Cricket News

IPL 2026: متھیشا پتھیرانا کے کیریئر کا مایوس کن آغاز، کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بڑا دھچکا

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

آئی پی ایل 2026: متھیشا پتھیرانا کی واپسی کا خواب ادھورا

کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے مداحوں کے لیے 16 مئی کا دن ایک مخلوط جذبات کا دن ثابت ہوا۔ ایڈن گارڈنز، کولکتہ میں گجرات ٹائٹنز (GT) کے خلاف کھیلے گئے آئی پی ایل 2026 کے اہم میچ میں ٹیم کے مہنگے ترین کھلاڑی متھیشا پتھیرانا کا ڈیبیو ہوا، لیکن یہ ڈیبیو کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ پتھیرانا، جنہیں 18 کروڑ روپے کی بھاری رقم کے عوض ٹیم میں شامل کیا گیا تھا، صرف 8 گیندیں کروانے کے بعد پنڈلی کی انجری (calf injury) کے باعث میدان سے باہر ہو گئے۔

انجری کی طویل تاریخ اور بدقسمتی

متھیشا پتھیرانا کی بدقسمتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران سری لنکا اور بھارت میں پنڈلی کی انجری کا شکار ہوئے تھے۔ اس انجری نے انہیں آئی پی ایل کے پہلے 11 میچوں سے دور رکھا۔ مداحوں کو امید تھی کہ ان کی واپسی سے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کا بولنگ اٹیک مزید مضبوط ہو جائے گا، لیکن ان کا میدان میں قیام محض چند منٹ تک محدود رہا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں کھلاڑی کو تکلیف میں دیکھا جا سکتا تھا، جو ٹیم انتظامیہ اور شائقین کے لیے ایک پریشان کن منظر تھا۔

کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے پلے آف کی دوڑ

تین بار کی چیمپئن کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے یہ سیزن انتہائی اہم ہے۔ پلے آف میں اپنی جگہ یقینی بنانے کے لیے ٹیم کو مسلسل تین میچ جیتنے کی ضرورت ہے، جن میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف یہ میچ بھی شامل ہے۔ ایسے میں پتھیرانا جیسے اہم بولر کا انجرڈ ہونا ٹیم کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ ان کی فٹنس اب ٹیم کے لیے سب سے بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

بیٹنگ میں شاندار کارکردگی اور فیلڈنگ کی غلطیاں

اگرچہ بولنگ کے دوران انجری کا واقعہ افسوسناک تھا، لیکن کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی بیٹنگ لائن اپ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ فن ایلن نے 35 گیندوں پر 93 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد سراج کی جانب سے ان کا کیچ چھوڑنے کا خمیازہ گجرات ٹائٹنز کو بھگتنا پڑا۔ ایلن نے 10 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے گجرات کے بولرز کو بے بس کر دیا۔

دوسری جانب انکرش رگھوونشی (82 ناٹ آؤٹ) اور کیمرون گرین (52 ناٹ آؤٹ) نے تیسری وکٹ کے لیے 108 رنز کی شراکت داری قائم کی، جس سے کے کے آر کا اسکور 247 رنز تک پہنچ گیا۔ گجرات ٹائٹنز کے فیلڈرز نے پورے میچ میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مجموعی طور پر چار اہم کیچز ڈراپ کیے۔ شبمن گل کا ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا، کیونکہ ان کے بولرز وکٹ لینے میں مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔

نتیجہ اور مستقبل کے چیلنجز

میچ کے دوران کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے تیز رفتاری سے رنز بنائے، ٹیم 9 اوورز میں 100 اور 17 اوورز میں 200 رنز تک پہنچ گئی۔ اگرچہ فن ایلن اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے اور راشد خان کی گیند پر سائی کشور کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے، لیکن ٹیم کا مجموعی اسکور کافی مضبوط رہا۔

اب تمام تر توجہ متھیشا پتھیرانا کی طبی رپورٹس پر ہے۔ کولکتہ کی ٹیم انتظامیہ کو امید ہے کہ ان کی انجری زیادہ سنگین نہیں ہوگی، تاہم آئی پی ایل کے اس مرحلے پر کسی بھی اہم کھلاڑی کا باہر ہونا ٹیم کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گا۔ شائقین صرف یہی دعا کر رہے ہیں کہ پتھیرانا جلد صحت یاب ہو کر میدان میں واپسی کریں، کیونکہ ان کی موجودگی کے بغیر کے کے آر کے لیے ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل مشکل ہو سکتے ہیں۔