محمد کیف کی رشبھ پنت کی حمایت: وائس کپتانی سے ہٹائے جانے پر اہم تبصرہ
رشبھ پنت اور ٹیم انڈیا کی حکمت عملی: ایک نیا موڑ
بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں حال ہی میں ایک اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں رشبھ پنت کو نائب کپتانی کے عہدے سے ہٹا کر کے ایل راہول کو شبمن گل کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ افغانستان کے خلاف ہونے والے واحد ٹیسٹ میچ کے لیے کیا گیا ہے، جس نے کرکٹ حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم، بھارتی ٹیم کے سابق جارحانہ بلے باز محمد کیف نے رشبھ پنت کا دفاع کرتے ہوئے اس فیصلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
مختلف فارمیٹس کا فرق اور تنقید کا معیار
محمد کیف کا ماننا ہے کہ کسی کھلاڑی کو ایک فارمیٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر دوسرے فارمیٹ میں پرکھنا درست نہیں ہے۔ رشبھ پنت کی موجودہ آئی پی ایل فارم اور ان کی کپتانی پر ہونے والی تنقید کے تناظر میں کیف کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ کرکٹ دو بالکل مختلف کھیل ہیں۔ ان کے مطابق، پنت نے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی غلطی نہیں کی ہے اور انہیں صرف آئی پی ایل کی خراب کارکردگی کی بنیاد پر پرکھنا ناانصافی ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کا اصل میچ ونر
محمد کیف نے جیوسٹار پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیسٹ فارمیٹ میں رشبھ پنت سے بڑا کوئی میچ ونر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا:
رشبھ پنت نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ اور وائٹ بال کرکٹ بالکل مختلف ہیں۔ اگر آپ انہیں آئی پی ایل کی بنیاد پر جج کر رہے ہیں کہ وہ کپتانی میں ناکام ہیں یا رنز نہیں بنا پا رہے، تو یہ غلط ہے۔ میری ذاتی رائے میں ٹیسٹ کرکٹ میں بلے کے ساتھ رشبھ پنت سے بڑا میچ ونر کوئی نہیں ہے۔
رشبھ پنت کا شاندار ٹیسٹ ریکارڈ
اگر رشبھ پنت کے ٹیسٹ کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو ان کے اعداد و شمار خود ان کی اہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 2018 میں ڈیبیو کرنے کے بعد سے، پنت نے 49 ٹیسٹ میچوں میں 42.91 کی اوسط سے 3476 رنز بنائے ہیں۔ ان کا سب سے زیادہ اسکور ناٹ آؤٹ 159 رنز ہے۔
- آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف کارکردگی: پنت بیرون ملک سیریز میں ٹیم انڈیا کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہوئے ہیں۔
- انگلینڈ کا دورہ: لیڈز میں انہوں نے میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کیں، جو ان کی تکنیک اور مزاج کا بہترین نمونہ تھا۔
- مستقل مزاجی: گزشتہ برس 7 ٹیسٹ میچوں کے دوران انہوں نے انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیموں کے خلاف تین نصف سنچریاں بنا کر اپنی اہمیت ثابت کی۔
نتیجہ: کیا پنت کو نظر انداز کرنا درست ہے؟
ٹیم مینجمنٹ کا فیصلہ چاہے جو بھی ہو، یہ حقیقت واضح ہے کہ رشبھ پنت کی جارحانہ بیٹنگ اور غیر متوقع شاٹس انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔ محمد کیف کا موقف اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی کھلاڑی کے تجربے اور ماضی کی کارکردگی کو نظر انداز کرنا ٹیم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ پنت بدستور بھارتی ٹیم کے ایک کلیدی کھلاڑی ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی واپسی یا ان کا کردار ٹیم کے مجموعی سکور میں انتہائی اہمیت کا حامل رہے گا۔
کرکٹ کے ماہرین اب یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ٹیم انتظامیہ آنے والے میچوں میں رشبھ پنت کو کس طرح استعمال کرتی ہے، کیونکہ ان جیسا جارحانہ بلے باز کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
