Cricket News

کیا محمد شامی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے؟ وسیم جعفر کا اجیت اگرکر پر سخت تنقید

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

محمد شامی کے ساتھ سلوک: کیا سلیکٹرز دوہرا معیار اپنا رہے ہیں؟

بھارتی کرکٹ کے ایوانوں میں اس وقت ایک بڑی بحث چھڑ گئی ہے جب سابق بلے باز وسیم جعفر نے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر اور بی سی سی آئی کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی ہے۔ یہ سارا تنازعہ تجربہ کار فاسٹ بولر محمد شامی کو افغانستان کے خلاف آئندہ ٹیسٹ میچ کے لیے نظر انداز کرنے سے شروع ہوا ہے۔

وسیم جعفر کا سخت موقف

وسیم جعفر کا ماننا ہے کہ محمد شامی کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ انتہائی نامناسب اور توہین آمیز ہے۔ اجیت اگرکر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ شامی فی الحال صرف مختصر فارمیٹ (ٹی ٹوئنٹی) کے لیے فٹ ہیں۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جعفر نے اسے ‘بکواس’ قرار دیا۔ جعفر کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز کو صاف ستھری بات کرنی چاہیے کہ وہ شامی کو کیوں ٹیم کا حصہ نہیں بنا رہے، بجائے اس کے کہ فٹنس کا بہانہ بنایا جائے۔

رنجی ٹرافی میں شامی کی شاندار کارکردگی

وسیم جعفر نے اس بات پر زور دیا کہ شامی نے حال ہی میں رنجی ٹرافی میں بنگال کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی فٹنس اور فارم کا بہترین ثبوت دیا ہے۔ شامی نے 7 رنجی میچوں میں 37 وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کو سیمی فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ سید مشتاق علی ٹرافی اور وجے ہزارے ٹرافی میں بھی ان کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ ایسے میں انہیں صرف ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی قرار دینا ان کی صلاحیتوں کی نفی ہے۔

شامی اور بمراہ کا موازنہ

جعفر نے اس بحث کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جسپریت بمراہ کا تذکرہ چھیڑا۔ ان کا سوال تھا، ‘اگر جسپریت بمراہ فٹ نہ ہوں اور پھر واپسی کریں، تو کیا آپ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کریں گے؟’ وسیم جعفر کے مطابق شامی اور بمراہ دونوں عالمی معیار کے بولرز ہیں اور انہیں ایک ہی زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔ شامی کو نظر انداز کرنا نہ صرف ان کی کارکردگی بلکہ ان کے کیریئر کی توہین ہے۔

موجودہ صورتحال اور ورک لوڈ مینجمنٹ

دوسری جانب جسپریت بمراہ کو افغانستان کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز سے ورک لوڈ مینجمنٹ کے تحت آرام دیا گیا ہے۔ بمراہ اس وقت انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے 19ویں سیزن میں ممبئی انڈینز کی نمائندگی کر رہے ہیں، تاہم وہ اپنی بہترین فارم میں نظر نہیں آ رہے۔ 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد سے ان کی بولنگ میں وہ پرانی دھار نظر نہیں آ رہی، پھر بھی سلیکٹرز ان کی حمایت کر رہے ہیں۔

نتیجہ

محمد شامی، جو اس وقت لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے کھیل رہے ہیں، مسلسل اپنی محنت اور بولنگ سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اب بھی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک بہترین آپشن ہیں۔ وسیم جعفر کا یہ مطالبہ کہ سلیکٹرز کو شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، بھارتی کرکٹ کے حلقوں میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔ کیا بی سی سی آئی آنے والے دنوں میں اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے گی؟ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔

  • اہم نکات:
  • محمد شامی نے رنجی ٹرافی میں 37 وکٹیں حاصل کیں۔
  • وسیم جعفر نے سلیکٹرز کی وضاحت کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
  • بمراہ کے ساتھ ورک لوڈ مینجمنٹ کا سلوک اور شامی کو نظر انداز کرنا دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
  • شامی کی آئی پی ایل 2026 میں کارکردگی تسلی بخش رہی ہے۔