Irfan Pathan disgusted with Ashish Nehra’s tactic against Vaibhav Sooryavanshi – عرفان پٹھان کا 15 سالہ ویبھو سوریونشی کے خلاف باڈی لائن باؤلنگ پر شدید ردعمل
کرکٹ کے میدان میں ایک نئی بحث کا آغاز
آئی پی ایل 2026 کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں، گجرات ٹائٹنز (GT) کی جانب سے راجستھان رائلز (RR) کے 15 سالہ نوجوان بلے باز ویبھو سوریونشی کے خلاف اپنائی گئی حکمت عملی نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ میچ کے دوران جب یہ نوجوان کھلاڑی کریز پر آیا تو گجرات ٹائٹنز کے باؤلرز نے اسے روکنے کے لیے باڈی لائن باؤلنگ کا سہارا لیا، جس پر سابق بھارتی آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کیا باڈی لائن باؤلنگ ایک 15 سالہ نوجوان کے لیے مناسب ہے؟
ویبھو سوریونشی، جن کا اس سیزن میں اسٹرائیک ریٹ 230 سے زائد رہا ہے، کو روکنا گجرات ٹائٹنز کے لیے ایک چیلنج تھا۔ کاگیسو رباڈا، محمد سراج اور جیسن ہولڈر جیسے باؤلرز نے ملان پور کی پچ پر موجود اضافی اچھال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ویبھو کو جسم کی سیدھ میں گیندیں کیں۔ 14ویں اوور میں کاگیسو رباڈا کی ایک باؤنسر براہ راست ویبھو کے ہیلمٹ پر جا لگی، جو کہ ایک انتہائی خطرناک لمحہ تھا۔
اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے عرفان پٹھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا: “15 سالہ ویبھو سوریونشی کے خلاف باڈی لائن باؤلنگ کرنا مجھے کچھ اچھا نہیں لگا۔ میں جانتا ہوں کہ وہ بڑے کھلاڑیوں کے خلاف کھیل رہا ہے، لیکن میرے اندر کا باپ اس حکمت عملی سے متفق نہیں ہے۔”
میچ کا تناظر اور ویبھو کی شاندار اننگز
ابتدائی مشکلات کے باوجود، ویبھو نے ہمت نہیں ہاری۔ پچ کی صورتحال کو سمجھنے کے بعد، انہوں نے اپنے قدرتی انداز میں بیٹنگ شروع کی اور 47 گیندوں پر 96 رنز کی ایک یادگار اننگز کھیلی۔ اس اننگز میں 8 چوکے اور 7 چھکے شامل تھے، جس کا اسٹرائیک ریٹ 204.26 رہا۔ ان کی بدولت راجستھان رائلز نے 214 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کیا۔
گجرات ٹائٹنز کا نقطہ نظر
میچ کے بعد، گجرات ٹائٹنز کے فاسٹ باؤلر کاگیسو رباڈا نے اپنی حکمت عملی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملان پور کی پچ پر ٹینس بال جیسا اچھال موجود تھا، جس کا فائدہ اٹھانا ضروری تھا۔ رباڈا کے مطابق، باؤلنگ کا اصل مقصد لائن اور لینتھ کو درست رکھنا ہوتا ہے، اور انہوں نے پچ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اسی کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی۔
نتیجہ
اگرچہ راجستھان رائلز نے ویبھو کی شاندار کارکردگی کی بدولت ایک بڑا اسکور بنایا، لیکن گجرات ٹائٹنز نے شبمن گل کے ناقابل شکست 104 رنز کی بدولت یہ میچ آسانی سے اپنے نام کر لیا۔ یہ میچ جہاں گجرات کی جیت کے لیے یاد رکھا جائے گا، وہیں نوجوان کھلاڑیوں کے تحفظ اور ان کے خلاف اپنائی جانے والی جارحانہ حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عرفان پٹھان کا یہ بیان کرکٹ میں ‘اسپرٹ آف دی گیم’ اور کھلاڑیوں کی حفاظت کے پہلو پر ایک اہم یاد دہانی ہے۔
مستقبل کے امکانات
ویبھو سوریونشی کی فارم اور بیٹنگ کے انداز کو دیکھتے ہوئے، ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ مستقبل میں بھارتی کرکٹ کے بڑے اسٹار بن سکتے ہیں۔ اب ہر کوئی یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا ویبھو کو جلد ہی قومی ٹیم میں شامل کیا جائے گا، اس حوالے سے کمار سنگاکارا کی جانب سے بھی کچھ اہم اپ ڈیٹس سامنے آئی ہیں۔
