Cricket News

شبمن گل کا اپنی ٹیم پر سخت غصہ: گجرات ٹائٹنز کی شکست اور پلے آف کی صورتحال

Snehe Roy · · 1 min read
Share

شکست کے بعد شبمن گل کا سخت لہجہ: ‘ہم جیت کے مستحق نہیں تھے’

کبھی کبھی ایک کپتان کو ڈریسنگ روم میں چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ چند سچے اور کھرے الفاظ ہی ٹیم کو پیغام دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ آئی پی ایل 2026 کے ایک اہم میچ میں جب کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) نے گجرات ٹائٹنز (GT) کو 29 رنز سے شکست دی، تو شبمن گل کا رویہ کچھ ایسا ہی تھا۔ اس شکست نے نہ صرف گجرات کے مداحوں کو مایوس کیا بلکہ کپتان کو بھی یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ ان کی ٹیم اس کارکردگی کے ساتھ کامیابی کی حقدار نہیں تھی۔

Shubman Gill and Kagiso Rabada for GT

گجرات ٹائٹنز اس میچ میں اس ارادے کے ساتھ میدان میں اتری تھی کہ ایک جیت انہیں پلے آف میں جگہ دلا دے گی۔ لیکن میدان میں ان کی فیلڈنگ نے تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ میچ کے دوران مجموعی طور پر چار کیچز گرائے گئے، جن میں سے تین تو اتنے آسان تھے کہ کوئی بھی پروفیشنل کھلاڑی انہیں چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ شبمن گل نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا: “ایسے میچ میں تین آسان کیچز چھوڑنے کے بعد، میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس جیت کے مستحق تھے۔”

وہ چار غلطیاں جو گجرات کو مہنگی پڑیں

گجرات ٹائٹنز کی فیلڈنگ اس وقت بکھرتی ہوئی نظر آئی جب اسے سب سے زیادہ مضبوط رہنے کی ضرورت تھی۔ کے کے آر کے بلے بازوں نے ان غلطیوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ فیلڈنگ میں کوتاہیوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:

  • فن ایلن کو دو زندگیوں کا ملنا: کیوی اوپنر فن ایلن گجرات کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوئے۔ انہیں پہلا موقع اس وقت ملا جب وہ صرف 14 رنز پر تھے، جیسن ہولڈر ایک مشکل کیچ پکڑنے میں ناکام رہے۔
  • محمد سراج کی بڑی غلطی: فن ایلن جب 33 رنز پر تھے، تو محمد سراج جیسے تجربہ کار فیلڈر نے لانگ آن پر ایک بالکل آسان کیچ گرا دیا۔ یہ وہ موڑ تھا جہاں سے میچ گجرات کے ہاتھوں سے نکلنا شروع ہوا۔
  • فن ایلن کی تباہ کن اننگز: ان دو مواقعوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فن ایلن نے صرف 35 گیندوں پر 93 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، جس نے کے کے آر کے اسکور کو بلندیوں تک پہنچا دیا۔
  • کیمرون گرین اور انگکرش رگھوونشی کے ڈراپ کیچز: ارشد خان نے کیمرون گرین کا کیچ 23 رنز پر چھوڑا، جبکہ واشنگٹن سندر نے فائن لیگ پر انگکرش رگھوونشی کا موقع ضائع کیا۔ یہ دونوں بلے باز ناقابل شکست رہے اور نصف سنچریاں اسکور کیں۔

تاریخ کا سب سے بڑا اسکور اور گجرات کی جوابی کوشش

ان غلطیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مقررہ اوورز میں 247 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ ترتیب دیا، جو آئی پی ایل کی تاریخ میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف بنایا گیا سب سے بڑا اسکور ہے۔ 248 رنز کے ہدف کے تعاقب میں گجرات کے بلے بازوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے 218/4 کا معقول اسکور بنایا، جو کسی بھی عام میچ میں ایک جیتنے والا اسکور ہو سکتا تھا، لیکن اس ہائی اسکورنگ میچ میں یہ ناکافی ثابت ہوا۔

شبمن گل نے بیٹنگ کی تعریف تو کی لیکن فیلڈنگ کو ہی اصل مجرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “پچ اچھی تھی، کچھ گیندیں رک کر آ رہی تھیں۔ ہم نے اسکور کے تعاقب میں اچھی بیٹنگ کی، لیکن ہماری فیلڈنگ بہت بہتر ہو سکتی تھی۔” گل نے اپنی ٹیم کو یاد دلایا کہ گجرات ٹائٹنز اپنے اعلیٰ معیار کے لیے جانی جاتی ہے اور اس میچ میں وہ اس معیار کے قریب بھی نہیں تھے۔

پلے آف کی صورتحال: گھبرانے کی ضرورت نہیں

اگرچہ اس شکست نے پلے آف کی آفیشل تصدیق کو تھوڑا مؤخر کر دیا ہے، لیکن شبمن گل پرسکون نظر آئے۔ انہوں نے اس شکست کو ایک ‘ویک اپ کال’ کے طور پر لیا۔ ان کا ماننا ہے کہ “ایسا برا دن کوالیفائرز کے بجائے ابھی آنا بہتر ہے تاکہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ سکیں۔”

پوائنٹس ٹیبل پر نظر ڈالی جائے تو گجرات ٹائٹنز اب بھی 16 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے اور ان کی پوزیشن کافی مستحکم ہے۔ ان کا اگلا مقابلہ 21 مئی کو احمد آباد میں چنئی سپر کنگز (CSK) کے خلاف ہوگا۔ اگر گجرات اپنی فیلڈنگ کی خامیوں کو دور کر لیتی ہے، تو وہ ٹورنامنٹ کے آخری مراحل میں اب بھی سب سے خطرناک ٹیم ثابت ہو سکتی ہے۔ کپتان گل کی یہ کھری باتیں یقیناً ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے ایک پیغام ہیں کہ اب غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.