گجرات ٹائٹنز کی کامیابی: راشد خان اور کگیسو ربادا کی تباہ کن بولنگ
آئی پی ایل میں راشد اور ربادا کا جادو
گجرات ٹائٹنز (GT) کی ٹیم ہمیشہ اپنے بولرز سے بڑی توقعات وابستہ رکھتی ہے، چاہے وہ پہلے بولنگ کر رہے ہوں یا بعد میں۔ لیکن ہفتے کی رات راجستھان رائلز (RR) کے خلاف جو کچھ دیکھنے کو ملا، وہ شاندار تھا۔ کگیسو ربادا نے تین اوورز میں 33 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ راشد خان نے چار اوورز میں 33 رنز کے عوض 4 وکٹیں لے کر ‘پلیئر آف دی میچ’ کا اعزاز اپنے نام کیا۔ مجموعی طور پر سات اوورز میں 6 وکٹوں کے حصول نے حریف ٹیم کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
راشد خان: ‘ونٹیج’ فارم کی واپسی
راشد خان آئی پی ایل کی تاریخ کے عظیم بولرز میں سے ایک ہیں اور اب وہ لیگ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں لستھ ملنگا سے بھی اوپر دسویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ گزشتہ دو سیزنز راشد کے لیے کچھ خاص نہیں رہے تھے، جہاں وہ اپنی انجری اور بحالی کے عمل سے گزر رہے تھے۔ تاہم، اس سیزن میں انہوں نے شاندار واپسی کی ہے اور اب تک 11 اننگز میں 15 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ راشد کی بولنگ میں وہی پرانا جادو واپس آ گیا ہے۔ ان کی وکٹیں لینے کی صلاحیت اور بیٹسمینوں کو اسٹمپ پر مجبور کرنے کا انداز یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے عروج پر واپس آ چکے ہیں۔ خاص طور پر بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کے خلاف ان کی ‘اوور دی وکٹ’ بولنگ انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
کگیسو ربادا: پرپل کیپ کی دوڑ میں سرفہرست
دوسری جانب، کگیسو ربادا اس سیزن میں پرپل کیپ کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ انہوں نے اپنے گزشتہ سات میچوں میں 14 وکٹیں حاصل کی ہیں، جس سے ان کی کل وکٹوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ مچل میک کلہینن کے مطابق، ربادا کی یہ کامیابی ان کی سخت محنت اور درست تیاری کا نتیجہ ہے۔ ربادا نے اس سیزن کے لیے اپنی کنڈیشننگ پر خصوصی توجہ دی اور ایک سپرنٹ کوچ کی خدمات حاصل کیں تاکہ اپنی رفتار کو مزید بہتر بنا سکیں۔
ربادا نے اس میچ میں یشسوی جیسوال اور شمرون ہیٹمائر جیسے اہم بلے بازوں کو تیز رفتار ڈلیوریز پر آؤٹ کرکے اپنی کلاس ثابت کی۔ یہ رفتار، جو بعض اوقات 152 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے، مخالف بلے بازوں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔
ذاتی وقار اور کرکٹ کا جذبہ
میک کلہینن کا یہ بھی ماننا ہے کہ ربادا کا حالیہ فارم میں ہونا ان کے اس جذبے کا نتیجہ ہے جس کے تحت وہ خود کو صرف ٹیسٹ یا ون ڈے کا بہترین بولر نہیں بلکہ ٹی ٹوئنٹی کا پاور ہاؤس بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک خوددار کھلاڑی ہیں اور گزشتہ سیزنز میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ اس سیزن میں انہوں نے اپنے ناقدین کو غلط ثابت کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
نتیجہ
گجرات ٹائٹنز کے لیے راشد خان اور کگیسو ربادا کا ایک ساتھ فارم میں ہونا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اگر یہ دونوں کھلاڑی اسی طرح کارکردگی دکھاتے رہے تو گجرات ٹائٹنز کے لیے ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل مزید آسان ہو سکتے ہیں۔ دونوں بولرز کی رفتار، درستگی اور حکمت عملی مخالف ٹیموں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
