Report

وائٹلٹی بلاسٹ: Allround Dawson downs Sussex to keep Hampshire on a roll – ہیمپشائر کی مسلسل چوتھی فتح

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

ہیمپشائر نے 173 رنز 6 وکٹ پر (ڈاوسن 52، ملز 2-26) بنائے اور سسیکس کو 144 رنز پر (وارڈ 40، ڈاوسن 3-20) 29 رنز سے شکست دی۔

وائٹلٹی بلاسٹ: لیام ڈاوسن کی آل راؤنڈ صلاحیتوں نے ہیمپشائر کو سرفہرست رکھا

وائٹلٹی بلاسٹ مینز مقابلے میں ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد، لیام ڈاوسن کی آل راؤنڈ کارکردگی نے ہیمپشائر ہاکس کو اپنی چوتھی مسلسل فتح سے ہمکنار کیا، جس سے ٹیم نے ساؤتھ گروپ میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے۔ ڈاوسن نے بلے اور گیند دونوں سے میچ پر گہرا اثر ڈالا، پہلے ایک اہم نصف سنچری اسکور کی اور پھر اپنی کفایتی اسپن باؤلنگ سے سسیکس کے بلے بازوں کو پریشان کیا۔ یہ فتح ہیمپشائر کے لیے ٹورنامنٹ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔

ہیمپشائر کی اننگز: ڈاوسن کی مزاحمتی بلے بازی

جب ہیمپشائر نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو ابتدائی اوورز میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سسیکس کے گیند بازوں نے، خاص طور پر ٹائمل ملز نے، شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ملز نے ٹاس جیتا اور اپنی فیلڈنگ کی ایڈجسٹمنٹ بالکل درست رکھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہاکس کے خطرناک بلے باز جیمز ونس دوسرے ہی اوور میں پویلین لوٹ گئے۔ ملز نے اپنے پاور پلے کے دو اوورز میں صرف 13 رنز دیے، جو کہ جیمز کولز کی بہترین گیند بازی کے سامنے ماند پڑ گئے، جنہوں نے صرف سات رنز دیے اور ٹوبی البرٹ کو ایک شاندار یارکر پر بولڈ کیا۔

ٹام پرائس اور ڈینی بریگز نے بھی اپنے اوورز میں کامیابی حاصل کی، ٹام پریس اور جو ویدرلی کو آؤٹ کیا – پریس کو ایک شاندار کیچ اینڈ بولڈ کے ذریعے پویلین بھیجا گیا۔ اس طرح، سسیکس نے میزبان ٹیم کو سات اوورز میں 42 رنز پر چار وکٹوں کے نقصان پر دباؤ میں رکھا۔ یہ وہ موقع تھا جب لیام ڈاوسن میدان میں آئے اور اپنی ٹیم کو سنبھالا۔

ڈاوسن اور اسٹوپس کی کلیدی شراکت داری

سرے کے خلاف 76 رنز کی شاندار اننگز کے بعد، جہاں ڈاوسن نے تین سال بعد اپنی پہلی ٹی20 نصف سنچری بنائی تھی، انہیں ایک بار پھر نمبر 5 پر بیٹنگ کے لیے پروموٹ کیا گیا اور اس کا نتیجہ بالکل یکساں نکلا۔ انہوں نے اپنی پہلی ہی گیند پر لیگ سائیڈ میں ایک خوبصورت چوکا لگا کر اپنے ارادے واضح کر دیے اور اس کے بعد سسیکس کے باؤلرز کو شاید ہی کوئی راحت ملی۔ ڈاوسن نے ٹرسٹن اسٹوپس کے ساتھ مل کر اننگز کو دوبارہ سنبھالا اور دونوں نے مل کر 66 رنز کی ایک انتہائی اہم شراکت قائم کی۔ اس شراکت نے ہیمپشائر کو درمیانی اوورز میں مضبوطی فراہم کی اور ڈاوسن نے اپنی مسلسل دوسری نصف سنچری مکمل کی۔

اگرچہ ڈاوسن اور اسٹوپس دونوں 17ویں اوور کے اختتام تک پویلین لوٹ چکے تھے – ڈاوسن کو ملز نے اپنی دوسری وکٹ پر آؤٹ کیا – تاہم جیمز فلر اور ہلٹن کارٹ رائٹ نے آخری تین اوورز میں 37 رنز کا تیز اضافہ کرکے ہاکس کو 173 رنز کے قابلِ دفاع مجموعے تک پہنچایا۔ یہ دیر سے ہونے والی جارحانہ بلے بازی نے ہیمپشائر کو ایک نفسیاتی برتری دی اور سسیکس کے لیے ایک چیلنجنگ ہدف مقرر کیا۔

سسیکس کی اننگز اور ہیمپشائر کی گیند بازی کی حکمت عملی

ہدف کے تعاقب میں، سسیکس شارکس نے بھی جارحانہ آغاز کیا اور ابتدائی اوورز میں مومنٹم کو اپنے حق میں رکھا۔ ڈینیل ہیوز نے جیمز فلر کو ایک ہی اوور میں 17 رنز کے لیے نشانہ بنایا اور اس کے بعد ہیرسن وارڈ نے سکاٹ کیوری کے ایک اوور میں اتنے ہی رنز بنائے۔ سسیکس نے پاور پلے میں 67 رنز بنا کر واضح طور پر برتری حاصل کر لی تھی، لیکن پاور پلے کی آخری گیند پر ہیرسن وارڈ کے جیمز فلر کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہونے نے میچ کا رخ موڑنا شروع کر دیا۔ یہ ایک اہم موڑ تھا جس نے ہیمپشائر کو میچ میں واپسی کا موقع فراہم کیا۔

فلر کی پہلی 11 گیندوں پر 37 رنز دیے گئے تھے، لیکن اس کے بعد ان کی کارکردگی میں حیرت انگیز تبدیلی آئی۔ ان کی اگلی سات گیندوں نے 2 وکٹوں کے عوض صرف 3 رنز دیے، جس میں انہوں نے ٹام ایلسوپ کو بھی آؤٹ کیا۔ اس کے بعد ہیمپشائر کے باؤلرز نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ لیام ڈاوسن، کرس ووڈ، جیمز فلر اور نوجوان مینی لیمسڈن نے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کیا۔ ڈاوسن نے بائیں ہاتھ کے اسپنر کے طور پر سسیکس کے درمیانی اوورز کے بلے بازوں کو اپنی کفایتی اور گھومتی ہوئی گیندوں سے الجھا کر رکھ دیا۔ انہوں نے صرف 20 رنز کے عوض تین اہم وکٹیں حاصل کیں، جس میں جیمز کولز کا کیچ اینڈ بولڈ بھی شامل تھا۔

ہیوز اور جیمز کولز، مینی لیمسڈن اور ڈاوسن کی شاندار کیچ اور بولڈ کے ذریعے لگاتار گیندوں پر آؤٹ ہوئے، جس سے ہاکس نے میچ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی۔ جیک لیننگ ڈاوسن کے ہاتھوں اسٹمپ آؤٹ ہوئے، اور جان سمپسن کو سکاٹ کیوری نے شاندار کیچ اینڈ بولڈ کے ذریعے پویلین بھیجا، جس سے سسیکس کی بیٹنگ لائن اپ درمیانی اوورز میں مکمل طور پر بکھر گئی۔ ہیمپشائر نے میچ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور سسیکس کے لیے رنز بنانا انتہائی مشکل بنا دیا۔

ہیمپشائر کی فیصلہ کن فتح

ہیمپشائر نے سسیکس کی اننگز کا اختتام شاندار انداز میں کیا۔ کرس ووڈ نے ٹام پرائس کو کنارے پر آؤٹ کیا، جبکہ ٹائمل ملز کو ڈاوسن نے اپنی تیسری وکٹ پر بولڈ کر کے سسیکس کی امیدوں کو مزید ٹھیس پہنچائی۔ آخر میں، مینی لیمسڈن نے ہینری کروکومب کو بولڈ کر کے سسیکس کی اننگز کا خاتمہ کیا اور ہیمپشائر کو 29 رنز کی فیصلہ کن فتح سے ہمکنار کیا۔ یہ فتح ہیمپشائر کی ٹیم کی اجتماعی کوششوں اور خاص طور پر لیام ڈاوسن کی آل راؤنڈ کارکردگی کا نتیجہ تھی۔

ساؤتھ گروپ میں پوزیشن اور آئندہ امکانات

اس شاندار فتح کے ساتھ، ہیمپشائر ہاکس وائٹلٹی بلاسٹ کے ساؤتھ گروپ میں چار پوائنٹس کی واضح برتری کے ساتھ سرفہرست آ گئے ہیں۔ ان کی مسلسل چوتھی جیت نے انہیں ٹورنامنٹ میں ایک مضبوط دعویدار بنا دیا ہے اور ان کی پلے آف میں جگہ بنانے کی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔ اس کے برعکس، سسیکس شارکس ایک جیت اور تین مسلسل شکستوں کے ساتھ گروپ میں سب سے نیچے موجود ہیں، اور انہیں ٹورنامنٹ میں اپنی بقا کے لیے فوری طور پر اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہو گا۔ ہیمپشائر کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے کھلاڑیوں کی محنت کا ثبوت ہے بلکہ ان کی بہترین حکمت عملی اور ٹیم ورک کا بھی عکاس ہے۔