Sangakkara calls out Sam Curran for skipping IPL 2026; backs BCCI’s strong measu
کمار سنگاکارا کی سیم کرن پر تنقید: آئی پی ایل 2026 کے تنازعات
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کے دوران ڈرامائی صورتحال اس وقت سامنے آئی جب راجستھان رائلز (RR) کے ہیڈ کوچ اور سری لنکا کے سابق عظیم بلے باز کمار سنگاکارا نے انگلش آل راؤنڈر سیم کرن کے رویے پر سخت سوالات اٹھائے۔ کوالیفائر میچ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگاکارا نے واضح کیا کہ کھلاڑیوں کا اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کسی بھی ٹیم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔
سیم کرن کا معاملہ کیا ہے؟
راجستھان رائلز کی انتظامیہ کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ سیم کرن سیزن کے آغاز سے قبل ایک ایسی انجری کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وہ آئی پی ایل 2026 میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ تاہم، حیران کن طور پر سیم کرن کو بعد ازاں انگلینڈ میں جاری ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ ٹورنامنٹ میں سرے کی جانب سے کھیلتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے اس ٹورنامنٹ میں بطور خالص بلے باز تین میچ کھیلے جس میں انہوں نے 70.5 کی اوسط سے 141 رنز بنائے، جس میں ان کا بہترین سکور 71 ناٹ آؤٹ رہا۔
کمار سنگاکارا نے اس حوالے سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
- انتظامیہ کو بتایا گیا تھا کہ کرن سیزن ختم کرنے والی انجری میں مبتلا ہیں۔
- کھلاڑی کا اس طرح دستیاب نہ ہونا ٹیم کے توازن کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔
- اگر کھلاڑی وقت پر اطلاع دیتے تو متبادل کا انتظام بہتر طریقے سے کیا جا سکتا تھا۔
بی سی سی آئی کے سخت اقدامات کی حمایت
کمار سنگاکارا نے انڈین بورڈ (BCCI) کی جانب سے کھلاڑیوں کے خلاف کیے جانے والے سخت فیصلوں کی مکمل حمایت کی ہے۔ بی سی سی آئی نے حال ہی میں یہ پالیسی اپنائی ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی نیلامی میں منتخب ہونے کے بعد بلاوجہ دستبردار ہوتا ہے، تو اسے دو سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے قبل ہیری بروک اور بین ڈکٹ جیسے کھلاڑیوں کے خلاف بورڈ اسی طرح کے سخت اقدامات اٹھا چکا ہے۔
سنگاکارا کا ماننا ہے کہ کرکٹ لیگز کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے معاہدوں کی پاسداری بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ:
“بی سی سی آئی کی پالیسی بالکل درست ہے، اور اسی طرح کا سخت موقف برقرار رہنا چاہیے تاکہ کھلاڑی اپنے معاہدوں کی پاسداری کرنے کے پابند رہیں۔ یہ نہ صرف لیگ کے لیے بلکہ تمام ٹیموں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔”
راجستھان رائلز کی حکمت عملی
سیم کرن کے دستیاب نہ ہونے کے بعد، راجستھان رائلز نے فوری طور پر داسن شناکا کو متبادل کے طور پر سائن کیا تھا۔ سنگاکارا کے مطابق، چونکہ ٹیم کو پہلے اطلاع مل گئی تھی، اس لیے شناکا کو شامل کرنے کا فیصلہ درست تھا، لیکن اصل کھلاڑی کی عدم موجودگی کا خلا پورا کرنا کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
نتیجہ
آئی پی ایل 2026 کا یہ سیزن جہاں دلچسپ مقابلوں سے بھرپور رہا، وہیں کھلاڑیوں کے رویے اور لیگ کی ساکھ کے حوالے سے کئی اہم سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ کمار سنگاکارا کا یہ بیان کرکٹ کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے کہ آیا کھلاڑیوں کو قومی اور کلب کرکٹ کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے مزید سخت قوانین کی ضرورت ہے یا نہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا بی سی سی آئی کی یہ سخت پالیسی مستقبل میں کھلاڑیوں کو اپنے معاہدوں کا احترام کرنے پر مجبور کر پائے گی یا نہیں۔
