News

Devon Conway flies home between Tests for birth of child

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

کرکٹ اور خاندان کا حسین امتزاج

کھیلوں کی دنیا میں اکثر کھلاڑیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور ذاتی زندگی کے درمیان مشکل انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بلے باز ڈیون کونوے نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو کرکٹ کے میدان سے ہٹ کر انسانی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ خبر ہے کہ Devon Conway flies home between Tests for birth of child، جس کے تحت وہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران اپنے دوسرے بچے کی ولادت کے لیے تقریباً 23,000 میل کا طویل سفر طے کر کے ویلنگٹن پہنچے ہیں۔

لارڈز ٹیسٹ اور کونوے کی واپسی

لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ کو 115 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میچ میں ڈیون کونوے کی کارکردگی کچھ خاص نہ رہی اور وہ بالترتیب 1 اور 41 رنز ہی بنا سکے۔ تاہم، کھیل کے اس نتیجے سے زیادہ اہم ان کی زندگی کا یہ ذاتی لمحہ تھا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، کونوے اپنے خاندان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے بعد لندن واپس لوٹیں گے تاکہ 17 جون سے شروع ہونے والے اوول ٹیسٹ میں حصہ لے سکیں۔

ٹیم کی حکمت عملی اور ٹریننگ

نیوزی لینڈ کی ٹیم کے پاس پہلے ٹیسٹ کے بعد کچھ دن کا آرام موجود ہے۔ کھلاڑیوں کو جمعہ کے روز اوول میں تربیت کرنی ہے، جس کے بعد ہفتہ کو دوبارہ آرام کا دن ہوگا۔ اس کے بعد تین دن کی سخت پریکٹس سیشنز کے ذریعے ٹیم دوسرے ٹیسٹ کی تیاری مکمل کرے گی۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم انتظامیہ کو امید ہے کہ کونوے کی بروقت واپسی ٹیم کے لیے معاون ثابت ہوگی۔

میٹ ہنری کی فٹنس پر اپ ڈیٹ

کپتان ٹام لیتھم نے لارڈز ٹیسٹ کے بعد اپنی ٹیم کے بولنگ اٹیک کے حوالے سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ دوسرے ٹیسٹ تک ان کے پاس مکمل بولنگ اٹیک دستیاب ہوگا۔ میٹ ہنری، جو پہلے دن کمر کی تکلیف (back spasms) کا شکار ہوئے تھے، ان کی حالت کے بارے میں لیتھم نے کہا: ‘ہمیں امید ہے کہ ہنری کی بہتری کا عمل اسی طرح جاری رہے گا۔ ہمارے پاس تیاری کے لیے کچھ اضافی وقت موجود ہے، اور ہم پرامید ہیں کہ اوول ٹیسٹ میں وہ مکمل طور پر فٹ ہوں گے۔’

اوول ٹیسٹ کے لیے ماحول

دوسرے ٹیسٹ سے قبل انگلش ٹیم کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹیم کے اندرونی معاملات اور کچھ کھلاڑیوں کے نجی واقعات کی وجہ سے صورتحال کافی پیچیدہ ہے۔ جو روٹ کو عبوری کپتان بنایا گیا ہے، جبکہ بین اسٹوکس اور گس اٹکنسن کو حالیہ تنازعات کی وجہ سے انتخاب کے لیے زیر غور نہیں لایا گیا۔ یہ تمام تر صورتحال دوسرے ٹیسٹ کو انتہائی دلچسپ اور غیر متوقع بناتی ہے۔

نتیجہ

کرکٹ کے میدان میں کھلاڑیوں کی نجی زندگی اکثر پسِ پشت چلی جاتی ہے، لیکن ڈیون کونوے کا یہ سفر یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی کے اہم ترین لمحات کھیل سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ شائقین کرکٹ اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ کیا کونوے اس جذباتی سکون کے بعد اوول کے میدان میں اپنی بہترین فارم کے ساتھ واپسی کر پائیں گے یا نہیں۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو سیریز میں واپسی کے لیے ان کی اور پوری ٹیم کی بہترین کارکردگی درکار ہوگی۔