‘Not ready to give up this’ – Lyon’s hunger drives long road back
نیتھن لائن کی کرکٹ کے میدانوں میں واپسی کی کہانی
آسٹریلیا کے مایہ ناز اسپنر نیتھن لائن، جو ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی مہارت کے لیے جانے جاتے ہیں، ایک طویل اور تکلیف دہ انجری کے بعد دوبارہ ایکشن میں نظر آنے کے لیے تیار ہیں۔ اگست میں ڈارون میں بنگلہ دیش کے خلاف ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے ان کی تیاریوں نے ان کے ناقدین کو بھی خاموش کر دیا ہے کہ ان میں اب بھی کھیل کا وہی جذبہ باقی ہے۔
انجری اور بحالی کا مشکل سفر
ایڈیلیڈ میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے دوران نیتھن لائن ہیمسٹرنگ کی ایک سنگین انجری کا شکار ہوئے تھے۔ یہ انجری اتنی شدید تھی کہ انہیں پٹھوں کو دوبارہ جوڑنے کے لیے سرجری کا سہارا لینا پڑا۔ بحالی کے اس طویل عمل کے دوران، لائن نے نہ صرف کرکٹ کے میدان سے دوری کا سامنا کیا بلکہ انہوں نے روڈ بائیکنگ جیسے نئے شوق کو اپنایا، جس میں انہوں نے 700 کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کیا۔
نیتھن لائن کا کہنا ہے کہ یہ وقت ان کے لیے بہت صبر آزما تھا، لیکن ان کی توجہ صرف اس بات پر تھی کہ وہ کیسے جلد از جلد اپنی پرانی فارم میں واپس آ سکیں۔ کرکٹ سینٹر سڈنی میں باؤلنگ کا آغاز کرنے کے بعد، اب وہ بریسبین میں ہونے والے تربیتی کیمپوں میں بلے بازوں کو چیلنج کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔
انتخاب اور مستقبل کے خدشات
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹرز جارج بیلی اور ہیڈ کوچ اینڈریو میکڈونلڈ نے حال ہی میں لائن کے مستقبل کے حوالے سے کچھ محتاط تبصرے کیے تھے، جنہیں لائن نے بخوبی سنا اور سمجھا ہے۔ نیتھن لائن نے واضح کیا کہ وہ ان تبصروں سے مایوس نہیں بلکہ پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان میں کھیل کی بھوک نہ ہوتی تو وہ یہ سب محنت نہ کر رہے ہوتے۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کو ٹیم میں جگہ خود کمانی پڑتی ہے اور وہ ہر اس ٹیسٹ میچ میں کھیلنے کے لیے تیار ہیں جس کے لیے وہ دستیاب ہیں۔
کھیل کا جذبہ اور تحریک
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیتھن لائن کو واپسی کی ترغیب اسٹیٹ آف اوریجن رگبی لیگ میچ دیکھتے ہوئے ملی۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے کھلاڑیوں کو اس طرح کا کم بیک کرتے دیکھا، تو انہیں احساس ہوا کہ وہ کرکٹ کے اس مسابقتی ماحول سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ اپنی اہلیہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ اب بھی کھیل کو خیرباد کہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مستقبل کے اہداف اور وکٹوں کی دوڑ
567 ٹیسٹ وکٹوں کے ساتھ نیتھن لائن شین وارن کے بعد آسٹریلیا کے دوسرے کامیاب ترین باؤلر ہیں۔ ان کے سامنے اب 600 وکٹوں کا سنگ میل موجود ہے، جسے وہ آنے والے 11 مہینوں میں حاصل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آنے والی سیریز میں وکٹیں کیسی بھی ہوں، اصل مقصد باؤلنگ اور بیٹنگ کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ وہ کرکٹ کے گراؤنڈز پر ایک صحت مند مقابلے کے متمنی ہیں تاکہ کھیل کی اصل روح برقرار رہے۔
نیتھن لائن کی واپسی صرف ان کی فٹنس کا معاملہ نہیں بلکہ ان کے عزم کا بھی امتحان ہے۔ آسٹریلوی شائقین کو امید ہے کہ اگست میں شروع ہونے والے سیزن میں وہ اپنے پسندیدہ اسپنر کو ایک بار پھر پرانی آب و تاب کے ساتھ گیند بازی کرتے ہوئے دیکھیں گے۔
