Latest Cricket News

بابر اعظم کی ناقص بیٹنگ پر رمیز راجہ کا شدید غصہ: پاکستان اور بنگلہ دیش ٹیسٹ کی تفصیلات

Snehe Roy · · 1 min read
Share

بابر اعظم کی کارکردگی پر رمیز راجہ کی برہمی: ایک تفصیلی تجزیہ

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز رمیز راجہ نے بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں بابر اعظم ایک اچھی شروعات کے بعد جس طرح سے آؤٹ ہوئے، اس نے نہ صرف ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا بلکہ ماہرینِ کرکٹ کو بھی حیران کر دیا ہے۔ رمیز راجہ کا ماننا ہے کہ بابر اعظم جیسا ورلڈ کلاس کھلاڑی جب سیٹ ہو کر وکٹ گنواتا ہے تو اس کا خمیازہ پوری ٹیم کو بھگتنا پڑتا ہے۔

بابر اعظم کی وکٹ اور رمیز راجہ کے تند و تیز ریمارکس

بابر اعظم، جو انجری کے باعث پہلے ٹیسٹ سے باہر تھے، دوسرے ٹیسٹ میں امام الحق کی جگہ ٹیم میں واپس آئے۔ انہوں نے 68 رنز کی ایک ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جو کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کی تاریخ میں ان کی 20ویں نصف سنچری تھی۔ اس سنگ میل کے ساتھ انہوں نے آسٹریلوی لیجنڈ اسٹیو اسمتھ اور برطانوی اوپنر زیک کرولی کا ریکارڈ تو برابر کر دیا، لیکن وہ اپنی اس اننگز کو بڑے اسکور میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔

بنگلہ دیشی فاسٹ بولر ناہید رانا نے بابر اعظم کو اپنی رفتار کی تبدیلی سے چکمہ دیا۔ رمیز راجہ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: “آپ نے اپنی وکٹ گنوا کر پورے سیشن کا مزہ کرکرا کر دیا ہے۔ آپ اتنے عرصے سے پاکستان کے لیے کھیل رہے ہیں کہ آپ نے 149 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کا سامنا کیا ہے، لہذا آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ بولر درمیان میں اپنی رفتار کم کرے گا، لیکن آپ کے پاس اس کے لیے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔”

ٹیکنیکل خامیاں اور حریف ٹیموں کی حکمت عملی

رمیز راجہ نے مزید کہا کہ رفتار ہی بابر اعظم کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمارٹ ٹیمیں بابر کی اس کمزوری کو جانتی ہیں اور اسی کے مطابق فیلڈنگ اور بولنگ ترتیب دیتی ہیں۔ جب ایک بلے باز تیز گیندوں کو آسانی سے کھیل لیتا ہے، تو اسے سلو گیندوں (Slower balls) کے لیے بھی ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔ بابر اعظم کا مڈ آن پر مشفیق الرحیم کو کیچ تھمانا ان کی توجہ کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کی بیٹنگ لائن کا بحران اور ڈبلیو ٹی سی کی صورتحال

پاکستان کی بیٹنگ لائن اس پوری سیریز میں جدوجہد کرتی دکھائی دی ہے۔ بابر اعظم کے علاوہ ٹاپ آرڈر کا کوئی بھی بلے باز 30 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکا۔ پاکستان کی پہلی اننگز 232 رنز پر سمٹ گئی، جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کو پہلی اننگز میں 46 رنز کی برتری حاصل ہو گئی۔ اگرچہ ساجد خان نے آخر میں کچھ مزاحمت دکھائی، لیکن وہ ٹیم کے مجموعی اسکور کو مستحکم کرنے کے لیے کافی نہ تھی۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر اثرات

پاکستان کے لیے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا یہ سیزن کسی ڈراؤنے خواب سے کم ثابت نہیں ہو رہا۔ پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان پوائنٹس ٹیبل پر آٹھویں پوزیشن پر گر گیا ہے۔ اس کے علاوہ، سلو اوور ریٹ کی وجہ سے پاکستان کے 8 پوائنٹس کاٹ لیے گئے ہیں، جس نے فائنل تک رسائی کی امیدوں کو مزید دھندلا دیا ہے۔ کپتان شان مسعود نے پہلے ہی فاسٹ بولرز کی جانب سے مطلوبہ اثر نہ ڈالنے کو شکست کی بڑی وجہ قرار دیا تھا۔

مستقبل کے چیلنجز اور بابر اعظم کی ذمہ داری

پاکستان کرکٹ کے لیے یہ وقت انتہائی نازک ہے۔ رمیز راجہ کے بقول، بابر اعظم کو اپنی تکنیک اور شاٹ سلیکشن پر کام کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں جہاں صبر و تحمل سب سے اہم ہوتا ہے۔ پاکستان کو اگر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے، تو سینئر کھلاڑیوں کو میدان میں اپنی کارکردگی سے جواب دینا ہوگا۔

  • بابر اعظم کی 68 رنز کی اننگز میں 20ویں ڈبلیو ٹی سی ففٹی شامل تھی۔
  • ناہید رانا کی سلو گیند بابر کی روانگی کا سبب بنی۔
  • پاکستان کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 232 رنز بنا سکی۔
  • ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کی پوزیشن تشویشناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔

خلاصہ یہ کہ رمیز راجہ کی تنقید صرف ایک کھلاڑی پر نہیں بلکہ پورے بیٹنگ سسٹم پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ بابر اعظم کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی ان خامیوں پر قابو پا سکتے ہیں جن کی نشان دہی سابق کرکٹرز کر رہے ہیں۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.