Report

پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: ٹیسٹ میچ میں بابر اعظم کی جدوجہد اور بنگلہ دیش کی برتری

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

سلہٹ ٹیسٹ: بنگلہ دیشی بولرز کا غلبہ، پاکستان مشکلات کا شکار

سلہٹ میں جاری دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن بنگلہ دیشی بولرز، خاص طور پر ٹاسکن احمد اور مہدی حسن میراز نے اپنی عمدہ بولنگ سے پاکستان کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ لنچ کے وقفے تک پاکستان نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 96 رنز بنائے ہیں اور وہ بنگلہ دیش کے پہلی اننگز کے اسکور سے ابھی بھی 182 رنز پیچھے ہے۔

ٹاسکن اور مہدی کا طوفان

دن کے آغاز سے ہی بنگلہ دیشی بولرز نے پاکستانی بیٹرز کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ ٹاسکن احمد نے دوسرے اوور میں ہی عبداللہ فضل کو آؤٹ کر کے پاکستان کو پہلا نقصان پہنچایا۔ لٹن داس نے ایک شاندار کیچ پکڑ کر اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلائی۔ اس کے بعد شورفل اسلام نے بھی اپنی بولنگ سے پاکستانی بیٹرز کو کافی پریشان کیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹاسکن نے اذان اویس کو شارٹ مڈ وکٹ پر کیچ آؤٹ کروا دیا۔

پاکستان کی جانب سے بابر اعظم، جو انجری کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں، ایک اینڈ سنبھالے ہوئے ہیں اور لنچ تک 37 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ ہیں۔ ان کا ساتھ سلمان آغا دے رہے ہیں، جو 6 رنز پر کھیل رہے ہیں۔

کپتان اور مڈل آرڈر کی ناکامی

پاکستان کی اننگز اس وقت مزید لڑکھڑا گئی جب مہدی حسن میراز نے اپنے پہلے ہی اوور میں کپتان شان مسعود کو پویلین کی راہ دکھا دی۔ شان مسعود 21 رنز بنانے کے بعد نائیم حسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد مہدی نے سعود شکیل کو بھی آؤٹ کیا، جو صرف 8 رنز بنا سکے۔ سعود شکیل کی فارم اس سیریز میں پاکستان کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

بنگلہ دیش کی پہلی اننگز اور لٹن داس کی سنچری

اس سے قبل بنگلہ دیش کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 278 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی۔ بنگلہ دیش کی اننگز کا اصل سہارا لٹن داس تھے، جنہوں نے شاندار 126 رنز کی اننگز کھیلی۔ یہ ان کی پاکستان کے خلاف تیسری اور مجموعی طور پر چھٹی ٹیسٹ سنچری تھی۔ ایک وقت پر بنگلہ دیش کی ٹیم 116 رنز پر 6 وکٹیں گنوا چکی تھی، لیکن لٹن داس نے دم دار بیٹنگ کرتے ہوئے نچلے آرڈر کے بیٹرز کے ساتھ مل کر قیمتی شراکتیں قائم کیں۔

بولنگ کا تجزیہ

پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد عباس نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بنگلہ دیش کے نچلے آرڈر کے بیٹرز نے بھی لٹن داس کا خوب ساتھ دیا اور 87 گیندوں کا سامنا کیا، جس سے بنگلہ دیش کو ایک قابلِ احترام اسکور تک پہنچنے میں مدد ملی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسرے سیشن میں پاکستان کس طرح اس دباؤ سے نکلتا ہے اور کیا بابر اعظم اپنی ٹیم کو اس مشکل صورتحال سے نکال پائیں گے یا بنگلہ دیشی بولرز مزید وکٹیں حاصل کر کے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کریں گے۔