Cricket News

Rishabh Pant’s Release To IPL Auction Pool All But Confirmed – Rishabh Pant LSG Release IPL Auction: رشبھ پنت لکھنؤ سپر جائنٹس سے الگ ہونے کے قریب

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

رشبھ پنت اور لکھنؤ سپر جائنٹس کا سفر اختتام کی طرف گامزن

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے آئندہ سیزن سے قبل ایک بڑی ہلچل مچنے والی ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے اسٹار وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت کا اپنی فرنچائز کے ساتھ سفر اب اپنے اختتام کے بالکل قریب دکھائی دے رہا ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس کے مالک سنجیو گوئنکا اور ٹیم انتظامیہ کی جانب سے رشبھ پنت کو آئی پی ایل کی نیلامی سے قبل ریلیز کیے جانے کے امکانات اب تقریباً یقینی ہو چکے ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب محض ایک دن قبل ہی فرنچائز نے رشبھ پنت کے کپتانی سے دستبردار ہونے کی تصدیق کی تھی۔ اب ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم کا تھنک ٹینک انہیں اسکواڈ سے مکمل طور پر فارغ کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق، لکھنؤ سپر جائنٹس کی انتظامیہ رشبھ پنت کی کارکردگی اور نتائج سے شدید مایوس ہے۔ فرنچائز کا ماننا ہے کہ پنت کو دی جانے والی 27 کروڑ روپے کی بھاری رقم کے مقابلے میں ٹیم کو وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اگرچہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے، لیکن پنت کا نیلامی کے پول (Auction Pool) میں شامل ہونا اب ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔

کپتانی سے دستبرداری اور مایوس کن کارکردگی کے اعداد و شمار

گزشتہ 29 مئی کو لکھنؤ سپر جائنٹس نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی تھی کہ رشبھ پنت نے دو مایوس کن سیزنز کے بعد رضاکارانہ طور پر کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرنچائز نے اپنے بیان میں کہا کہ پنت نے خود کپتانی کے فرائض سے سبکدوش ہونے کی درخواست کی تھی، جسے انتظامیہ نے احترام کے ساتھ قبول کر لیا ہے۔

ٹیم کے اہم عہدیدار موڈی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رشبھ پنت نے خود فرنچائز سے یہ درخواست کی تھی اور ہم نے اسے خلوص دل سے قبول کر لیا ہے۔ اس طرح کے فیصلے کبھی بھی آسان نہیں ہوتے۔ ہم رشبھ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے بطور کپتان ڈریسنگ روم میں اپنا بہترین حصہ ڈالا۔ اب ہماری تمام تر توجہ ٹیم کی ازسرنو تعمیر اور ڈھانچے کی درستگی پر ہے تاکہ ہم بہترین معیار حاصل کر سکیں اور آنے والے چیلنجز کا سامنا کر سکیں۔

تاہم، ان تعریفی اور نرم الفاظ کے پیچھے چھپے ہوئے حقائق اور اعداد و شمار ایک الگ ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ بطور کپتان رشبھ پنت کا ریکارڈ انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ انہوں نے 28 میچوں میں ٹیم کی قیادت کی، جس میں سے لکھنؤ سپر جائنٹس صرف 10 میچ جیتنے میں کامیاب ہو سکی۔ ان کی کپتانی میں جیت کا تناسب محض 35.71 فیصد رہا، جو کسی بھی صف اول کے کپتان کے لیے انتہائی کم ہے۔

اگر بلے بازی کی بات کی جائے تو پنت کے انفرادی اعداد و شمار بھی ان کے قد کاٹھ کے مطابق نہیں تھے۔ انہوں نے ان میچوں میں 26.40 کی اوسط اور 135.74 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ مجموعی طور پر 581 رنز بنائے۔ خاص طور پر 2026 کا سیزن لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوا، جہاں ٹیم نے 14 میچوں میں سے صرف 4 میں فتح حاصل کی اور پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آخری نمبر پر رہی۔

لکھنؤ سپر جائنٹس کا تھنک ٹینک کیوں الگ ہونا چاہتا ہے؟

رشبھ پنت کو ریلیز کرنے کا یہ بڑا فیصلہ فرنچائز کے انتہائی تجربہ کار اور ہائی پروفائل کوچنگ سیٹ اپ کی مشاورت سے کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جسٹن لینگر، کین ولیمسن اور ٹام موڈی پر مشتمل لکھنؤ کا تھنک ٹینک متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ پنت کی کارکردگی ان کی بھاری قیمت (پرائس ٹیگ) کے ساتھ انصاف نہیں کر رہی۔

لکھنؤ کا تھنک ٹینک رشبھ پنت کی انفرادی صلاحیتوں اور جارحانہ مزاج کا احترام تو کرتا ہے، لیکن ان کا ماننا ہے کہ اب ٹیم کو قیادت اور وسائل کی تقسیم دونوں لحاظ سے ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے۔ اگرچہ رشبھ پنت کا کپتانی سے دستبردار ہونا ان کی عزت بچانے کا ایک طریقہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن اس فیصلے نے بھی اسکواڈ میں ان کی جگہ محفوظ بنانے کی ضمانت نہیں دی۔

فرنچائز کے ایک اندرونی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پنت کو ریلیز کرنے کا آپشن اب میز پر موجود ہے اور انتظامیہ اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے کہ آیا انہیں دوبارہ نیلامی کے پول میں بھیجا جائے یا نہیں۔ ایک امکان یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایل ایس جی انہیں ریلیز کرنے کے بعد نیلامی میں بہت کم قیمت پر دوبارہ خریدنے کی کوشش کر سکتی ہے، لیکن اس بات کی کوئی حتمی یقین دہانی نہیں کی جا سکتی کیونکہ نیلامی میں دیگر ٹیمیں بھی پنت کو حاصل کرنے کے لیے بڑی بولیاں لگا سکتی ہیں۔

27 کروڑ روپے کا بھاری بوجھ اور بجٹ کی بچت

27 کروڑ روپے کے معاوضے کے ساتھ رشبھ پنت نہ صرف لکھنؤ سپر جائنٹس کے سب سے مہنگے کھلاڑی ہیں بلکہ وہ آئی پی ایل کی تاریخ کے مہنگے ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ ایک ایسی فرنچائز جو 2026 کے سیزن میں آخری نمبر پر رہی ہو، اس کے لیے اتنی بڑی رقم ایک ایسے کھلاڑی پر خرچ کرنا جو نہ تو بطور کپتان اور نہ ہی بطور میچ ونر مسلسل کارکردگی دکھا پا رہا ہو، اب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔

فرنچائز کے مالکان کا خیال ہے کہ اس بھاری رقم کو ریلیز کر کے حاصل ہونے والے بجٹ کو ٹیم کے متعدد دیگر کمزور شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لکھنؤ کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ وہ ایک متوازن اور مضبوط اسکواڈ تیار کرے بجائے اس کے کہ وہ کسی ایک کھلاڑی پر بجٹ کا بڑا حصہ خرچ کر دے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیم کے ایک اور ناکام رہنے والے اسٹار کھلاڑی نکولس پورن شاید اس بڑی تبدیلی کی زد میں آنے سے بچ جائیں۔ انتظامیہ پورن کی جارحانہ بلے بازی کی صلاحیت اور وکٹ کیپنگ کی افادیت کی وجہ سے انہیں برقرار رکھنے پر غور کر سکتی ہے، لیکن پنت کے معاملے میں ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ ان کی کارکردگی ان پر کی گئی سرمایہ کاری کے مطابق نہیں رہی۔ توقع ہے کہ فرنچائز کا تھنک ٹینک آنے والے ہفتوں میں اس پر تفصیلی بحث کرے گا، لیکن اشارے یہی ہیں کہ پنت کا رخصت ہونا طے ہے۔

رشبھ پنت اور لکھنؤ سپر جائنٹس کا مستقبل اب کیا ہوگا؟

اگر رشبھ پنت کو لکھنؤ سپر جائنٹس کی جانب سے ریلیز کر دیا جاتا ہے، تو وہ منی آکشن میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں سے ایک ہوں گے۔ کئی ایسی فرنچائزز جنہیں ایک مڈل آرڈر وکٹ کیپر بلے باز اور ممکنہ کپتان کی ضرورت ہے، وہ پنت کو اپنے اسکواڈ کا حصہ بنانے کے لیے بڑی بولیاں لگانے کے لیے تیار ہوں گی۔ پنت کے پاس بھی خود کو ایک بار پھر ثابت کرنے کا بہترین موقع ہوگا۔

دوسری طرف، لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے اگلا مرحلہ ایک نئے کپتان کی تلاش اور ٹیم کی تعمیر نو کا ہوگا۔ یہ فرنچائز، جس نے 2022 میں آئی پی ایل میں قدم رکھا تھا، اپنے چار سیزنز میں صرف دو بار پلے آف تک پہنچنے میں کامیاب رہی ہے اور وہ اب بھی اپنی ایک مضبوط شناخت قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔

جسٹن لینگر، کین ولیمسن اور ٹام موڈی کی سربراہی میں لکھنؤ کی توجہ اب ایک متوازن اور مستقل مزاج ٹیم بنانے پر ہوگی، جہاں کسی ایک مہنگے ترین معاہدے پر انحصار کرنے کے بجائے ٹیم گیم کو ترجیح دی جائے گی۔ کرکٹ شائقین کی نظریں اب لکھنؤ سپر جائنٹس کے اگلے حتمی فیصلے اور نیلامی کے بازار پر ٹکی ہوئی ہیں جہاں رشبھ پنت کی تقدیر کا فیصلہ ہونا ہے۔