News

Cummins keen to play entirety of Australia’s ‘unprecedented’ run

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

آسٹریلیا کا مصروف ترین کرکٹ کیلنڈر

پیٹ کمنز، جو آسٹریلیا کی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کی قیادت کر رہے ہیں، آنے والے بارہ مہینوں کے لیے انتہائی پرعزم ہیں۔ یہ وقت آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مصروف ترین دور مانا جا رہا ہے، جس میں قومی ٹیم کو 21 ٹیسٹ میچز تک کھیلنے پڑ سکتے ہیں۔ کمنز کا ماننا ہے کہ وہ اس چیلنج کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ اس غیر معمولی دور کے ہر لمحے کا حصہ بنیں۔

کمنز کی فٹنس اور تیاری

کمر کی انجری کے بعد طویل وقفے سے واپس آنے والے پیٹ کمنز نے حال ہی میں آئی پی ایل میں شرکت کی اور اپنی فارم کو بحال کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا جسم اب بالکل درست محسوس کر رہا ہے اور وہ اگلی سطح پر جانے کے لیے تیار ہیں۔ کمنز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا اگلا ہدف ٹیسٹ میچ کی شدت کو برداشت کرنا ہے، جس میں ایک دن میں 20 اوورز کروانا اور اگلے دن دوبارہ اسی توانائی کے ساتھ بولنگ کرنا شامل ہے۔

وہ جون اور جولائی کے مہینوں میں اپنی بولنگ لوڈ کو بتدریج بڑھائیں گے تاکہ اگست سے شروع ہونے والے طویل اور تھکا دینے والے سیزن کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔

غیر معمولی شیڈول: کیا ‘بگ تھری’ سب کھیل پائیں گے؟

آسٹریلیا کے معروف فاسٹ بولنگ اٹیک، جسے ‘بگ تھری’ کہا جاتا ہے (پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، اور جوش ہیزل ووڈ)، عام طور پر ہوم سمر کے تمام ٹیسٹ میچز کھیلنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ تاہم، کمنز اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ 21 ٹیسٹ میچوں کا یہ شیڈول ‘بے مثال’ ہے اور اس میں ردوبدل ناگزیر ہو سکتا ہے۔

کمنز نے کہا، “میں امید کر رہا ہوں کہ میں ان تمام میچوں میں کھیلوں گا، لیکن مجھے یقین ہے کہ راستے میں کئی رکاوٹیں آئیں گی۔ یہ دیکھنا بہت حیران کن ہوگا کہ اگر وہی تین بولرز تمام 21 ٹیسٹ میچوں میں نظر آئیں، اس لیے ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان موجود ہے۔”

سفید گیند کی کرکٹ پر ترجیحات

اپنے ٹیسٹ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے، پیٹ کمنز نے واضح کیا ہے کہ انہیں وائٹ بال کرکٹ (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی) کو پسِ پشت ڈالنا پڑے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس سیزن میں بگ بیش لیگ (BBL) میں ان کی شرکت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ وہ اپنی پوری توجہ ٹیسٹ میچوں پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔

جوش ہیزل ووڈ کی واپسی اور مستقبل

انجری کے باعث ایشز سیریز سے باہر رہنے والے جوش ہیزل ووڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کمنز نے اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیزل ووڈ کا آئی پی ایل کے دوران مسلسل بولنگ کرنا اور فٹنس دکھانا ایک مثبت علامت ہے۔ اگرچہ ہیزل ووڈ نے آسٹریلیا کے گزشتہ 20 میں سے صرف 10 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، لیکن کمنز کا ماننا ہے کہ اگر وہ اپنی ردھم برقرار رکھیں تو وہ ٹیسٹ کرکٹ میں باقاعدگی سے آسٹریلیا کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔

آنے والے اہم دورے

اگست میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز کے بعد، آسٹریلیا کی ٹیم ایک تاریخی سفر پر نکلے گی جس میں جنوبی افریقہ کا دورہ، بھارت کے خلاف لیجنڈری ٹور، اور انگلینڈ میں ایشز کا دفاع شامل ہے۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز اور ایم سی جی میں 150 ویں سالگرہ کا ٹیسٹ بھی شیڈول کا اہم حصہ ہے۔ یہ تمام مقابلے آسٹریلوی ٹیم کی ساکھ کے لیے انتہائی اہم ہیں، اور کمنز جیسے کپتان کے لیے ہر میچ کو جیتنا ایک بڑا امتحان ہوگا۔

آخر میں، آسٹریلوی ٹیم کا یہ بارہ ماہ کا سفر نہ صرف کھلاڑیوں کی جسمانی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا بلکہ ان کی مینجمنٹ کی حکمت عملی کا بھی امتحان ہوگا۔ کمنز کا یہ عزم کہ وہ ہر میچ میں ٹیم کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، ان کی قیادت اور کھیل کے تئیں ان کی گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔