ایکانش سنگھ کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی: ڈرہم مشکلات کا شکار
ایکانش سنگھ کی آل راؤنڈ چمک، ڈرہم کی مشکلات برقرار
کاؤنٹی چیمپیئن شپ کے روتھیزے مقابلے میں، کینٹ کے ایکانش سنگھ نے بلے اور گیند دونوں سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈرہم کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔ بیکنہم میں کھیلے جانے والے اس میچ کے دوسرے دن بارش کی وجہ سے کھیل وقت سے پہلے ختم کر دیا گیا، تب تک ڈرہم پانچ وکٹوں کے نقصان پر 173 رنز بنا چکا تھا اور کینٹ کے 523 رنز کے مجموعی سکور سے 350 رنز پیچھے تھا۔ ڈرہم کو فالو آن سے بچنے کے لیے ابھی بھی 200 رنز درکار ہیں۔
کینٹ کی اننگز: ایکانش کا ناقابلِ شکست چھکا اور قیمتی شراکت
دوسرے دن کا آغاز ڈرہم کے لیے امید افزا تھا جب انہوں نے صبح کے پہلے دو اوورز میں تین وکٹیں حاصل کر کے کینٹ کو دباؤ میں لایا۔ ڈرہم کے فاسٹ باؤلر میتھیو پوٹس نے اپنی شاندار باؤلنگ سے 92 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 300 ویں وکٹ کا سنگ میل عبور کیا۔ انہوں نے کینٹ کے اوپنر بین ڈاکنز کو 180 کے سکور پر پویلین واپس بھیجا، جو کہ ان کے کل کے سکور میں کوئی اضافہ نہ کر سکے۔ پوٹس نے کرس بینجمن کو 7 رنز پر اور میٹ ملنس کو 4 رنز پر آؤٹ کیا۔ یہ تیزی سے گرنے والی وکٹیں ڈرہم کے لیے ایک بہترین آغاز تھیں۔
تاہم، ایکانش سنگھ نے اس دباؤ کا مقابلہ کیا اور 66 رنز کی ایک ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر کینٹ کو 523 کے ایک بڑے مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کیتھ ڈجین کے ساتھ مل کر 108 رنز کی ایک قیمتی سنچری شراکت قائم کی، جس نے میچ کا رخ کینٹ کے حق میں موڑ دیا۔ ایکانش 44 رنز پر تھے جب انہوں نے بین اسٹوکس کی گیند پر ایک غلط شاٹ کھیلی اور کیچ آؤٹ ہو گئے، لیکن امپائر نے اسے نو بال قرار دے دیا، جس سے انہیں ایک اہم زندگی ملی۔ اس کے بعد انہوں نے کالم پارکنسن کی گیند پر سنگل لے کر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ لنچ سے قبل ڈجین 44 رنز بنا کر پوٹس کی گیند پر آؤٹ ہوئے، اس وقت کینٹ کا سکور 8 وکٹوں پر 497 تھا۔ جیمز ٹیلر نے 10 رنز بنائے اور وہ بھی پوٹس کا شکار بنے۔ آخر میں میٹ پارکنسن پوٹس کی گیند پر بیڈنگھم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے اور کینٹ کی اننگز 523 رنز پر تمام ہوئی۔ ایکانش نے کالم پارکنسن کو چھکا بھی لگایا جو ان کی جارحانہ بلے بازی کا ثبوت تھا۔
ڈرہم کا لڑکھڑاتا آغاز اور وکٹوں کا گرنا
کینٹ کے بڑے مجموعے کے جواب میں ڈرہم کی اننگز کا آغاز انتہائی خراب رہا۔ انگلینڈ کے نئے اوپنر، ایمیلیو گے، میٹ ملنس کی گیند پر صفر پر آؤٹ ہو گئے، جب گیند ان کے مڈل اسٹمپ سے ٹکرا گئی۔ یہ ڈرہم کو لگنے والا پہلا جھٹکا تھا۔ اس کے بعد ایکانش سنگھ نے اپنی آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیوڈ لیس کو 31 رنز پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا، اور پھر ول روڈز کو 19 رنز پر گلی میں ڈجین کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔ روڈز بین میک کینی کے متبادل کے طور پر کھیل رہے تھے، جو نیٹ پریکٹس کے دوران ٹخنے کی چوٹ کا شکار ہوئے تھے۔
جب گراہم کلارک 5 رنز بنا کر ڈجین کی گیند پر آؤٹ ہوئے تو ڈرہم کا سکور 4 وکٹوں پر 88 رنز ہو چکا تھا، اور ٹیم شدید مشکلات کا شکار نظر آ رہی تھی۔ اس صورتحال میں سابق کینٹ وکٹ کیپر اولی رابنسن بلے بازی کے لیے آئے، جبکہ بین اسٹوکس جو پہلے دن طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے پریشان تھے، بعد میں آئے۔
بیڈنگھم کی مزاحمت اور بارش کا تعطل
ڈیوڈ بیڈنگھم نے ایکانش کی گیند پر چھکا لگا کر اور پھر ڈجین کی گیند پر کورز کے ذریعے چوکا لگا کر اپنی نصف سنچری مکمل کی، جس سے ڈرہم کو کچھ استحکام ملا۔ چائے کے وقفے تک ڈرہم کا سکور 4 وکٹوں پر 121 رنز تھا۔ تاہم، وقفے کے دوران روشنی کی صورتحال خراب ہونے لگی، یہاں تک کہ کینٹ کو ہدایت کی گئی کہ انہیں اسپنرز سے باؤلنگ کرانی پڑے گی۔ طوانڈا میوئے نے بیڈنگھم کے بلے کا کنارہ لیا لیکن گیند بینجمن کے کندھے سے ٹکرا کر محفوظ جگہ پر چلی گئی۔
جب روشنی بہتر ہوئی تو رابنسن نے میٹ ملنس کی ایک باہر جاتی گیند کا تعاقب کیا اور 27 رنز بنا کر ڈجین کے ہاتھوں گلی میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ یہ ڈرہم کی پانچویں وکٹ تھی۔ اس کے فوراً بعد شام 5 بج کر 40 منٹ پر بارش شروع ہو گئی اور کھیل کو روک دیا گیا۔ جب کھیل روکا گیا تو 15.3 اوورز کا کھیل باقی تھا۔ ڈرہم ابھی بھی کینٹ سے کافی پیچھے ہے اور اسے فالو آن سے بچنے کے لیے ایک بڑی شراکت کی ضرورت ہوگی۔ ایکانش سنگھ کی آل راؤنڈ کارکردگی نے کینٹ کو اس میچ میں مضبوط برتری دلا دی ہے اور وہ تیسرے دن ڈرہم کو جلد آؤٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔
