Cricket News

شاہین آفریدی لائیو ٹی وی پر عمر گل سے الجھے: بنگلہ دیش سیریز سے ڈراپ کیے جانے کے بعد تنازع

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

بنگلہ دیش کے خلاف جاری دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی کو پلئینگ الیون سے باہر کیے جانے کے بعد ایک غیر متوقع صورتحال نے جنم لیا ہے۔ سلھیٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے اس میچ کے دوران، شاہین آفریدی کو لائیو ٹی وی پر بولنگ کوچ عمر گل کے ساتھ بحث کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس نے کرکٹ شائقین اور مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی۔ اس واقعے نے ٹیم کے اندرونی ماحول اور کھلاڑیوں کے درمیان مبینہ کشیدگی کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان: دوسرے ٹیسٹ کا احوال

سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں، پاکستان کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے اپنی پلئینگ الیون میں تین تبدیلیاں کیں، جن میں شاہین آفریدی کو آرام دیا گیا اور ان کی جگہ خرم شہزاد کو شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ، بابر اعظم اور ساجد خان بھی ٹیم میں واپس آئے۔ یہ تبدیلیاں ٹیم کی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی تھیں، تاہم شاہین کو باہر بٹھانے کے فیصلے پر پہلے ہی کافی چہ مگوئیاں جاری تھیں۔

بنگلہ دیشی اننگز: لٹن داس کی شاندار سنچری

میچ کے دوران، بنگلہ دیشی ٹیم نے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بھی اپنی اننگز کو مضبوط کیا۔ محمود الحسن جوائے کے صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد، بنگلہ دیش کے ٹاپ آرڈر کے دیگر بلے بازوں نے اچھی شروعات کیں۔ تنزید حسن نے 26، مومن الحق نے 22 اور نجم الحسین شانتو نے 29 رنز بنائے، لیکن کوئی بھی بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ایسے میں، لٹن داس نے اپنی ذمہ داری سنبھالی اور شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 16 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 126 رنز کی یادگار اننگز کھیلی۔ انہیں مشفق الرحیم (23) سے بھی کچھ حمایت ملی اور یوں بنگلہ دیش کی ٹیم نے 278 رنز کا قابل احترام مجموعہ حاصل کیا۔ پاکستان کی جانب سے، خرم شہزاد نے عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 81 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد عباس نے 45 رنز کے عوض 3 وکٹیں لیں۔

پاکستان کی پہلی اننگز میں مشکلات

پاکستان کی ٹیم کو بھی پہلی اننگز میں بنگلہ دیشی باؤلرز کی ڈسپلنڈ باؤلنگ کے سامنے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے ٹیسٹ میں سنچریاں بنانے والے اویس اعظم اور عبداللہ فضل ٹیم کو اچھا آغاز فراہم نہ کر سکے اور پہلی وکٹ کے لیے صرف 22 رنز کا اضافہ کیا۔ کپتان شان مسعود نے 21 رنز بنائے، لیکن ایک بار پھر یہ بابر اعظم ہی تھے جنہوں نے 10 چوکوں کی مدد سے 68 رنز کی اہم اننگز کھیل کر ٹیم کو سنبھالا دیا۔ تاہم، ٹیم کی جدوجہد جاری رہی اور مڈل آرڈر کے دیگر بلے باز بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ سلمان آغا نے 21 اور محمد رضوان نے 13 رنز بنائے۔ ساجد خان نے بھی کچھ مزاحمت کی، لیکن ٹیم وقفے وقفے سے وکٹیں گنواتی رہی۔

شاہین آفریدی اور عمر گل کے درمیان لائیو ٹی وی پر بحث

میچ کے دوران ایک انتہائی دلچسپ اور تشویشناک واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ کئی ویڈیوز میں شاہین آفریدی کو ڈگ آؤٹ میں بولنگ کوچ عمر گل کے ساتھ بحث کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہین عمر گل کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں اور پھر اپنا رخ ڈگ آؤٹ میں موجود کسی اور شخص کی طرف موڑ کر کچھ غصے میں اشارے کر رہے ہیں۔ عمر گل نے شاہین کو پرسکون کرنے کی کوشش کی، لیکن شاہین اپنے سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غصے میں کچھ کہتے رہے۔ یہ واقعہ ٹیم کے اندرونی ماحول کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔

Shaheen Afridi Umar Gul Fight. Image Credits: X

شاہین کو ڈراپ کیے جانے کی اصل وجہ کیا تھی؟

شاہین آفریدی کو دوسرے ٹیسٹ سے باہر کیے جانے کی بنیادی وجہ حال ہی میں ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں پاکستان کی غیر متوقع 104 رنز کی شکست کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس شکست کے بعد کپتان شان مسعود اور فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی کے درمیان شدید بحث ہوئی تھی۔ شاہین نے ڈھاکہ میں پہلی اننگز میں 3/113 رنز دیے تھے جبکہ دوسری اننگز میں 2/54 کی کارکردگی دکھائی تھی۔

رپورٹس کے مطابق، شان مسعود نے باؤلرز سے کہا تھا کہ ‘ہم رفتار کی کمی کی وجہ سے دباؤ پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور یہ تشویشناک ہے۔’ اس کے جواب میں، شاہین آفریدی نے بیٹنگ پر الزام لگایا اور کہا کہ پہلی اننگز میں برتری حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ ناقص بیٹنگ تھی۔ انہوں نے کپتان کو اپنی بیٹنگ کارکردگی پر بھی توجہ دینے کا مشورہ دیا۔

ٹیلی کام ایشیا اسپورٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پی سی بی کے ایک ذرائع نے بتایا کہ ‘ایک ناراض شان نے پیس اٹیک میں رفتار کی کمی کو مورد الزام ٹھہرایا، اور خاص طور پر شاہین آفریدی کی طرف اشارہ کیا جن کی اوسط رفتار 132 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی، جو بنگلہ دیش کے ناہد رانا کی اوسط 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کافی کم تھی۔’ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شاہین کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ صرف کارکردگی کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ٹیم کے اندرونی اختلافات بھی شامل تھے۔

شاہین آفریدی کا حالیہ کارنامہ اور موجودہ صورتحال

یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شاہین شاہ آفریدی نے حال ہی میں بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران اپنے 400 بین الاقوامی وکٹوں کا سنگ میل عبور کیا تھا۔ انہوں نے یہ کارنامہ چوتھے دن بنگلہ دیشی بلے باز مومن الحق کو آؤٹ کر کے حاصل کیا تھا۔ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں 400 وکٹیں حاصل کرنے والے نویں پاکستانی باؤلر بنے تھے۔ اس تاریخی کارنامے کے فوری بعد انہیں ٹیم سے باہر کیے جانے اور پھر عوامی طور پر بولنگ کوچ سے جھگڑے کی خبریں ان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

کرکٹ میں ٹیم کے اندرونی اختلافات اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بحث عام ہے، لیکن جب یہ تنازعات عوامی سطح پر سامنے آتے ہیں تو ٹیم کے مورال اور امیج کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیم میں ہم آہنگی برقرار رہ سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ شاہین آفریدی جیسے باصلاحیت کھلاڑی کا ٹیم سے باہر بیٹھنا اور اس طرح کے تنازعات میں ملوث ہونا نہ صرف کھلاڑی کے لیے بلکہ ٹیم کے لیے بھی تشویشناک ہے۔