DPL round 2: Mohammedan sniff rare title but Abahani and Prime still in race – ڈھاکہ پریمیئر لیگ کی سنسنی خیز جنگ
ڈھاکہ پریمیئر لیگ کا دوسرا مرحلہ: ٹائٹل کی دوڑ اور اہم نکات
ڈھاکہ پریمیئر ڈویژن کرکٹ لیگ (DPL) کے دوسرے مرحلے کے 24 میچوں کے اختتام پر لیگ کی جنگ اب اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ہائی پروفائل اور بھاری بجٹ کے ساتھ میدان میں اترنے والی ٹیم محمڈن اسپورٹنگ کلب (MSC) اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر ہے۔ چونکہ اس سال ٹائٹل کا فیصلہ کرنے کے لیے کوئی روایتی ‘سپر لیگ’ مرحلہ نہیں رکھا گیا، اس لیے محمڈن اسپورٹنگ کلب کے پاس گزشتہ 17 سالوں میں پہلی بار ڈھاکہ پریمیئر لیگ کا ٹائٹل جیتنے کا سنہری موقع موجود ہے۔ لیگ میں اب صرف تین راؤنڈز باقی ہیں اور محمڈن کی ٹیم مضبوط ترین پوزیشن میں کھڑی ہے۔
تاہم، ان کی روایتی حریف اور دفاعی چیمپئن اباہانی لمیٹڈ بھی خاموش تماشائی نہیں ہے۔ اباہانی لمیٹڈ ٹائٹل کے حصول کے لیے محمڈن کے پیچھے مضبوطی سے ڈٹی ہوئی ہے۔ اگرچہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں لگاتار دو شکستیں اباہانی کو مہنگی پڑ سکتی ہیں، لیکن اس کے بعد مسلسل چھ فتوحات کے شاندار ریکارڈ نے انہیں دوبارہ ریس میں لا کھڑا کیا ہے۔ اباہانی کے ساتھ ساتھ پرائم بینک کرکٹ کلب بھی 12 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے، لیکن نیٹ رن ریٹ کم ہونے کی وجہ سے وہ اباہانی سے ایک درجہ پیچھے ہے۔
شاندار بلے بازی: توحید ہردائے اور شہادت حسین کا راج
بلے بازوں کی انفرادی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو پرائم بینک کے شہادت حسین اس وقت بہترین فارم میں ہیں اور انہوں نے اس ہفتے اپنی دوسری سنچری اسکور کر کے ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 491 رنز بنا لیے ہیں، جو 500 رنز کے سنگ میل سے محض چند رنز کی دوری پر ہے۔ دوسری طرف، محمڈن اسپورٹنگ کلب کی امیدوں کا محور توحید ہردائے بنے ہوئے ہیں۔ توحید ہردائے نے اب تک 71.16 کی شاندار اوسط سے 427 رنز بنائے ہیں، جس میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کی یہ بہترین فارم آسٹریلیا کے خلاف بنگلہ دیش کی آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے بھی ایک بہترین تیاری ثابت ہو رہی ہے۔ اگرانی بینک کے محفوظ الاسلام بھی دو سنچریوں کی مدد سے 400 رنز کا ہندسہ عبور کر چکے ہیں۔
منگل کے روز پرائم بینک کی برادرز یونین کے خلاف 155 رنز کی یکطرفہ فتح میں اوپنرز شہادت حسین اور تنزید حسن نے شاندار سنچریاں اسکور کیں۔ ڈھاکہ پریمیئر لیگ کی تاریخ میں یہ ساتواں موقع تھا جب دونوں اوپنرز نے ایک ہی اننگز میں سنچریاں اسکور کیں۔ حیرت انگیز طور پر، پرائم بینک کے اوپنرز نے یہ کارنامہ اب تک چار مرتبہ انجام دیا ہے، جن میں سے تین مرتبہ شہادت حسین خود اس تاریخی شراکت کا حصہ رہے ہیں۔
باؤلنگ کا جادو: الیس الاسلا م اور محمد روبل کی تباہ کن کارکردگی
اگر باؤلنگ کے شعبے کی بات کی جائے تو پرائم بینک کے الیس الاسلا م، جو ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز اسپنر سنیل نارائن کے ایکشن سے متاثر ہیں، اس وقت 22 وکٹوں کے ساتھ سر فہرست ہیں۔ وہ اپنے قریبی حریف سٹی کلب کے عبدالغفار ثقلین سے چھ وکٹیں آگے ہیں۔ الیس الاسلا م اس سیزن میں پہلے ہی ایک ہیٹ ٹرک اپنے نام کر چکے ہیں اور انہوں نے اپنے حالیہ میچ میں برادرز یونین کے خلاف صرف 15 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری جانب، تیز گیند باز ثقلین نے گزشتہ ماہ روپ گنج ٹائیگرز کے خلاف 37 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔
غازی گروپ کرکٹرز کی نمائندگی کرنے والے ایک اور پراسرار اسپنر محمد روبل بھی اپنے پہلے ہی سیزن میں تباہ کن باؤلنگ کر رہے ہیں۔ محمد روبل نے منگل کو ڈھاکہ لیپرڈز کے خلاف صرف 23 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، جس کے بعد ان کی مجموعی وکٹوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے اور ان کی باؤلنگ اوسط 15.26 کی انتہائی شاندار سطح پر ہے۔
لیگ کا سنسنی خیز ترین مقابلہ
اس سیزن کا سب سے یادگار اور سنسنی خیز مقابلہ اگرانی بینک اور سٹی کلب کے درمیان کھیلا گیا۔ سٹی کلب نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے عبداللہ المامون کے جارحانہ 151 رنز کی بدولت مقررہ 50 اوورز میں 326 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کیا۔ تاہم، اگرانی بینک نے اس بڑے ہدف کا تعاقب انتہائی شاندار انداز میں کیا۔ اگرانی بینک کے اوپنر محفوظ الاسلام نے 141 گیندوں پر 12 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے 147 رنز کی دلیرانہ اننگز کھیلی۔ انہوں نے شادمان اسلام (78 رنز) کے ساتھ مل کر اوپننگ وکٹ کے لیے 148 رنز کی شراکت قائم کی اور میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔ اگرچہ محفوظ الاسلام ہدف سے صرف 18 رنز پہلے آؤٹ ہو گئے، لیکن اگرانی بینک نے آخری اوور کی چوتھی گیند پر یہ ہدف حاصل کر کے دو گیندیں قبل فتح اپنے نام کر لی۔ یہ فتح انہیں اگلے سیزن میں تنزلی سے بچانے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔
پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال اور تنزلی کا خطرہ
پوائنٹس ٹیبل کے نچلے حصے میں برادرز یونین، روپ گنج ٹائیگرز اور گلشن کرکٹ کلب (GCC) کی ٹیمیں صرف دو دو پوائنٹس کے ساتھ انتہائی نازک پوزیشن پر ہیں۔ ان تینوں میں سے کم از کم دو ٹیموں کو اگلے سیزن کے لیے نچلے درجے میں بھیجے جانے (Relegation) کا واضح خطرہ موجود ہے۔ منگل کو کھیلے گئے آخری راؤنڈ میں صرف روپ گنج ٹائیگرز کی ٹیم ہی کچھ بہتر کھیل پیش کرتی ہوئی نظر آئی، جبکہ برادرز یونین اور گلشن کرکٹ کلب کو اپنے خراب رن ریٹ اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
مستقبل کے ستارے اور سلیکٹرز کی نظریں
اس سیزن میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے جلد ہی بڑی خوشخبری متوقع ہے۔ پراسرار اسپنرز الیس الاسلا م، محمد روبل اور جارح مزاج اوپنر حبیب الرحمن کو آئندہ ہفتے سے زمبابوے اے کے خلاف شروع ہونے والی سیریز کے لیے ہائی پرفارمنس اسکواڈ میں شامل کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ سلیکشن کمیٹی حبیب الرحمن کی جارحانہ بیٹنگ سے انتہائی متاثر دکھائی دیتی ہے، جنہوں نے شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں تیز گیند باز ناہید رانا کو ایک ہی اوور میں 26 رنز جڑ دیے تھے اور تسکین احمد جیسے تجربہ کار گیند باز کے خلاف بھی بہترین شارٹس کھیلے تھے۔
