News

نیو لینڈز ٹیسٹ: کرکٹ ساؤتھ افریقہ کا مقامی شائقین کو ٹکٹوں سے محروم کرنے پر تنازعہ

Snehe Roy · · 1 min read
Share

نیو لینڈز ٹیسٹ اور ٹکٹوں کا بحران: ایک تجارتی فیصلہ یا شائقین کی حق تلفی؟

کرکٹ ساؤتھ افریقہ (CSA) کو حال ہی میں اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انگلینڈ کے خلاف نیو لینڈز میں ہونے والے نیو ایئر ٹیسٹ کے ٹکٹ چند منٹوں میں ہی فروخت ہو گئے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ ٹورنامنٹ کے لیے عوام کو فروخت کیے جانے والے ٹکٹوں کی تعداد 1600 سے بھی کم تھی۔ 3 سے 7 جنوری کے درمیان ہونے والے اس اہم میچ کے ٹکٹوں کا بڑا حصہ ٹور گروپس اور کارپوریٹ سیکٹر کو دیا گیا ہے۔

ٹکٹوں کی تقسیم کا غیر منصفانہ فارمولا

ایک رپورٹ کے مطابق، ٹکٹوں کا 39 فیصد حصہ ٹور گروپس کے لیے مختص کیا گیا، جبکہ 41 فیصد حصہ مہمان نوازی، اسپانسرز، اسٹیک ہولڈرز اور دیگر سروس الاٹمنٹس میں چلا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنوبی افریقی شائقین، جو گزشتہ سیزن میں مقامی کرکٹ سے محروم رہے تھے، اب اپنے ہی ملک میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئنز کو کھیلتا دیکھنے کے لیے اقلیت میں ہوں گے۔

نیو لینڈز ٹکٹ الاٹمنٹ کی تفصیلات:

  • 39 فیصد: بین الاقوامی اور مقامی ٹریول پیکجز
  • 19 فیصد: اسپانسرز، آفیشلز، اور میڈیا
  • 21 فیصد: جنرل ہاسپیٹیلیٹی اور ممبران
  • 13 فیصد: عوام کے لیے مختص
  • 8 فیصد: دیگر متفرق (سیزن ٹکٹ، وہیل چیئر، ریسٹرکٹڈ ایریاز)

تجارتی مفادات اور شائقین کا ردعمل

ماہرین کا کہنا ہے کہ CSA کی جانب سے یہ فیصلہ تجارتی نقطہ نظر سے تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن یہ مقامی شائقین کے ساتھ زیادتی ہے۔ اسپورٹس بزنس محقق نقیبول ندلو کے مطابق، CSA نے عملی طور پر اپنے گھریلو شائقین کے لیے دروازے بند کر دیے ہیں۔ ریڈیو چینل ‘کیپ ٹاک’ (CapeTalk) پر بھی اس بات پر کافی لے دے ہوئی ہے کہ مقامی شائقین ٹکٹ خریدنے سے قاصر کیوں رہے۔

انگلینڈ کی ٹیم کا دورہ جنوبی افریقہ ہمیشہ سے منافع بخش رہا ہے، خاص طور پر ‘بارمی آرمی’ کی موجودگی اور کیپ ٹاؤن کی سیاحتی کشش کے باعث۔ موجودہ کرنسی کے ریٹ کو دیکھتے ہوئے، CSA یقینی طور پر اس دورے سے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ گزشتہ برس CSA نے 238 ملین رینڈ کا منافع کمایا تھا، تاہم 2025-26 کے سیزن میں کم میچز کے باعث اس بار وہ مالی توازن کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

کیا ابھی بھی ٹکٹ مل سکتے ہیں؟

اگرچہ نیو لینڈز ٹیسٹ کو ‘سولڈ آؤٹ’ قرار دیا گیا ہے، لیکن تکنیکی طور پر ابھی کچھ امید باقی ہے۔ عوام کے لیے مختص کردہ 13 فیصد ٹکٹوں میں سے ابھی بھی کچھ حصہ فروخت کے لیے دوبارہ جاری کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پچ کی تیاری اور سائٹ اسکرین کے معاملات طے پانے کے بعد کچھ اضافی نشستیں بھی دستیاب ہو سکتی ہیں، جس کا فیصلہ میچ سے چند دن قبل متوقع ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید کرکٹ میں مالی منافع اور شائقین کی دلچسپی کے درمیان توازن برقرار رکھنا کرکٹ بورڈز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ جنوبی افریقی شائقین اب صرف اس امید پر ہیں کہ آنے والے میچوں میں انہیں اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کا موقع مل سکے۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.