Bangladesh Cricket

“It’s a blessing for the team” – Miraz hails Mosaddek’s remarkable comeback

Snehe Roy · · 1 min read
Share

بنگلہ دیش کی آسٹریلیا کے خلاف تاریخی کامیابی اور مصدق حسین کا جادو

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے بلکہ تاریخ میں پہلی بار کینگروز کے خلاف ایک یادگار کامیابی بھی اپنے نام کی۔ اگرچہ سیریز کے تیسرے اور آخری یک روزہ میچ میں بنگلہ دیش کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد محض ایک وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ٹائیگرز نے پہلے دو میچ جیت کر سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی تھی۔ اس تاریخی فتح کا جشن جہاں پورے ملک میں منایا جا رہا ہے، وہیں اس سیریز کی سب سے بڑی خاص بات آل راؤنڈر مصدق حسین کی قومی ٹیم میں شاندار واپسی تھی۔

مصدق حسین کی اس غیر معمولی کارکردگی نے بنگلہ دیشی ٹیم کے کپتان مہدی حسن معراج کو بھی ان کی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کپتان نے ان کے شاندار کم بیک کو سراہتے ہوئے کہا کہ “It’s a blessing for the team” – Miraz hails Mosaddek’s remarkable comeback۔ ان کا کہنا تھا کہ مصدق نے جس عزم اور حوصلے کے ساتھ ٹیم میں واپسی کی ہے، اس نے ٹیم کی مڈل آرڈر کی مشکلات کو مکمل طور پر حل کر دیا ہے۔

آخری اوور کا سنسنی خیز مقابلہ اور سیریز کا فیصلہ

بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے مابین کھیلا گیا تیسرا ون ڈے میچ اعصاب شکن ثابت ہوا۔ آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کی جانب سے دیے گئے ہدف کا تعاقب انتہائی آخری اوور میں صرف ایک وکٹ باقی رہ جانے پر حاصل کیا۔ اگرچہ بنگلہ دیش کو اس میچ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن کھلاڑیوں نے آخری گیند تک ہمت نہیں ہاری۔ اس سنسنی خیز مقابلے نے شائقین کو دنگ کر کے رکھ دیا۔ بنگلہ دیشی ٹیم پہلے ہی سیریز اپنے نام کر چکی تھی، اس لیے اس میچ کی شکست ان کے سیریز جیتنے کے جشن اور جوش کو کم نہ کر سکی۔ ٹائیگرز نے آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر اپنی بالادستی ثابت کر دی۔

مصدق حسین: چار سال کی طویل جدوجہد کا مٹھا پھل

اس تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے حقیقی ہیرو مصدق حسین ثابت ہوئے، جنہوں نے تقریباً چار سال کے طویل عرصے کے بعد بنگلہ دیشی قومی ٹیم کے اسکواڈ میں جگہ بنائی تھی۔ ان کے لیے یہ واپسی آسان نہیں تھی، لیکن انہوں نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیا کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ مصدق حسین نے اس سیریز کے دوران بلے اور گیند دونوں سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

مصدق نے تین میچوں میں شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 157 رنز بنائے، جس میں ٹیم کو بحران سے نکالنے والی اننگز بھی شامل تھیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بولنگ میں بھی اپنا جادو دکھایا اور 2 اہم وکٹیں حاصل کر کے ٹیم کو اہم مواقع پر کامیابیاں دلائیں۔ ان کی اس شاندار آل راؤنڈر کارکردگی کی بدولت انہیں سیریز کا بہترین کھلاڑی (پلیئر آف دی سیریز) قرار دیا گیا۔

کپتان مہدی حسن معراج کا پریس کانفرنس میں بڑا اعتراف

میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کپتان مہدی حسن معراج مصدق حسین کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا: “مصدق کی واپسی ٹیم کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ انہیں چار سال بعد ٹیم میں دوبارہ موقع ملا، اور انہوں نے جس انداز میں کارکردگی دکھائی، اس سے بالکل بھی ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اتنے طویل عرصے سے بین الاقوامی کرکٹ سے دور تھے۔”

مہدی حسن معراج نے مصدق کی ڈومیسٹک کرکٹ میں کی جانے والی محنت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا: “پچھلے چار سالوں میں انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ اور دیگر تمام مقامات پر جو سخت محنت کی ہے، آج اس کا صلہ انہیں مل گیا ہے۔ ان کی ٹیم میں واپسی ہمارے لیے انتہائی اہم رہی ہے اور اس سے ٹیم کا توازن بہت بہتر ہوا ہے۔”

مڈل آرڈر کے دیرینہ مسئلے کا حل

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم طویل عرصے سے مڈل آرڈر اور لوئر مڈل آرڈر میں ایک ایسے قابل اعتماد بلے باز کی تلاش میں تھی جو دباؤ کے وقت وکٹ پر ٹک سکے اور تیزی سے رنز بنا سکے۔ کپتان معراج نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مصدق حسین نے اس خلا کو بہت خوبصورتی سے پُر کیا ہے۔

کپتان کا کہنا تھا: “لوگ اکثر اس بات پر بحث کرتے تھے کہ ہماری ٹیم کو مڈل یا لوئر مڈل آرڈر میں ایک ایسے بلے باز کی ضرورت ہے جو اننگز کو سنبھال سکے۔ مصدق نے اس پوزیشن پر آ کر نہ صرف رنز بنائے بلکہ ٹیم کی مڈل آرڈر کو مضبوطی بھی فراہم کی۔ انہوں نے ٹیم کی ضرورت کے مطابق شاندار کھیل پیش کیا ہے۔”

بنگلہ دیشی ٹیم کا مستقبل اور نئے عزم کا آغاز

آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں تاریخی فتح اور مصدق حسین جیسے تجربہ کار آل راؤنڈر کی بہترین فارم میں واپسی نے بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ اور سلیکٹرز کو بھی ایک نیا حوصلہ دیا ہے۔ اس فتح سے نہ صرف ٹیم کا مورال بلند ہوا ہے بلکہ آنے والے بین الاقوامی دوروں کے لیے کھلاڑیوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مصدق حسین کا یہ شاندار کم بیک اس بات کی دلیل ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کی جانے والی محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی اور عزم و ہمت سے ہر منزل کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیشی شائقین اب امید کر رہے ہیں کہ مصدق حسین مستقبل میں بھی اپنی اسی شاندار فارم کو برقرار رکھیں گے اور ٹیم کی فتوحات میں اپنا اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.