Arun Dhumal reveals why IPL players were barred from posting reels and chasing s – IPL 2026: ارون دھومل نے کھلاڑیوں کے سوشل میڈیا ریلز بنانے پر پابندی کی وجہ بتا دی
آئی پی ایل 2026: سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بی سی سی آئی کا کریک ڈاؤن
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 اپنے اختتامی مراحل کے قریب ہے، اور اس سیزن میں جہاں میدان کے اندر سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے، وہیں کچھ انتظامی معاملات اور تنازعات بھی سرخیوں میں رہے۔ لیگ کی وقار کو برقرار رکھنے کے لیے بی سی سی آئی اور آئی پی ایل کی انتظامیہ نے کھلاڑیوں کے رویے اور سوشل میڈیا کے استعمال پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کھلاڑی یا کنٹینٹ کریٹر؟
آئی پی ایل کے چیئرمین ارون دھومل نے ایک حالیہ انٹرویو میں وضاحت کی کہ کیوں بورڈ کو سات صفحات پر مشتمل ایک جامع ایڈوائزری جاری کرنی پڑی۔ ان کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کو اپنی تمام تر توانائیاں کرکٹ پر مرکوز رکھنی چاہئیں۔ دھومل کے مطابق، جب کھلاڑی میدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو ان کے بارے میں خود بخود معیاری کنٹینٹ بن جاتا ہے، اس لیے انہیں خود ‘کنٹینٹ کریٹرز’ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کرکٹ کھیلنا اور سوشل میڈیا پر ریلز یا شارٹس بنانا دو الگ الگ پیشے ہیں۔ حد سے زیادہ سوشل میڈیا کی نمائش لیگ کے وقار اور کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ارشدیپ سنگھ کا معاملہ اور نیا ضابطہ اخلاق
آئی پی ایل 2026 کے وسط میں پنجاب کنگز کے سٹار فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ سوشل میڈیا ویڈیوز کی وجہ سے کافی زیر بحث رہے۔ ان کی جانب سے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ بنائی گئی ویڈیوز نے حکام کی توجہ مبذول کرائی، جس کے بعد بی سی سی آئی نے اپنی پالیسیوں کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان ہدایات کے بعد اب کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر سرگرمیوں میں نمایاں کمی کر دی ہے۔
ایڈوائزری کا مقصد: ڈسپلن کی بحالی
ارون دھومل کا کہنا ہے کہ یہ سات صفحات پر مشتمل ایڈوائزری کوئی نئی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ان بنیادی اصولوں کی یاد دہانی ہے جو پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے کہا، “ہم نے صرف ان پوائنٹس کو دوبارہ اجاگر کیا ہے جو نظر انداز ہو رہے تھے۔ ہر فرنچائز اور کھلاڑی کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ضروری تھا۔”
سیکیورٹی خدشات اور ساکھ کا تحفظ
بی سی سی آئی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ کچھ غیر ذمہ دارانہ واقعات نے لیگ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ بورڈ کے مطابق:
- کھلاڑیوں، سپورٹ اسٹاف اور آفیشلز کے غیر محتاط رویے سے سیکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
- اس طرح کے واقعات قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
- لیگ کی پیشہ ورانہ حیثیت کو برقرار رکھنا بی سی سی آئی کی اولین ترجیح ہے۔
مزید برآں، بی سی سی آئی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان پروٹوکولز کی خلاف ورزی جاری رہی تو اس سے نہ صرف ٹورنامنٹ بلکہ متعلقہ فرنچائزز کی ساکھ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ آئی پی ایل کا شمار دنیا کی سب سے منظم اور پیشہ ورانہ کرکٹ لیگز میں ہوتا رہے۔
مجموعی طور پر، آئی پی ایل انتظامیہ کا یہ اقدام کھیلوں کی دنیا میں ایک اہم بحث کو جنم دیتا ہے کہ آیا کھلاڑیوں کی نجی زندگی اور سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی درست ہے یا نہیں۔ تاہم، فی الحال بی سی سی آئی کرکٹ کے معیار اور کھلاڑیوں کی توجہ کو کھیل پر مرکوز رکھنے کے لیے پرعزم نظر آتی ہے۔
