Cricket News

محسن نقوی کا بھارت جانے سے انکار: آئی سی سی اجلاس میں شرکت پر پی سی بی کا باضابطہ اعلان

Shanti Mukherjee · · 1 min read
Share

آئی سی سی کے دعوت نامے پر پی سی بی کا ردعمل اور محسن نقوی کا فیصلہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کے میدان میں اور میدان سے باہر کشیدگی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ کرکٹ تعلقات معطل ہیں، اور اب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی کی جانب سے بھارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے ایک سخت موقف اپنایا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک باضابطہ نوٹس موصول ہوا تھا، جس میں بورڈ کے نمائندے کو بھارت میں ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس اجلاس میں دیگر کرکٹ بورڈز کے ڈائریکٹرز بھی شریک ہوں گے۔ تاہم، بھارت کی جانب سے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے پاکستان کا سفر کرنے سے انکار کے بعد، پی سی بی نے بھی بھارت کے لیے کسی بھی کرکٹ سے متعلقہ سرگرمی کے لیے وہاں جانے کے خلاف سخت گیر موقف برقرار رکھا ہوا ہے۔

محسن نقوی کی ورچوئل شرکت: پی سی بی کا باضابطہ بیان

آئی سی سی کا یہ اہم اجلاس 30 اور 31 مئی کو بھارت کے شہر احمد آباد میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ چونکہ یہ ڈائریکٹرز کا اجلاس ہے، اس لیے پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی تھی۔ تاہم، پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ ان کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق، محسن نقوی اس اجلاس میں شرکت تو کریں گے لیکن وہ ذاتی طور پر بھارت نہیں جائیں گے۔ اس کے بجائے وہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس کا حصہ بنیں گے۔ جبکہ دیگر ممالک کے تمام نمائندوں کی جانب سے ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سفارت کاری مکمل طور پر جمود کا شکار ہے۔

پاک بھارت کرکٹ تعلقات میں بڑھتی ہوئی دراڑیں

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں یہ تلخی نئی نہیں ہے۔ اکتوبر 2023 میں پاکستان کی مینز ٹیم نے ورلڈ کپ کے لیے احمد آباد کا دورہ کیا تھا جہاں انہیں بھارت کے ہاتھوں 7 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دورے کے بعد پی سی بی کو یہ امید تھی کہ بی سی سی آئی اور بھارتی حکومت اپنی ٹیم کو 2025 کے آئی سی سی ایونٹ کے لیے پاکستان بھیجنے کی اجازت دیں گے۔

لیکن بھارت کے انکار کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ پی سی بی کو اپنے میچز دبئی منتقل کرنے پڑے جہاں بالآخر بھارت نے ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس کے بعد سے سرحد پار تناؤ اور دیگر سیاسی وجوہات نے دونوں بورڈز کے درمیان خلیج کو مزید بڑھا دیا ہے۔

تنازعات اور احتجاجی لہر

گزشتہ کچھ عرصہ میں دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ کے حوالے سے کئی متنازع واقعات رونما ہوئے ہیں۔ویمنز ایمرجنگ ایشیا کپ 2025 کی منسوخی اور مینز ایشیا کپ کے دوران کھلاڑیوں کے غیر مناسب رویے نے ماحول کو مزید مکدر کیا۔ رپورٹ کے مطابق محسن نقوی نے ایک موقع پر بھارت کو ٹرافی دینے سے بھی انکار کر دیا تھا جب بھارتی حکام نے پی سی بی چیف سے اسے وصول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی تھی۔

مزید برآں، پاکستان نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا کوئی بھی میچ بھارت میں نہیں کھیلا اور ان کے تمام میچز سری لنکا میں شیڈول کیے گئے تھے۔ پاکستان نے ایک موقع پر بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں وہ کولمبو میں کھیلے اور شکست کھا گئے۔

احمد آباد اجلاس کا ایجنڈا اور مستقبل کے فیصلے

دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی سی سی کا یہ اجلاس پہلے قطر کے شہر دوحہ میں شیڈول تھا، لیکن مشرق وسطیٰ کی جنگی صورتحال کے باعث اسے بھارت منتقل کر دیا گیا۔ اس اجلاس میں کئی اہم معاملات زیر بحث آئیں گے جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

  • ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیاں۔
  • نئی ٹیموں کی شمولیت: زمبابوے، آئرلینڈ اور افغانستان کو مستقبل قریب میں چیمپئن شپ کا حصہ بنانا۔
  • دو ٹیر کا نظام: ڈبلیو ٹی سی کو دو ٹیرز (6، 6 ٹیموں) میں تقسیم کرنے پر غور تاکہ یکطرفہ نتائج سے بچا جا سکے۔

آئی سی سی کا سالانہ جنرل اجلاس بھی رواں سال کے آخر میں ایڈنبرا میں منعقد ہونا ہے، جو انگلینڈ میں ہونے والے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ہوگا۔ پی سی بی کا حالیہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ معاملات میں اب کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہیں جب تک کہ بھارت کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے نہ آئے۔

Shanti Mukherjee
Shanti Mukherjee

Shanti Mukherjee is a pioneering Indian sports journalist specializing in cricket. She is renowned for her sharp analysis and breaking gender barriers in the male-dominated field of sports media.