Sultana, Moni help Bangladesh bounce back against Scotland – سلطانہ اور مونی نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف بنگلہ دیش کو باؤنس بیک کرنے میں مدد دی – خواتین ٹی ٹوئنٹی سیریز
سلطانہ اور مونی کی شاندار کارکردگی: بنگلہ دیش نے اسکاٹ لینڈ سے شکست کا بدلہ لیا
ایڈنبرا میں منعقدہ خواتین کی ٹی ٹوئنٹی ٹرائی سیریز کے ایک اہم مقابلے میں بنگلہ دیش نے اسکاٹ لینڈ کو 34 رنز سے شکست دے کر اپنی پچھلی شکست کا بدلہ لے لیا۔ کپتان نگار سلطانہ کی نصف سنچری اور ریتو مونی کی کیریئر کی بہترین بولنگ نے بنگلہ دیش کو ایک مشکل صورتحال سے نکال کر فتح سے ہمکنار کیا۔
بنگلہ دیش کی بیٹنگ: مشکلات کے باوجود شاندار واپسی
میچ میں اسکاٹ لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو ابتدائی طور پر ان کے حق میں ثابت ہوا۔ بنگلہ دیش کی بیٹنگ لائن اپ کو آغاز میں ہی شدید دھچکا لگا۔ چار اوورز کے اندر ہی ٹیم صرف 23 رنز پر اپنے تین اہم وکٹ گنوا چکی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ بنگلہ دیش ایک بڑے سکور تک پہنچنے میں ناکام رہے گا۔ لیکن اس نازک موڑ پر، کپتان نگار سلطانہ نے پختہ عزم کا مظاہرہ کیا اور 47 گیندوں پر 58 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔
سلطانہ کو شبانہ مستاری کی جانب سے بہترین ساتھ ملا، جنہوں نے 31 گیندوں پر 39 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیلی۔ ان دونوں کے درمیان چوتھی وکٹ کے لیے 77 رنز کی ایک اہم شراکت قائم ہوئی، جس نے بنگلہ دیش کو ڈرامائی صورتحال سے باہر نکالا اور ٹیم کو ایک معقول مجموعے کی طرف گامزن کیا۔ اس شراکت نے اسکاٹ لینڈ کی ابتدائی کامیابیوں کے اثر کو زائل کر دیا اور بنگلہ دیش کو دوبارہ میچ میں شامل کیا۔
مستاری کے آؤٹ ہونے کے بعد، شرنا اختر نے 20 رنز کا قیمتی اضافہ کیا، جبکہ ریتو مونی نے آخری اوورز میں ایک مختصر مگر جارحانہ اننگز کھیل کر ٹیم کے سکور کو مزید تقویت بخشی۔ ان کی کوششوں کی بدولت، بنگلہ دیش نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 152 رنز کا چیلنجنگ ہدف مقرر کیا۔ اسکاٹ لینڈ کی جانب سے ماسیرا نے 23 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔
اسکاٹ لینڈ کی اننگز: ریتو مونی کا تباہ کن اسپیل
153 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اسکاٹ لینڈ کی شروعات بھی بنگلہ دیش جیسی ہی تباہ کن رہی۔ مروفا اختر اور سنجیدہ اختر میگھلا نے اوپننگ اوورز میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو صرف 1 رنز پر 2 وکٹوں کے نقصان سے دوچار کر دیا۔ اگرچہ کیتھرین برائس نے 14 گیندوں پر 21 رنز بنا کر کچھ مزاحمت کی کوشش کی، لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی اسکاٹ لینڈ کا سکور 36 پر 3 وکٹیں ہو گیا۔
سارہ برائس نے 41 گیندوں پر 40 رنز کی لڑاکا اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ انہیں ایلسیا لسٹر اور پریناز چیٹرجی کی جانب سے مختصر مدد ملی، اور ایک وقت اسکاٹ لینڈ کا سکور 74 پر 3 وکٹیں تھا، جس سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ابھی بھی ہدف کے قریب ہیں۔ تاہم، بنگلہ دیشی بولرز نے اپنی گرفت مضبوط کر لی اور دباؤ بڑھا دیا۔
میچ کا اہم موڑ ریتو مونی کے اسپیل میں آیا۔ انہوں نے 13ویں اوور میں سارہ برائس کی قیمتی وکٹ حاصل کر کے اسکاٹ لینڈ کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا۔ اس کے بعد، مونی نے 18ویں اوور میں تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید تین وکٹیں حاصل کیں اور اسکاٹ لینڈ کے نچلے آرڈر کو تہس نہس کر دیا۔ ریتو مونی نے اپنے کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 12 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں، جس کے نتیجے میں اسکاٹ لینڈ کی پوری ٹیم 118 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور بنگلہ دیش نے 34 رنز سے یہ میچ جیت لیا۔
بنگلہ دیش کے لیے اہم جیت
یہ جیت بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے ٹورنامنٹ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی ہے، خاص طور پر اسکاٹ لینڈ کے ہاتھوں اپنی پچھلی شکست کے بعد۔ نگار سلطانہ کی قائدانہ اننگز اور ریتو مونی کی آل راؤنڈ کارکردگی نے ٹیم کو ایک مضبوط اعتماد دیا ہے۔ اس کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ بنگلہ دیشی خواتین کرکٹ ٹیم دباؤ میں بھی بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ ٹورنامنٹ میں مزید آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ میچ یقینی طور پر دونوں ٹیموں کے لیے تجربے اور سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔
