Bangladesh Cricket

Bangladesh players to get BDT 2 crore bonus after Australia ODI series win – بنگلہ دیش کی تاریخی فتح

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے یہ ایک انتہائی تاریخی اور یادگار لمحہ ہے کیونکہ قومی ٹیم نے دنیائے کرکٹ کی سب سے مضبوط ٹیموں میں شمار ہونے والی آسٹریلوی ٹیم کے خلاف ون ڈے سیریز میں شاندار کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس غیر معمولی اور تاریخی کامیابی کے بعد کھلاڑیوں کے لیے بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے ایک بڑے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کے نوجوانوں اور کھیلوں کے وزیر امین الحق نے قومی ٹیم کے لیے 2 کروڑ ٹکا (بنگلہ دیشی ٹکا) کے خصوصی بونس کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایک پریس ریلیز کے ذریعے کیا گیا جسے کھیلوں کے وزیر کے پریس سیکرٹری اشرف عالم نے میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ اس بڑی پیشرفت کے بعد اب سوشل میڈیا اور کھیل کے حلقوں میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ Bangladesh players to get BDT 2 crore bonus after Australia ODI series win، جو کہ کھلاڑیوں کے لیے تیسرے ون ڈے میچ سے قبل ایک بہت بڑا حوصلہ افزا قدم ثابت ہوگا۔

ایک تاریخی سیریز اور بنگلہ دیشی ٹائیگرز کا شاندار آغاز

بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے درمیان یہ دو طرفہ ون ڈے سیریز کئی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے یعنی تقریباً 16 سال کے بعد کوئی دو طرفہ ون ڈے سیریز کھیلی جا رہی ہے۔ اتنے طویل انتظار کے بعد جب آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تو بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے ہوم گراؤنڈ پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے سیریز کا شاندار آغاز کیا۔ پہلے ہی ون ڈے میچ میں بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے ڈی ایل ایس (ڈک ورتھ لوئس سسٹم) کے تحت 86 رنز کے واضح مارجن سے شکست دی۔ اس فتح نے بنگلہ دیشی کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا کیونکہ یہ 2005 میں کارڈف کے میدان پر حاصل کی گئی تاریخی فتح کے بعد بنگلہ دیش کی آسٹریلیا کے خلاف پہلی ون ڈے فتح تھی۔ اس تاریخی جیت نے کھلاڑیوں کے اعتماد کو بلندیوں پر پہنچا دیا۔

دوسرے ون ڈے میں فتح اور سیریز اپنے نام کرنا

پہلے میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم نے دوسرے میچ میں بھی اپنے عزم اور بہترین حکمت عملی کو برقرار رکھا۔ دوسرے ون ڈے میچ میں بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو ایک بار پھر ڈی ایل ایس قانون کے تحت 5 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 2-0 کی ناقابل شکست برتری حاصل کر لی۔ اس میچ میں بنگلہ دیشی باؤلرز اور بلے بازوں نے شاندار تال میل کا موازنہ پیش کیا اور آسٹریلیا کی مضبوط ٹیم کو ہر شعبے میں پیچھے چھوڑ دیا۔ سیریز کی اس فتح نے نہ صرف بنگلہ دیشی شائقین کو جشن منانے کا موقع فراہم کیا بلکہ دنیائے کرکٹ کو بھی یہ پیغام دیا کہ بنگلہ دیش کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست دینا اب کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہیں رہا۔

بنگلہ دیش کرکٹ کا ایک اور بڑا سنگ میل

آسٹریلیا کے خلاف اس شاندار سیریز کی فتح کے ساتھ ہی بنگلہ دیش نے ایک اور منفرد اور تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اب بنگلہ دیشی ٹیم نے دنیا کی تقریباً تمام بڑی ٹیموں کو دو طرفہ ون ڈے سیریز میں شکست دے دی ہے۔ اب صرف انگلینڈ واحد ایسی بڑی کرکٹ ٹیم بچی ہے جسے بنگلہ دیش تاحال کسی دو طرفہ ون ڈے سیریز میں شکست دینے میں ناکام رہا ہے۔ کرکٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جس طرح بنگلہ دیشی ٹیم دن بہ دن ترقی کر رہی ہے اور ان کے کھیل میں نکھار آ رہا ہے، وہ وقت دور نہیں جب وہ انگلینڈ کے خلاف بھی ہوم گراؤنڈ پر سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیں گے۔

حکومتی سرپرستی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی

کھیلوں کے وزیر امین الحق کی جانب سے اس بونس کا اعلان بنگلہ دیشی حکومت کی کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ بنگلہ دیش میں کرکٹ کو جنون کی حد تک پسند کیا جاتا ہے اور جب بھی ٹیم کوئی بڑی کامیابی حاصل کرتی ہے تو حکومتی سطح پر ان کی پذیرائی کی جاتی ہے۔ اس بار 2 کروڑ ٹکا کے بھاری بونس کے اعلان نے کھلاڑیوں کو مزید محنت کرنے اور تیسرے ون ڈے میں کلین سویپ کرنے کے لیے ایک نیا جذبہ فراہم کیا ہے۔ ٹیم انتظامیہ اور بورڈ حکام نے بھی حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ٹیم اپنی اس شاندار فارم کو برقرار رکھے گی۔

آنے والے میچز اور ٹی ٹونٹی سیریز کا شیڈول

تین میچوں پر مشتمل اس تاریخی ون ڈے سیریز کے اختتام کے بعد دونوں ٹیمیں ایک نئی چیلنجنگ سیریز کے لیے چٹاگانگ روانہ ہوں گی۔ چٹاگانگ میں دونوں ممالک کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل سیریز کھیلی جائے گی۔ یہ میچز بالترتیب 17 جون، 19 جون اور 21 جون کو کھیلے جائیں گے۔ ون ڈے سیریز میں تاریخی فتح کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم کے حوصلے ساتویں آسمان پر ہیں اور وہ ٹی ٹونٹی سیریز میں بھی آسٹریلیا کے خلاف اسی جارحانہ انداز کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ دوسری طرف، آسٹریلوی ٹیم ون ڈے سیریز کی ناکامی کو بھلا کر ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں مضبوط واپسی کے لیے پرعزم ہوگی، جس سے شائقینِ کرکٹ کو انتہائی سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔