ کامیابیاں نہ صرف کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرتی ہیں بلکہ شائقین کو بھی مزید سنسنی خیز کرکٹ دیکھنے کی امید دلاتی ہیں۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے درمیان فیصلہ کن سیریز اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں ان کھلاڑیوں کی کارکردگی پر نظر رکھنا انتہائی دلچسپ ہو گا۔ یہ رینکنگز کھلاڑیوں کے لیے ایک محرک کا کام کرتی ہیں کہ وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں اور عالمی سطح پر اپنی ٹیموں کے لیے مزید کامیابیاں حاصل کریں۔

Shanti Mukherjee
Shanti Mukherjee

Shanti Mukherjee is a pioneering Indian sports journalist specializing in cricket. She is renowned for her sharp analysis and breaking gender barriers in the male-dominated field of sports media.