Cricket News

ارشدیپ سنگھ تنازعہ: پنجاب کنگز کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر تنقید

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

ارشدیپ سنگھ اور سوشل میڈیا کا تنازعہ: کیا اصل حقیقت ہے؟

کرکٹ کی دنیا میں سوشل میڈیا کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن اکثر یہ پلیٹ فارمز کھلاڑیوں کے لیے مشکلات کا باعث بھی بنتے ہیں۔ حال ہی میں پنجاب کنگز کے فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں اور کچھ متنازعہ بیانات کے باعث شدید تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ شائقین کی جانب سے ان کے رویے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں جس نے فرنچائز کو بھی وضاحت دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر تنقید اور بی سی سی آئی کی ہدایت

ارشدیپ سنگھ ماضی میں بھی اپنی سوشل میڈیا ویڈیوز کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔ اس سے قبل بی سی سی آئی نے انہیں بلاگنگ روکنے کی ہدایت کی تھی، خاص طور پر اس وقت جب ایک کلپ میں یوزویندر چاہل کو طیارے کے اندر ویپنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ ارشدیپ کو آئی پی ایل کے دوران میچز اور سفر کی ویڈیوز شیئر کرنے پر حکام کی جانب سے تحفظات کا سامنا رہا ہے۔

مزید برآں، ممبئی انڈینز کے خلاف میچ سے قبل تلک ورما کے بارے میں ان کے ایک تبصرے کو نسل پرستانہ قرار دیا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ان پر خوب تنقید کی۔ ایک مداح نے یہاں تک کہہ دیا کہ ارشدیپ کو پنجاب کنگز کا نام استعمال کرنا بند کر دینا چاہیے، جس کے جواب میں ارشدیپ کا ردعمل بھی کافی سخت رہا۔

پنجاب کنگز کی مینجمنٹ کا موقف

رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف میچ سے قبل ہونے والی پریس کانفرنس میں ایک غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آئی۔ پنجاب کنگز کی جانب سے کسی کھلاڑی یا سپورٹ اسٹاف کے بجائے ہیڈ آف اسپورٹس سائنس، اینڈریو لیپس میڈیا کے سامنے آئے۔ انہوں نے ارشدیپ کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کی ان چیزوں پر توجہ نہیں دیتے۔

لیپس نے واضح کیا: ‘میں سوشل میڈیا فالو نہیں کرتا۔ میں جانتا ہوں کہ پس پردہ کچھ باتیں چل رہی ہیں، لیکن ارشدیپ کا رویہ بالکل ٹھیک ہے۔ جو کچھ بھی کہا یا لکھا جا رہا ہے، اس کا اس کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ وہ میدان میں اپنا سو فیصد دیتے ہیں۔’

کھلاڑیوں کی سوشل میڈیا پر مصروفیت: ایک بڑا چیلنج

اینڈریو لیپس نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ آج کل کے کرکٹرز کا زیادہ وقت موبائل فونز پر گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا: ‘میں پرانے دور کا آدمی ہوں اور سوشل میڈیا پر زیادہ وقت نہیں گزارتا۔ آپ ٹیم بسوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ کھلاڑی ہر وقت اپنے فون میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ آپس میں بات چیت نہیں کرتے، اور یہ ایک مسئلہ ہے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی کا کھلاڑیوں سے فون واپس لینے کا فیصلہ درست تھا۔ لیپس کے مطابق، جب ٹیم ماحول میں کھلاڑی موجود ہوتے ہیں تو وہ بات چیت کرتے ہیں، لیکن جب وہ ماحول سے باہر جاتے ہیں تو مسائل جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ کھلاڑیوں کی ذہنی اور سماجی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

نتیجہ

اگرچہ ارشدیپ سنگھ کے حوالے سے کافی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں، لیکن پنجاب کنگز کی ٹیم مینجمنٹ اپنے کھلاڑی کے دفاع میں کھڑی ہے۔ اینڈریو لیپس کے مطابق ارشدیپ ڈریسنگ روم میں ایک خوش مزاج اور پرسکون کردار کے حامل ہیں، جو کہ ٹیم کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔ تاہم، یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیتا ہے کہ جدید دور کے کرکٹرز کو اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور ذاتی رویے میں توازن کیسے قائم رکھنا چاہیے۔