News

لیا ٹاہوہو کا ریٹائرمنٹ سے قبل ورلڈ کپ جیتنے کا عزم

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

لیا ٹاہوہو کا مشن: ریٹائرمنٹ سے پہلے آخری بڑی کامیابی

نیوزی لینڈ کی ویمن کرکٹ ٹیم کی تجربہ کار فاسٹ باؤلر لیا ٹاہوہو ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کا کیریئر اب اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد، ٹاہوہو کے ساتھ ساتھ سوزی بیٹس اور سوفی ڈیوائن بھی بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گی۔ تاہم، اس جذباتی موڑ کے باوجود ٹاہوہو کا عزم بالکل واضح ہے: ایک اور ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنا۔

ریٹائرمنٹ صرف ایک سوچ، کھیل اصل مقصد

انگلینڈ کے دورے کے آغاز پر بات کرتے ہوئے لیا ٹاہوہو نے کہا کہ ٹیم کی ریٹائرمنٹ سے متعلق چہ مگوئیاں باہر کی دنیا تک محدود ہیں۔ ان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ ٹیم کو جو ذمہ داری دی گئی ہے اسے بطریق احسن نبھایا جائے۔ انہوں نے کہا، “ہم یہاں صرف اپنا کام کرنے آئے ہیں۔ ہم ایک اور ورلڈ کپ جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

ٹاہوہو کا ماننا ہے کہ دفاعی چیمپئن ہونے کا کوئی اضافی دباؤ نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ٹیم کا نظریہ یہ ہے کہ وہ ٹائٹل کا دفاع کرنے کے بجائے جارحانہ انداز اپنا کر دوبارہ چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اتریں گے۔

ٹیم کی موجودہ فارم اور باؤلنگ اٹیک

انگلینڈ کے خلاف حال ہی میں ختم ہونے والی ون ڈے سیریز نے ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں کا موقع فراہم کیا۔ اگرچہ موسم کی خرابی کے باعث سیریز متاثر ہوئی، لیکن نیوزی لینڈ کی باؤلنگ نے متاثر کن کارکردگی دکھائی۔ بری ایلنگ اور روزمیری مائر کی کارکردگی پر ٹاہوہو نے اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا، “بری ایلنگ کا بائیں ہاتھ کی فاسٹ باؤلر کے طور پر ٹیم میں شامل ہونا ہمارے لیے ایک بہترین اضافہ ہے۔ روزمیری مائر نے انجریز کے بعد جس طرح واپسی کی ہے اور دباؤ میں کارکردگی دکھائی ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔”

مستقبل کی تیاریاں اور بیٹنگ ڈیپتھ

جب سوزی بیٹس اور سوفی ڈیوائن جیسی عظیم کھلاڑی ریٹائر ہوں گی تو ٹیم میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگا۔ تاہم، ٹاہوہو کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی کوچنگ اسٹاف نے اس حوالے سے بہترین ہوم ورک کیا ہے۔ ایزی گیز اور میلی کیر جیسی نوجوان کھلاڑیوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ مستقبل میں بھی مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

ٹاہوہو نے مزید کہا، “بلاشبہ ان کھلاڑیوں کے جانے سے ایک بڑا خلا پیدا ہوگا، لیکن ہمارے پاس ایسے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں جو ان کی جگہ سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔”

انگلینڈ کی مشکلات اور دورہ

دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم کو بھی اپنے اہم کھلاڑیوں کی خدمات سے محرومی کا سامنا ہے۔ کپتان نیٹ سائیور برنٹ انجری کے باعث سیریز سے باہر ہیں، جبکہ ڈینی وائٹ ہج بھی ذاتی وجوہات کی بنا پر ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔ ان حالات میں دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ سے قبل اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

لیا ٹاہوہو کا 15 سالہ طویل کیریئر 200 سے زائد بین الاقوامی کیپس پر محیط ہے۔ وہ مکمل فٹ ہیں اور اپنے آخری ٹورنامنٹ کو یادگار بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ کرکٹ شائقین کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ تجربہ کار کھلاڑی اپنے کیریئر کا اختتام ایک اور عالمی اعزاز کے ساتھ کر پاتی ہیں یا نہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے نیوزی لینڈ کا عزم واضح ہے، اور ٹاہوہو جیسے کھلاڑیوں کی موجودگی میں وہ یقیناً ایک خطرناک حریف ثابت ہوں گی۔