اباس اور ڈل نے لنکاشائر کو تباہ کیا، مونٹگمری نے ڈربیشائر کی برتری مضبوط کی – Abbas, Dal wreck Lancashire before Montgomery cements Derbyshire advantage
چیسٹرفیلڈ کے دلکش کوئینز پارک گراؤنڈ میں راٹھسائی کاؤنٹی چیمپئن شپ ڈویژن ٹو کے ایک اہم مقابلے کے افتتاحی دن، کرکٹ کے شائقین نے ایک سنسنی خیز مقابلہ دیکھا جہاں گیند اور بلے کی دلچسپ کشمکش جاری رہی۔ اس دن کی خاص بات Abbas, Dal wreck Lancashire before Montgomery cements Derbyshire advantage تھی۔ لنکاشائر کی بیٹنگ لائن اپ، جو گزشتہ ہفتے کینٹ کے ہاتھوں 87 رنز پر آؤٹ ہو کر مشکلات کا شکار تھی، آج بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں ناکام رہی اور ڈربیشائر کے باؤلرز کے سامنے سستے میں ڈھیر ہو گئی۔ ایک چیلنجنگ پچ پر، جہاں باؤلرز کو بھرپور مدد مل رہی تھی، لنکاشائر صرف 161 رنز بنا سکی۔
دن کے اختتام پر، ڈربیشائر نے میتھیو مونٹگمری کی شاندار بلے بازی کی بدولت 197 کے مجموعی سکور پر 5 وکٹیں گنوا کر 36 رنز کی قیمتی برتری حاصل کر لی۔ یہ ایک ایسا دن تھا جہاں تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، اور میچ کے آئندہ دنوں کے لیے ایک دلچسپ بنیاد فراہم کی۔
لنکاشائر کی بیٹنگ کا انہدام: عباس اور ڈل کا تباہ کن سپیل
جب ڈربیشائر کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا، تو کوئینز پارک کی ہری بھری پچ پر ان کے باؤلرز کو بھرپور مدد مل رہی تھی۔ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر محمد عباس اور انوج ڈل نے لنکاشائر کے بلے بازوں کو کوئی موقع نہیں دیا۔ عباس نے اپنے پہلے ہی سپیل میں لنکاشائر کے دونوں اوپنرز کو پویلین واپس بھیج کر ٹیم کو ابتدائی جھٹکے دیے۔ کیٹن جیننگز، جو صرف تین رنز بنا کر بین ایچیسن کے ہاتھوں دوسری سلپ پر کیچ آؤٹ ہوئے، ان کے بعد مائیکل جونز بھی عباس کی اندر آتی گیند پر بولڈ ہو گئے، اس طرح عباس نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 888ویں وکٹ حاصل کی۔
لنکاشائر کے لیے حالات مزید خراب ہو گئے جب جوش بوہنن نے مڈ آف پر ایک آسان کیچ تھما دیا، اور اس کے چار اوورز بعد آسٹریلوی بلے باز مارکس ہیرس بھی پویلین لوٹ گئے۔ ہیرس نے انوج ڈل کے پہلے پانچ گیندوں پر تین چوکے لگائے تھے، لیکن ڈل نے آخری بازی جیتی جب انہوں نے ہیرس کی آف سٹمپ اڑا دی۔ ڈل، جو اپریل میں ٹخنے کی چوٹ کے بعد اپنا پہلا میچ کھیل رہے تھے، نے اپنی فٹنس اور فارم کا شاندار مظاہرہ کیا۔
ڈربیشائر کی مضبوط باؤلنگ اور لنکاشائر کی جدوجہد
بیشک پچ پر باؤلرز کے لیے بہت کچھ تھا، لیکن لیام لیونگسٹون اپنی وکٹ گنوانے کا الزام حالات پر نہیں لگا سکتے تھے جب انہوں نے ایچیسن کی گیند پر ایک بڑی ڈرائیو کھیلتے ہوئے کنارہ دے دیا۔ بین ایچیسن، جنہوں نے میچ سے قبل اپنی کاؤنٹی کیپ حاصل کی تھی، نے مزید جشن کا موقع دیا جب انہوں نے جو مورز کو بولڈ کر کے لنکاشائر کو 74 کے سکور پر 6 وکٹوں کے نقصان پر پہنچا دیا۔ اس موقع پر لنکاشائر کی ٹیم گہرے بحران میں تھی۔
ہیری سنگھ اور جارج بالڈرسن نے لنچ تک سکور کو تین ہندسوں تک پہنچا کر کچھ مزاحمت کی، لیکن ان کی شراکت بھی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ انوج ڈل نے اپنی شاندار باؤلنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ان دونوں کو چار گیندوں کے وقفے سے آؤٹ کر دیا، جس سے لنکاشائر کی ایک بڑی بازیابی کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ بالڈرسن نے 37 رنز بنا کر لنکاشائر کی اننگز میں سب سے زیادہ سکور کیا۔ آخر میں، مچل سٹینلی بھی روری ہائیڈن کی گیند پر ایک بڑا سوئنگ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے۔ لنکاشائر کی پوری ٹیم 161 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی، جس میں محمد عباس اور انوج ڈل دونوں نے 49 رنز دے کر 3، 3 وکٹیں حاصل کیں۔ جیمز اینڈرسن نے عباس کو پویلین کی رسیوں تک ڈرائیو کر کے کچھ پوائنٹس حاصل کیے، لیکن ان کا بلے سے زیادہ کچھ نہ ہو سکا۔
ڈربیشائر کا جواب: مونٹگمری کی شاندار اننگز
لنکاشائر کو سستے میں آؤٹ کرنے کے بعد، ڈربیشائر نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز کیا۔ مچل سٹینلی نے اپنے پہلے ہی اوور میں ہیری کیم کو وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ کر کے لنکاشائر کو ابتدائی کامیابی دلائی، لیکن ڈربیشائر جیمز اینڈرسن کے ابتدائی سپیل سے بچنے میں کامیاب رہی۔ بالڈرسن نے لوئس ریس کو پہلی سلپ پر ایک اچھی کیچ کے ذریعے آؤٹ کیا، جس سے ڈربیشائر 75 رنز پر 2 وکٹوں کے نقصان پر چائے کے وقفے پر پہنچ گئی۔
میتھیو مونٹگمری نے ڈربیشائر کی اننگز کو سنبھالا۔ انہوں نے محتاط دفاع اور کنٹرولڈ جارحیت کا بہترین امتزاج پیش کرتے ہوئے شاندار بلے بازی کی۔ ان کی 50 رنز کی اننگز میں 10 چوکے شامل تھے، جو لنکاشائر کی باؤلنگ کی عدم مستقل مزاجی کو اجاگر کر رہے تھے۔ کیلب جیول بھی شروع میں کچھ اچھے شاٹس کھیل رہے تھے، لیکن وہ سٹینلی کی گیند پر پیچھے جا کر بولڈ ہو گئے۔ مارٹن اینڈرسن بھی سستے میں آؤٹ ہو گئے، جب وہ بوہنن کی گیند پر آگے بڑھتے ہوئے آؤٹ ہوئے۔
مونٹگمری کی برتری کو مستحکم کرنے والی اننگز
مونٹگمری اپنی بہترین فارم میں نظر آ رہے تھے اور انہوں نے لنکاشائر کے باؤلرز کو پریشان کیے رکھا۔ انہوں نے مختلف شاٹس کھیلے اور باؤنڈری حاصل کرتے رہے، جس سے ڈربیشائر کے سکور بورڈ میں تیزی آتی گئی۔ ان کی 86 رنز کی اننگز نے ڈربیشائر کو ایک مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ وہ دن کے اختتام سے قبل اس وقت آؤٹ ہوئے جب ٹیم کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ دن کے آخری لمحات میں دو مزید وکٹیں گرنے سے لنکاشائر کے حوصلے تھوڑے بلند ہوئے، لیکن ڈربیشائر پھر بھی 197 رنز پر 5 وکٹوں کے نقصان پر 36 رنز کی برتری کے ساتھ دن کا اختتام کرنے میں کامیاب رہی۔
خراب روشنی کی وجہ سے کھیل وقت سے پہلے ختم ہو گیا، جس نے لنکاشائر کو مزید وکٹیں لینے کا موقع نہیں دیا۔ ڈربیشائر کے لیے یہ ایک کامیاب دن تھا، اور اب وہ دوسرے دن وین میڈسن کے ساتھ اننگز شروع کرنے والے ہیں، جو تجربہ کار بلے باز ہیں۔ ڈربیشائر کو یقین ہے کہ وہ ایک بڑی برتری حاصل کر کے لنکاشائر پر مزید دباؤ ڈال سکیں گے۔
آنے والے دنوں کا منظر
اس طرح، چیسٹرفیلڈ میں راٹھسائی کاؤنٹی چیمپئن شپ ڈویژن ٹو کا افتتاحی دن ایکشن اور ڈرامے سے بھرپور رہا۔ محمد عباس اور انوج ڈل کی شاندار باؤلنگ نے لنکاشائر کو بری طرح متاثر کیا، جبکہ میتھیو مونٹگمری کی مضبوط بلے بازی نے ڈربیشائر کو ایک برتری حاصل کرنے میں مدد کی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے، اور آئندہ دنوں میں مزید سنسنی خیز کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ ڈربیشائر ایک مضبوط پوزیشن میں ہے، لیکن لنکاشائر کے باؤلرز کسی بھی وقت کھیل کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شائقین کو اگلے دن ایک دلچسپ مقابلے کی امید ہے۔
