Cricket News

After Rishabh Pant, Justin Langer Next In Line To Be Fired By LSG? Report Answer – رشبھ پنت کے بعد کیا جسٹن لینگر بھی لکھنؤ سپر جائنٹس سے فارغ ہوں گے؟

Snehe Roy · · 1 min read
Share

لکھنؤ سپر جائنٹس کا بحران: رشبھ پنت کے بعد اب کون؟

آئی پی ایل 2026 کے کوالیفائر 2 سے چند گھنٹے قبل، لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کی ٹیم سے ایک بڑی خبر سامنے آئی جس نے کرکٹ کے حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ لیگ کے مہنگے ترین کھلاڑی رشبھ پنت نے مایوس کن سیزن کے اختتام پر اپنی کپتانی سے دستبرداری کا فیصلہ کر لیا۔ ٹیم کے ڈائریکٹر آف کرکٹ، ٹام موڈی نے وضاحت کی کہ یہ پنت کا ذاتی فیصلہ تھا تاکہ ٹیم کو 2027 کے سیزن کے لیے دوبارہ منظم کیا جا سکے۔

جسٹن لینگر کا مستقبل کیا ہوگا؟

رشبھ پنت کے استعفے کے بعد اب تمام تر توجہ ہیڈ کوچ جسٹن لینگر پر مرکوز ہو گئی ہے۔ لینگر گزشتہ چار سیزن سے اس عہدے پر فائز ہیں، اور ابتدائی قیاس آرائیاں یہ تھیں کہ فرنچائز اب کوچنگ اسٹاف میں بڑی تبدیلیاں لائے گی۔ تاہم، حالیہ اطلاعات کے مطابق، انتظامیہ انہیں 2027 کے سیزن کے لیے برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

آئی پی ایل 2026 میں ٹیم کی کارکردگی پر ایک نظر

لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے 2026 کا سیزن کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ 2025 میں پلے آف میں جگہ نہ بنا پانے والی یہ ٹیم اس سال بھی اپنی توقعات پر پورا نہ اتر سکی۔ سیزن کے دوران ٹیم میں اوپننگ پارٹنرشپ کا مسئلہ مستقل رہا، اور مچل مارش کے ساتھ چار مختلف جوڑی دار آزمائے گئے، جن میں رشبھ پنت بھی شامل تھے۔ بیٹنگ آرڈر میں بار بار تبدیلیوں نے نکولس پورن جیسے کھلاڑیوں کو بھی اپنی فطری پوزیشن سے دور رکھا۔

  • سیزن کا اختتام: 10ویں پوزیشن
  • کل میچز: 14
  • جیت: صرف 4 میچز
  • کپتانی کا ریکارڈ: 28 میچوں میں 10 جیت اور 18 ہار

کپتانی کے ممکنہ امیدوار کون ہیں؟

رشبھ پنت کے جانے کے بعد، لکھنؤ سپر جائنٹس کے پاس لیڈرشپ کے لیے کئی تجربہ کار نام موجود ہیں۔ ان میں ایڈن مارکرم سرِفہرست ہیں، جنہوں نے جنوبی افریقہ کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بہترین قیادت کا مظاہرہ کیا اور ایس اے 20 (SA20) میں بھی کامیابیاں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ مچل مارش، جو خود آسٹریلیا کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان ہیں، ایک مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ نکولس پورن بھی قیادت کی دوڑ میں شامل ہیں، لیکن بیٹنگ میں عدم تسلسل کی وجہ سے ان کا نام فہرست میں نیچے ہے۔

کیا لینگر پر دباؤ برقرار رہے گا؟

سیزن کے وسط میں رشبھ پنت کی جانب سے میچ کے دوران ملنے والے ضرورت سے زیادہ مشوروں کی شکایت نے اس بحث کو جنم دیا تھا کہ آیا کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ جسٹن لینگر، جو اپنے سخت مزاج کے لیے جانے جاتے ہیں، کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ چار سیزن میں صرف ایک بار پلے آف تک رسائی نے انتظامیہ کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے، لیکن فی الحال ٹیم کا انتظامی ڈھانچہ، جس میں ٹام موڈی اور کین ولیمسن جیسے نام شامل ہیں، بڑی تبدیلیوں کے بجائے استحکام کو ترجیح دیتا دکھائی دے رہا ہے۔

مجموعی طور پر، لکھنؤ سپر جائنٹس ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ فرنچائز نہ صرف کپتان کا انتخاب کیسے کرتی ہے، بلکہ ٹیم کے کلچر اور حکمت عملی میں کس حد تک بہتری لاتی ہے۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.