Report

Mosaddek stars on ODI comeback to lift Bangladesh to 284

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

مصدق حسین کی شاندار واپسی: بنگلہ دیش کا آسٹریلیا کے خلاف مضبوط اسکور

کرکٹ کے میدان میں واپسی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، لیکن مصدق حسین نے اپنے طویل چار سالہ ون ڈے وقفے کے بعد ثابت کر دیا کہ ان میں ابھی بہت کرکٹ باقی ہے۔ Mosaddek stars on ODI comeback to lift Bangladesh to 284 کے اسکور تک بنگلہ دیش کو پہنچانے میں مصدق کی ناقابل شکست 86 رنز کی اننگز فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ یہ مقابلہ بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے ایک اچھا آغاز ثابت ہوا، اگرچہ آسٹریلوی ٹیم کی فیلڈنگ اس میچ میں انتہائی مایوس کن رہی۔

اننگز کا آغاز اور ابتدائی چیلنجز

بنگلہ دیش نے اننگز کا آغاز کافی جارحانہ انداز میں کیا تھا۔ نیتھن ایلس نے ابتدائی اوورز میں سیف حسن کو پویلین بھیج کر بنگلہ دیش کو پہلا جھٹکا دیا، جہاں مارنس لیبوشین نے سیکنڈ سلپ پر ایک شاندار کیچ پکڑا۔ تاہم، تنزید حسن اور نجم الحسن شانتو نے آسٹریلوی گیند بازوں پر دباؤ برقرار رکھا۔ تنزید حسن نے اپنی تکنیک اور پاور ہٹنگ کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے گراؤنڈ کے چاروں طرف شاٹس کھیلے، جبکہ شانتو نے بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی۔

آسٹریلوی فیلڈنگ کی ناکامی

آسٹریلیا کی فیلڈنگ اس میچ میں کسی بھی طرح معیاری نہیں تھی۔ مہمان ٹیم نے مجموعی طور پر چار کیچز چھوڑے، جس کا سب سے زیادہ فائدہ مصدق حسین کو ملا۔ مصدق کو اپنی اننگز کے دوران تین بار زندگی ملی، جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ آخری اوور میں کیمرون گرین کی جانب سے تھرو میں ہونے والی غلطی نے بھی بنگلہ دیش کو اضافی رنز اور مصدق کو اسٹرائیک پر واپس لانے کا موقع دیا۔

مصدق حسین کی جارحانہ بلے بازی

مصدق حسین نے اپنی 70 گیندوں کی اننگز میں سات چوکے اور تین بلند و بالا چھکے لگائے۔ انہوں نے توحید ہردوئی کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 75 رنز کی اہم شراکت قائم کی اور بعد ازاں تسکین احمد کے ساتھ بھی 45 رنز جوڑے۔ مصدق کا اعتماد دیدنی تھا، خاص طور پر ایڈم زمپا اور زیویئر بارٹلیٹ کے خلاف ان کے شاٹس نے آسٹریلوی کپتان کو پریشان کر دیا۔ انہوں نے ریورس سویپ کا بھی بہترین مظاہرہ کیا جو ان کے فارم میں ہونے کا ثبوت تھا۔

مڈل آرڈر کی جدوجہد اور اختتام

ایک وقت پر بنگلہ دیش کی پوزیشن کافی مستحکم تھی، لیکن لیٹن داس اور نجم الحسن شانتو کے میٹ رینشا کے ہاتھوں آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم کچھ دباؤ میں آگئی۔ توحید ہردوئی اور کپتان مہدی حسن معراج بھی تیزی سے آؤٹ ہوئے، جس سے بنگلہ دیشی ٹیم مشکلات کا شکار ہو سکتی تھی، لیکن مصدق حسین نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور ٹیم کو 284 رنز کے مسابقتی ٹوٹل تک پہنچا دیا۔

نتیجہ

آسٹریلیا کے لیے یہ دن یادگار نہیں رہا، خاص طور پر فیلڈنگ میں کی گئی غلطیوں نے انہیں ایک بڑا ہدف دیا ہے۔ دوسری طرف، بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے یہ ایک حوصلہ افزا آغاز ہے، جہاں مصدق حسین کی فارم اور ٹیم کا مجموعی اسکور انہیں میچ میں برتری فراہم کرتا ہے۔ آنے والے اوورز میں آسٹریلوی بلے بازوں کو بنگلہ دیشی اسپنرز اور تیز گیند بازوں کے خلاف ایک مشکل امتحان کا سامنا کرنا پڑے گا۔