فیصل اقبال کا بابر اعظم اور قومی بلے بازوں پر سخت تنقید
پاکستان کرکٹ کا بحران: فیصل اقبال کا بابر اعظم اور سینئر کھلاڑیوں پر کڑا وار
پاکستان قومی کرکٹ ٹیم اور خاص طور پر بابر اعظم ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں قومی بلے بازوں کی مایوس کن کارکردگی نے شائقین کو شدید مایوس کیا ہے۔ شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیم پہلے ہی ڈھاکہ میں 104 رنز سے شکست کھا چکی ہے، اور اب سلہٹ میں ٹیم اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
میچ کا اتار چڑھاؤ
میچ کا آغاز شان مسعود کے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کے فیصلے سے ہوا۔ پاکستانی فاسٹ بولرز نے ابتدائی طور پر بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن اپ کو دباؤ میں رکھا اور میزبان ٹیم 106 رنز پر 4 وکٹیں گنوا بیٹھی، جو بعد میں 117 رنز پر 6 وکٹوں تک پہنچ گئی۔ تاہم، لٹن داس کی شاندار 126 رنز کی اننگز نے بنگلہ دیش کو 278 رنز کے مستحکم مجموعے تک پہنچا دیا۔ پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے 4 اور محمد عباس نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔
دوسرے دن کے کھیل میں پاکستان کی بیٹنگ لائن بری طرح لڑکھڑا گئی۔ بابر اعظم نے 68 رنز کی اننگز کھیل کر کوشش ضرور کی لیکن انہیں دوسرے اینڈ سے کوئی خاطر خواہ تعاون نہ مل سکا۔ پوری ٹیم صرف 232 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو 46 رنز کی اہم برتری حاصل ہوئی۔ تائیج الاسلام اور ناہید رانا بنگلہ دیش کے کامیاب ترین بولر ثابت ہوئے۔
فیصل اقبال کی سخت تنقید
پاکستان کی اس ناقص کارکردگی پر سابق ٹیسٹ کرکٹر فیصل اقبال نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر کھلاڑیوں اور بابر اعظم کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ فیصل اقبال کا ماننا ہے کہ ٹیم کے تجربہ کار کھلاڑی دباؤ والے حالات میں بری طرح ناکام ہو رہے ہیں۔
بابر اعظم کے مزاج پر سوال
فیصل اقبال نے خاص طور پر بابر اعظم کی موجودہ فارم اور ٹیم کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا:
- ٹیسٹ کرکٹ کا معیار: فیصل اقبال کے مطابق پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ اب تنزلی کی جانب گامزن ہے۔
- دباؤ میں ناکامی: سینئر کھلاڑیوں کا تجربہ دباؤ کے لمحات میں کام نہیں آ رہا اور وہ اپنی وکٹیں گنوا رہے ہیں۔
- بابر اعظم کا رویہ: سابق کرکٹر کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کا جدوجہد کا دور طویل ہوتا جا رہا ہے اور ان میں ٹیم کو بچانے والا ‘ٹیمپرامنٹ’ نظر نہیں آ رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بابر اعظم میں مشکل حالات میں ٹیم کو سنبھالنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ یہ تبصرے پاکستان کرکٹ حلقوں میں بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں کیونکہ ٹیم مسلسل دوسری بار بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں مشکلات کا شکار ہے۔
مستقبل کے خدشات
دوسری اننگز میں بھی بنگلہ دیش نے محتاط انداز اپنایا۔ محمود الحسن جوائے کی نصف سنچری اور مومنل حق کے 30 رنز کی بدولت بنگلہ دیش کی برتری 156 رنز تک پہنچ گئی ہے۔ تیسرے دن کے کھیل کے آغاز پر میزبان ٹیم 110/3 کے اسکور سے اپنی اننگز دوبارہ شروع کرے گی۔ پاکستان کے لیے اب یہ میچ نہ صرف اپنی عزت بچانے کا سوال ہے بلکہ ٹیم مینجمنٹ کے فیصلوں اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بھی بڑے سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔ کیا پاکستان اس دباؤ سے نکل پائے گا یا یہ سیریز ایک اور عبرتناک شکست کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟ یہ آنے والے وقت میں واضح ہو جائے گا۔
