News

Ahead of Afghanistan Test, Kuldeep gets a ‘feel of the red ball’ after underwhel

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

بھارتی اسپن اٹیک میں کلدیپ یادیو کا اہم کردار

انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے ہنگامہ خیز اور تیز رفتار فارمیٹ سے نکل کر ٹیسٹ کرکٹ کی دھیمی اور صبر آزما دنیا میں قدم رکھنا کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ حال ہی میں، بھارتی ٹیم کے بائیں ہاتھ کے کلائی کے اسپنر کلدیپ یادیو نے اس منتقلی پر کھل کر بات کی ہے۔ Ahead of Afghanistan Test, Kuldeep gets a ‘feel of the red ball’ after underwhel ان کی کارکردگی کے بعد، جس میں وہ آئی پی ایل کے دوران اپنی توقعات کے مطابق وکٹیں حاصل نہ کر سکے، انہوں نے ریڈ بال کرکٹ کے لیے خود کو تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔

آئی پی ایل سے ٹیسٹ کرکٹ تک: ایک مشکل سفر

کلدیپ یادیو کا آئی پی ایل 2026 کا سیزن کچھ خاص نہیں رہا۔ انہوں نے 12 میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ان کی اوسط 38.10 اور اکانومی ریٹ 10.29 رہی۔ دہلی کیپیٹلز کے پلے آف میں نہ پہنچنے سے انہیں ریڈ بال کی مشق کے لیے کافی وقت مل گیا۔ کلدیپ نے اعتراف کیا کہ ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ کرکٹ کے ذہنیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

انہوں نے کہا، ‘ٹی ٹوئنٹی میں آپ ہمیشہ جارحانہ انداز اپناتے ہیں اور بلے باز پر حاوی رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں بلے باز کے پاس وقت ہوتا ہے، اور آپ کو صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔ خوش قسمتی سے مجھے 10 سے 15 دن کی پریکٹس کا موقع ملا جس سے مجھے ریڈ بال کا احساس دوبارہ حاصل ہوا۔’

نوجوان اسپنرز کے لیے رہنمائی

بھارتی ٹیم میں آر اشون کی ریٹائرمنٹ، رویندرا جڈیجہ کے آرام، اور اکشر پٹیل کے انتخاب نہ ہونے کے بعد اسپن شعبہ کافی حد تک نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ ہارش دوبے اور مانو سوتھر کو پہلی بار کال اپ ملی ہے، جبکہ واشنگٹن سندر اور کلدیپ یادیو ہی ٹیم میں نسبتاً زیادہ تجربہ کار اسپنر ہیں۔

کلدیپ کا ماننا ہے کہ ٹیم میں نئے آنے والے کھلاڑیوں کو آرام دہ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، ‘جب کوئی نیا کھلاڑی آتا ہے تو آپ کا کام اسے پارٹنر کے طور پر محسوس کروانا ہوتا ہے۔ اگر اسے کوئی مسئلہ ہو تو اسے بلا جھجھک بات کرنی چاہیے۔ میں اور واشنگٹن سندر ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ ان نوجوانوں کو اعتماد دیں۔’

اسپنرز کے درمیان حکمت عملی

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ نئے اسپنرز کے ساتھ کس قسم کی بات چیت کرتے ہیں، تو کلدیپ نے وضاحت کی کہ ان کی گفتگو بنیادی طور پر حالات کے مطابق ہوتی ہے۔

  • پچ کا مطالعہ: پچ کی کنڈیشنز اور موسم کے مطابق لائن اور لینتھ کا انتخاب۔
  • صبر کی اہمیت: ٹیسٹ کرکٹ میں وکٹ حاصل کرنے کے لیے مسلسل ایک ہی جگہ گیند کرنا۔
  • حکمت عملی: بلے باز کو پھنسانے کے لیے رفتار میں تبدیلی اور فیلڈ سیٹنگ۔

کلدیپ نے کہا کہ اگرچہ ہارش اور مانو کے پاس بین الاقوامی تجربہ کم ہے، لیکن انڈیا اے اور ڈومیسٹک کرکٹ (دلیپ ٹرافی اور ایرانی ٹرافی) کھیلنے کی وجہ سے ان کی تیاری مکمل ہے۔

نتیجہ

افغانستان کے خلاف ہونے والے واحد ٹیسٹ میچ میں کلدیپ یادیو کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی باؤلنگ پر توجہ دے رہے ہیں بلکہ ایک سینئر کھلاڑی کے طور پر نوجوانوں کی رہنمائی بھی کر رہے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بھارتی اسپن یونٹ اس نئے چیلنج کا سامنا کس طرح کرتا ہے، خاص طور پر جب ریڈ بال کی تیاری کے لیے آئی پی ایل کے بعد وقت کی کمی ایک اہم فیکٹر ہے۔ بہرحال، کلدیپ کی پرعزم سوچ اور تیاری بتاتی ہے کہ ٹیم کسی بھی مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔