Sanjay Manjrekar blasts Rajasthan Royals over controversial Ravindra Jadeja call
راجستھان رائلز کی حکمت عملی پر سوالات
آئی پی ایل 2026 کا دوسرا کوالیفائر میچ راجستھان رائلز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا، جہاں انہیں گجرات ٹائٹنز کے ہاتھوں سات وکٹوں سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس اہم میچ کے بعد کرکٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ چرچا راجستھان رائلز کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کی ہو رہی ہے۔ خاص طور پر، سنجے منجریکر نے راجستھان رائلز کو متنازعہ رویندرا جڈیجہ کال پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
رویندرا جڈیجہ کی ریٹائر ہرٹ ہونے کے بعد واپسی
میچ کے دوران رویندرا جڈیجہ کو نمبر چار پر بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا تاکہ اننگز کو استحکام مل سکے۔ آٹھویں اوور میں جیسن ہولڈر کی ایک گیند جڈیجہ کی کہنی پر لگی، جس کے بعد وہ تکلیف میں نظر آئے اور ریٹائر ہرٹ ہو کر میدان سے باہر چلے گئے۔ چونکہ جڈیجہ پہلے ہی ٹینس ایلبو کی انجری سے نبردآزما تھے، اس لیے ان کا دوبارہ بیٹنگ کے لیے آنا ماہرین کے لیے حیران کن تھا۔
تاہم، جوفرا آرچر کے آؤٹ ہونے کے بعد جڈیجہ دوبارہ بیٹنگ کے لیے آئے اور انہوں نے 45 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ان کا یہ فیصلہ اگرچہ بہادری پر مبنی تھا، لیکن سنجے منجریکر کا ماننا ہے کہ یہ ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام تھا جس نے کھلاڑی کی صحت کو خطرے میں ڈالا۔
بیٹنگ آرڈر میں غلطیاں
سنجے منجریکر نے نہ صرف جڈیجہ کے معاملے پر بلکہ راجستھان رائلز کے بیٹنگ آرڈر پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ٹیم نے ڈونووان فریرا جیسے جارحانہ بلے باز سے پہلے جوفرا آرچر کو بیٹنگ کے لیے بھیجا۔ آرچر اس میچ میں صرف 7 رنز بنا سکے، جبکہ فریرا نے آخری اوورز میں دھواں دار بیٹنگ کرتے ہوئے 11 گیندوں پر 38 رنز بنا کر راجستھان کو 214 رنز کے ٹوٹل تک پہنچایا۔
سنجے منجریکر کا سخت ردعمل
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سنجے منجریکر نے لکھا: “میں ابھی تک راجستھان رائلز کی اس ناقص کال کو نہیں سمجھ پا رہا کہ جڈیجہ کو ریٹائر ہرٹ ہونے کے باوجود دوبارہ بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا اور پھر ڈونووان فریرا سے پہلے جوفرا آرچر کو بھیجا گیا۔”
یہ تبصرہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ایک غلط فیصلہ پورے میچ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ راجستھان رائلز کی ٹیم نے پورے سیزن میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی، لیکن کوالیفائر 2 میں ان کی حکمت عملیوں نے انہیں فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا۔
نتیجہ
گجرات ٹائٹنز نے شبھمن گل کی شاندار سنچری کی بدولت اس ہدف کو آسانی سے حاصل کر لیا اور فائنل میں جگہ بنا لی۔ جہاں ایک طرف راجستھان کے نوجوان کھلاڑی ویبھو سوریاونشی کی 96 رنز کی اننگز کی تعریف کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف انتظامیہ کے فیصلوں پر اٹھنے والے سوالات ٹیم کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب قرار دیے جا رہے ہیں۔ کیا راجستھان رائلز اگلے سیزن میں اپنی ان غلطیوں سے سیکھ پائے گی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال منجریکر کی تنقید کرکٹ حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔
