فہیم اشرف کا حیران کن بیان: ایک طرف سریش رائنا کو آئیڈیل مانا، دوسری طرف بھارت پر تنقید
فہیم اشرف کا متنازع بیان اور سریش رائنا سے عقیدت
پاکستان کے آل راؤنڈر فہیم اشرف ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ایک یوٹیوب انٹرویو کے دوران، فہیم اشرف نے کرکٹ کی دنیا کے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے سابق بھارتی اسٹار اور چنئی سپر کنگز (CSK) کے مایہ ناز بلے باز سریش رائنا کا نام لیا۔ فہیم کا کہنا تھا کہ کرس گیل، سعید انور، کمار سنگاکارا اور سریش رائنا ان کے بیٹنگ کے آئیڈیل رہے ہیں۔

دوہرے معیار پر تنقید
ایک طرف جہاں فہیم اشرف نے سریش رائنا کی تعریف کی، وہیں دوسری طرف انہوں نے بھارتی کرکٹ برادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارتی کھلاڑی پاکستانی کھلاڑیوں کا نام لینے سے بھی گریز کرتے ہیں، جبکہ پاکستانی کھلاڑی کھلے دل سے ان کی تعریف کرتے ہیں۔ تاہم، فہیم کے اس بیان کو سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، کیونکہ ماضی میں فہیم اشرف سوشل میڈیا پر بھارت مخالف متنازع پوسٹس شیئر کرنے کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں۔
سوشل میڈیا اور ماضی کے تنازعات
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات 2012 سے معطل ہیں، اور اس دوران دونوں جانب سے تلخ بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ فہیم اشرف پر الزام ہے کہ انہوں نے ماضی میں ‘آپریشن سندور’ کے دوران بھارت کے خلاف نامناسب اور اشتعال انگیز مواد سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔ نیٹیزنز کا ماننا ہے کہ جو شخص ماضی میں ایسے اقدامات کر چکا ہو، اس کا اب بھارتی کھلاڑیوں کی تعریف کرنا دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے۔
فہیم اشرف کا کرکٹ کیریئر: زوال کا شکار؟
میدان کے اندر فہیم اشرف کا حال کچھ اچھا نہیں ہے۔ پی ایس ایل 2026 میں ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، جس کے بعد 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی وہ کوئی خاص اثر نہ دکھا سکے۔ اطلاعات کے مطابق، پی سی بی اب انہیں سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ نوجوان کھلاڑیوں جیسے اذان اویس اور عبداللہ فضل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
مستقبل کے لائحہ عمل
اپنی فارم کو بحال کرنے اور ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے لیے فہیم اشرف نے یارکشائر کے ساتھ کاؤنٹی چیمپئن شپ کے لیے معاہدہ کیا ہے۔ کیا یہ اقدام ان کے کیریئر کو نئی زندگی دے سکے گا یا ان کا زوال جاری رہے گا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ جہاں کرکٹ ماہرین ان کی تکنیک پر سوال اٹھا رہے ہیں، وہیں ان کے حالیہ متنازع بیانات نے ان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
نتیجہ
کرکٹ کا کھیل ہمیشہ سے جذبات سے جڑا رہا ہے، لیکن کھلاڑیوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ فہیم اشرف کا سریش رائنا کو آئیڈیل ماننا ایک مثبت پہلو ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے ماضی کے بیانات نے ان کی شخصیت کے بارے میں شائقین کے ذہنوں میں بہت سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی کارکردگی اور رویے میں کیسے توازن قائم کرتے ہیں۔
