پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: ڈی آر ایس کی دو بڑی غلطیاں، شان مسعود کی قیادت پر سوالات
پاکستان کرکٹ کا ایک اور مایوس کن دن: ڈی آر ایس کی غلطیاں
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان ٹیم ایک بار پھر ناقص فیلڈ ججمنٹ اور خراب فیصلہ سازی کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے۔ اگرچہ مہمان ٹیم نے میچ کے آغاز میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا، لیکن کپتان شان مسعود اور ان کی ٹیم کی جانب سے ڈی آر ایس (DRS) کے استعمال میں کی گئی دو بڑی غلطیوں نے کھیل کا پانسہ پلٹ دیا۔
شاندار آغاز اور ابتدائی کامیابی
ٹاس جیت کر پاکستان نے پہلے بولنگ کا درست فیصلہ کیا اور ابتدائی اوورز میں ہی بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن اپ کو دباؤ میں لے لیا۔ محمد عباس نے میچ کی صرف دوسری گیند پر ہی محمود الحسن جوئے کو صفر پر پویلین بھیج دیا۔ اس کے بعد تنزید حسن نے کچھ مزاحمت دکھائی، لیکن وہ بھی زیادہ دیر تک کریز پر نہ ٹک سکے۔ خرم شہزاد کی شاندار گیند بازی نے مومن الحق کو بھی آؤٹ کر کے پاکستان کو ابتدائی غلبہ دلا دیا۔
ڈی آر ایس کی پہلی بڑی غلطی: مشفیق الرحیم کو زندگی
لنچ کے وقفے کے فوراً بعد، پاکستان کے پاس ایک سنہری موقع تھا کہ وہ بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن کو مزید لڑکھڑا دیتے۔ 28ویں اوور میں ساجد خان کی گیند پر مشفیق الرحیم نے ایک شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، لیکن گیند ان کے دستانوں کو چھو کر محمد رضوان کے پاس چلی گئی۔ میدان میں اپیل تو کی گئی، لیکن شان مسعود نے ریویو لینے سے گریز کیا۔ بعد میں ری پلے اور الٹرا ایج (UltraEdge) سے یہ واضح ہوا کہ گیند بلے سے ٹکرائی تھی، جس کا مطلب تھا کہ پاکستان نے ایک اہم وکٹ ضائع کر دی۔
تاریخ کا اعادہ: لٹن داس کو بھی ریویو نہ لے کر بچایا
پاکستان کی غلطیاں یہیں ختم نہیں ہوئیں۔ 61ویں اوور میں خرم شہزاد کی گیند پر لٹن داس نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہے۔ اس بار محمد رضوان نے دلچسپی دکھائی، لیکن خرم شہزاد خود قائل نہیں تھے۔ شان مسعود نے ایک بار پھر ریویو نہ لینے کا فیصلہ کیا، جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔ الٹرا ایج پر واضح سپائیک موجود تھا، اور لٹن داس کو دوبارہ کریز پر رہنے کا موقع مل گیا۔
لٹن داس کی شاندار اننگز
ان غلطیوں کا خمیازہ پاکستان کو مہنگا پڑا۔ ایک وقت پر بنگلہ دیش کی ٹیم 116 رنز پر 6 وکٹیں گنوا چکی تھی اور شدید دباؤ میں تھی۔ تاہم، لٹن داس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 159 گیندوں پر 126 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اس مزاحمت نے بنگلہ دیش کو مشکل سے نکال کر 278 رنز تک پہنچا دیا، جس نے پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر توازن بنگلہ دیش کے حق میں کر دیا۔
نتیجہ اور تنقید
اس میچ میں پاکستان کی فیلڈ پلیسنگ اور بولنگ تو اچھی تھی، مگر ڈی آر ایس کے حوالے سے کپتان اور ٹیم کے اعتماد میں کمی واضح دکھائی دی۔ جب آپ کے پاس ٹیکنالوجی موجود ہو اور آپ پھر بھی دو واضح مواقع گنوا دیں، تو یہ ٹیم کی ‘گیم اویئرنس’ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ شائقین اور ماہرین اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان کی ٹیم اپنی ان غلطیوں سے سبق سیکھ کر اگلے سیشنز میں بہتری لائے گی یا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
